کالم

مہنگائی کو کون کنٹرول کرے گا؟

نوید مغل

میاں صاحب گئے، مشرف آئے زرمبادلہ کے ذخائر خالی۔ ہم آئی ایم ایف کے پاس گئے، مشرف گئے تو زرداری آئے، خزانہ پھر خالی، ہم آئی ایم ایف کے پاس گئے، زرداری گئے میاں صاحب آئے اور جب میاں صاحب گئے اور عمران خان آئے تو وہ بھی آئی ایم ایف کے پاس اور ستم پہ ستم کہ عمران خان گئے تو شہباز ،ڈار بھی بھی آئی ایم ایف کے پاس سوالی! کیا کرتے اگر نہیں جاتے؟ غریب عوام نے قرض ہی ملک پر اتنا چڑھا رکھا ہے کہ اس میں آئی ایم ایف اور بالخصوص ملک کا پیسہ مال مادر سمجھ کر لوٹنے والی اشرافیہ کا توکوئی قصور نہیں۔
پاکستان دنیا کے ممالک میں کم ٹیکس بھرنے والا ملک ہے۔ بائیس کروڑ سے زائد عوام کا یہ ملک صرف پچیس ارب ڈالرکی ایکسپورٹ کرتا ہے اور اس میں بھی ویلیو ایڈ کا حصہ کم ہے، ہم نے اپنے لوگوں میں سرمایہ کاری نہ کی۔ انھیں ہنر مند نہیں بنایا، بہترین بنیادی سہولتیں جیسے صحت، صاف پینے کا پانی، تعلیم وغیرہ فراہم نہیں کیں اس ملک کو سستا انصاف نہیں دیا اور جب اس معیشت کا نظام اسی طرح چلنا ہے تو پھر راہ فرارکے لیے شرفاء بگاڑ پیدا کرتے ہیںانکابیانیہ اس معیشت کے نظام کے ساتھ مل کر بیروزگاری، بھوک و افلاس پیدا کرتا ہے اور یوں ملک میں خانہ جنگی کے لیے راہیں کھلتی ہیں۔
بجٹ کے گورکھ دھندے میں مہنگائی کی ماری زندہ درگور عوام کے لیے کیا کچھ ہے ؟ شائد کبھی بھی نہ مل سکے ۔
برسوں سے مہنگائی نے ہمارے ملک میں ڈیرہ ڈال رکھا ہے جس نے ہر طبقے کے لوگوں کی ناک میں دم کر رکھا ہے۔ پاکستان بھر کے عوام کی زبان پر بس ایک ہی بات رہتی ہے کہ مہنگائی نے مار ڈالا یار!کبھی ایسا ہوا کرتا تھا کہ برسرِ اقتدار پارٹی خوف زدہ رہتی تھی کہ اگر ایسی ویسی حرکت ہو گئی تو عوام مشتعل ہوکر سڑکوں پر نکل آئیں گے اور حکومت کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے۔ لہٰذا بے حد احتیاط اور تدبر کے ساتھ کم سے کم مہنگائی کی شرح میں اضافہ کیا جاتا تھا ۔ آج تو مہنگائی آسمان سے باتیں کر رہی ہے ۔ اور اس سلسلے میں نہ تو کوئی بولنے والا ہے اورنہ ہی اس میں کسی کو دلچسپی ہے۔فی الحال سیاسی پارٹیوں کے ذہنوں میں عوام کے لئے بڑے بڑے فلاحی منصوبے اور مہنگائی ختم کرنے کے ساتھ ساتھ بے روزگاری کو بھی ختم کرنے کے دعوے کئے جا رہے ہیں۔ مگر کیا یہ پارٹیاں عوام کے لئے یہ سب کچھ کر پائیں گی۔مہنگائی سے نجات دلانے کے لئے کوئی بھی سیاسی پارٹی تیار نہیں لگتی، روزگار کی فراہمی کے لئے بھی کسی کے سر پر جوں نہیں رینگتا۔ معمولی تنخواہ پانے والا شخص اپنے اہلِ خانہ کا کس طرح پیٹ پال سکتا ہے ۔ سرکاری ملازمین کو تو کچھ حد تک سپورٹ حکومت دے دیتی ہے۔ پرائیویٹ اداروں کے ملازمین کی کم سے کم تنخواہ مبلغ سات سے آٹھ ہزار روپیہ یا مزید کچھ اور زائد ہوگی۔ ملازم پیشہ افراد بہت ہی تنگدستی سے اپنے گزارا کرنے پر مجبور ہیں ۔انکے بچوں کا مستقبل کیا خاک سدھرے گا۔ کمپنیاں اپنے طریقوں سے ملازمین کی تنخواہیں مقرر کرتی ہیں اس طرف موجودہ سرکار یا آنے والی نئی سرکار کو توجہ دینے کی اشد ضرور ت ہے۔آج مہنگائی کا یہ عالم ہے کہ غریب اپنے گردوں اور اپنے بچوں کو فروخت کرنے پر مجبور ہے۔کوئی اپنا ایک گردہ فروخت کرتا ہوا نظر آتا ہے تو کوئی اپنا دونوں گردہ بھی فروخت کرنے پر بضد ہوتا ہے۔ہسپتال والے اسے بتاتے ہیں کہ بھائی دونوں گردوں کے بعد آپ مَر جاؤ گے ۔ بیچنے والا بڑی پھرتی سے جواب دیتا ہے کہ ”میں زندہ ہی کب ہوں مہنگائی نے مجھے اس حال تک پہنچا دیا ہے کہ میں اپنے ہی جسم کے اعضاءکو فروخت کرنے پر مجبور ہوں۔‘‘ عام آدمی کا جینا دوبھرہوگیا ہے، لوگ یہ کہتے ہوئے پائے جاتے ہیں کہ اب خود کشی کرنا بہت آسان لگتا ہے اور زندہ رہنا بہت مشکل۔ خدا را اس مہنگائی کی طرف فوری توجہ دیجئے کیونکہ یہ عوام کا بنیادی مسئلہ ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Diyarbakır koltuk yıkama hindi sex