اداریہ

مودی سرکار،عدلیہ اورکشمیر

مقبوضہ وادی کشمیرمیں کشمیری مسلمانوں پرمظالم ڈھانے کے معاملے میں بھارتی فوج،مودی حکومت اوربھارتی عدالتیں سبھی ایک پیج پرہیں۔بھارتی سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے نے تونام نہاد سیکولرریاست کی قلعی کھول کررکھ دی ہے۔اس فیصلے نے یہ بات ثابت کردی ہے کہ بھارت صرف اورصرف متعصب ہندووں کاہے اوران کے علاوہ اس ملک میں کسی کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔واضح رہے کہ 11دسمبرکو بھارتی سپریم کورٹ نےمقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آرٹیکل 370 کی منسوخی اور اسے مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں تقسیم کے 5 اگست 2019ء کے متنازع فیصلے کے خلاف تمام درخواستیں مسترد کردی ہیں۔عدالت نے بھارتی الیکشن کمیشن کو حکم دیا ہے کہ وہ 30 ستمبر 2024ء تک جموں و کشمیر میں انتخابات کرائے۔حکومت پاکستان اور تمام سیاسی،مذہبی جماعتوں کے قائدین نے بھارتی سپریم کورٹ کے مقبوضہ جموں و کشمیرکی خصوصی حیثیت کی منسوخی کو برقرار رکھنے کے فیصلے کو مسترد کر دیاہے۔ فیصلے پر سخت مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے صدر مملکت عارف علوی نے کہا کہ بھارتی عدلیہ نے فاشسٹ ہندوتوا نظریے کے سامنے سر جھکالیا ہے اور وہ بھارتی حکومت کے حق میں فیصلے دے رہی ہے۔ بابری مسجد، سمجھوتہ ایکسپریس، حیدرآباد، مکہ مسجد دھماکے اور 2002ء کے گجرات فسادات کے دوران نرودا گام قتل عام کے فیصلے اس کی مثالیں ہیں۔ صدر مملکت کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان فیصلہ سختی سے مسترد کرتا ہے، اس طرح کے فیصلے بھارت کے مقبوضہ کشمیر پر قبضے کو قانونی حیثیت نہیں دے سکتے کیونکہ جموں و کشمیر کا مسئلہ سات دہائیوں سے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ تنازعہ ہے۔ انھوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بھارت کے ماضی میں کشمیری عوام سے کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد کروائے۔
بھارت جس قدرچاہے کشمیریوں پرظلم کرے لیکن یہ اٹل حقیقت ہے کہ کشمیریوں کو اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق حق خود ارادیت کا ناقابل تنسیخ حق حاصل ہے، بین الاقوامی قانون 5 اگست 2019ءکے بھارت کے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات کو تسلیم نہیں کرتا۔ جموں و کشمیر ایک بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ تنازعہ ہے جو سات دہائیوں سے زیادہ عرصے سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر ہے۔ جموں و کشمیر کا حتمی فیصلہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق کیا جانا ہے۔ بھارت کو کشمیری عوام اور پاکستان کی مرضی کے خلاف اس متنازعہ علاقے کی حیثیت سے متعلق یکطرفہ فیصلے کرنے کا کوئی حق نہیں۔ بھارت ملکی قانون سازی اور عدالتی فیصلوں کے بہانے اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں سے دستبردار نہیں ہو سکتا۔اگست 2019 سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں لگا ہوا کرفیو یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ مقبوضہ وادی بھارت کا اٹوٹ انگ ہے یا نہیں۔ اگر کشمیری عوام نے کبھی بھارت کو دل سے قبول کیا ہوتا تو مودی سرکار کو 5 اگست 2019ء جیسے اقدام کی ضرورت ہی پیش نہ آتی۔ بھارتی حکومت نے یکطرفہ فیصلہ کیا اور سپریم کورٹ نے اس کی توثیق کردی۔ بین الاقوامی برادری، عالمی ادارے اور بین الاقوامی قوانین ایسے اقدامات کو قبول ہی نہیں کرتے۔ بھارتی پارلیمان یا عدالت اقوامِ متحدہ اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کو پس پشت ڈال کر اپنی مرضی سے فیصلے نہیں کر سکتی۔ بھارتی ہٹ دھرمی اور اس کے توسیع پسندانہ عزائم علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کے لیے مسلسل خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ کو اب اپنی قراردادوں پر عمل درامد کرانے کے لیے متحرک ہونا چاہیے تاکہ مسئلہ کشمیر کو مستقل بنیادوں پر حل کیا جاسکے۔بھارتی سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ جموں وکشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے، بھارت سے الحاق کے بعد کشمیرکی داخلی خود مختاری کا عنصر برقرار نہیں رہا اور دفعہ370ایک عارضی شق تھی۔ یوں بھارتی سپریم کورٹ نے اپنے اس فیصلے کے ذریعے بھارتیہ جنتا پارٹی کی متعصب ہندو حکومت کے اقدامات کو برقراررکھا ہے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے بیان میں سپریم کورٹ کے فیصلے کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ” آج کا فیصلہ صرف قانونی فیصلہ نہیں، امید کی کرن اور روشن مستقبل کا وعدہ ہے۔ آج کا فیصلہ مضبوط، زیادہ متحد بھارت کی تعمیر کا ہمارے اجتماعی عزم کا عہد ہے”۔مودی سرکاریہ بات پلے باندھ کہ وہ کشمیرکوہتھیانے کے لیے بھارتی فوج اورعدلیہ کاجتنامرضی سہارالینے کی کوشش کرے لیکن شکست ہی اس کامقدرہے کیونکہ کشمیری عوام ایسے تمام فیصلوں کواپنے جوتے کی نوک پررکھتے ہیں۔دوسری جانب یہ بھی حقیقت ہے کہ مسئلہ کشمیر دو بڑی ایٹمی طاقتوں کے مابین متنازع خطہ ہے۔پاکستان نے ہر دور میں اس کے پرامن حل کے لیے کوششیں کی ہیں لیکن بھارت نے وادی میں مسلسل کرفیو کاسماں باندھ رکھا ہے اور وہ گزشتہ پون صدی سے کشمیری عوام پرمظالم ڈھارہاہے۔اگر عالمی برادری نے ا س مسئلہ کوحل کرنے کی جانب سنجیدہ قد م نہ اٹھایا تو اس کے نہایت بھیانک نتائج نکلیں گے جس سے نہ صرف یہ خطہ بلکہ پوری دنیا متاثر ہوگی۔
سعودی کمپنی کی سرمایہ کاری
سعودی عرب کی کمپنی آرامکو نے پاکستان میں بڑی سرمایہ کاری کی ہے۔ اعلامیے کے مطابق سعودی کمپنی آرامکو نے گیس اینڈ آئل کمپنی کے 40 فیصد حصص خرید لیے اور معاہدے پر دستخط سعودی عرب کے شہر دہران میں کیے گئے۔ مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ آرامکو کو پاکستان میں اپنی مصنوعات متعارف کرانے کیلئے مزید مواقع ملیں گے۔ گیس اینڈ آئل کمپنی گو پاکستان میں تیل، لبریکنٹس کا کاروبار کرتی ہے۔
اگرپاکستان چین دوستی شہد سے میٹھی، ہمالہ سے بلند اور سمندروں سے گہری ہے تو برادر سعودی عرب ہمارے دکھ سکھ کا ساتھی ہے جو آزمائش کے ہر مرحلے اور مشکل کی ہر گھڑی ہمارے کندھے سے کندھا ملائے کھڑا نظر آتا ہے۔ اسلام کی نشاتہ ثانیہ کے تناظر میں مسلم دنیا کی قیادت کے لئے سعودی عرب اور پاکستان کی جانب ہی نگاہیں اٹھتی ہیں جبکہ خطے کے امن و سلامتی کے لئے بھی دونوں ممالک کی یکساں فکرمندی اور لائحہ عمل ہوتا ہے۔ اس وقت سعودی عرب اور پاکستان کے مابین مختلف شعبوں میں مثالی باہمی تعاون کی فضا استوار ہے اور باہمی تجارت کے راستے بھی کھلے ہوئے ہیں۔ آج پاک سعودی تعلقات آٹھویں دہائی میں داخل ہو رہے ہیں اور ان تعلقات کی وسعتیں مزید بڑھ رہی ہیں تو یہ مسلم دنیا اور اقوام عالم کے لئے اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے احیاء کا ہی مضبوط پیغام ہے۔ دونوں ممالک کے باہمی احترام، تعاون اور مشترکہ اقدار پر مشتمل تعلقات ہیں۔ دونوں کے مابین سفارتی تعلقات کے 72 سال مکمل ہو چکے ہیں۔یہ حقیقت ہے کہ مسلم دنیا کو درپیش کسی بھی چیلنج سے عہدہ برا ہونے کے لئے برادر سعودی عرب اور پاکستان سے ہی توقعات وابستہ کی جاتی ہیں۔ جبکہ دونوں ممالک خود بھی ایک دوسرے کے مشکل وقت میں ایک دوسرے کا سہارا بنتے ہیں۔جس طر ح چین کے ساتھ پاکستان کی دوستی مثالی ہے اسی طرح پاک سعودیہ تعلقات بھی لازوال ہیں۔سعودی کمپنی آرامکوکی جانب سے پاکستان میں بڑی سرمایہ ملکی معاشی استحکام میں اہم سنگ میل ثابت ہوگی۔
صیہونی دہشت گردی جاری
ارض مقدس فلطسین پراسرائیل کی وحشیانہ بربریت جاری ہے اور جنگ کا دائرہ لبنان تک پھیل گیا ہے جہاں سرحدی علاقوں پر حزب اللہ کے مجاہدین کیخلاف کارروائی کے بہانے اسرائیلی طیارے مسلسل بمباری کر رہے ہیں۔ ادھر غزہ پر مکمل قبضے کیلئے اسرائیلی فضائیہ کی رہائشی علاقوں، ہسپتالوں، پناہ گزین کیمپوں اور عبادت گاہوں پر فضا اور زمین سے آگے برسائی جا رہی ہے جس سے پوری پٹی جہنم زار بن چکی ہے۔اسرائیلی فوج نے سیکڑوں فلسطینیوں کو یرغمال بنا لیا ہے اور انہیں شدید سردی میں برہنہ کر کے کھلی جگہوں پر رکھا جا رہا ہے۔ خان یونس میں شدید لڑائی ہو رہی ہے جس سے مزید سیکڑوں فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ دنیا بھر سے بھیجی گئی امداد کو اسرائیلی فوج بے گھر فلسطینی پناہ گزینوں تک پہنچنے نہیں دے رہی جس سے بے یاردومددگار لاکھوں بچے عورتیں اور مرد خوراک ، پانی ، ادویات اور دوسری اشیا سے محروم اور زندگی سے مایوس ہو چکے ہیں۔ جبکہ زخمیوں کی تعداد پچاس ہزار کے قریب پہنچنے والی ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق غزہ عملی طور پر جہنم زاد بن چکا ہے۔ اسرائیلی فوج فلسطینی قیدیوں کو زندہ دفن کر رہی ہے روس نے اس صورتحال کو مانیٹر کرنے کیلئے بین الاقوامی مبصرین تعینات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ روسی وزیر خارجہ نے امریکہ اور برطانیہ کے ظالمانہ رویے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ دنیا پرمغرب کا پانچ سو سالہ غلبہ اب ختم ہونے والا ہے۔ امریکہ اور اس کے حامی ملکوں میں عوام کی احتجاجی ریلیاں اور دنیا بھر میں پایا جانے والا غم و غصہ اس کی گواہی دے رہا ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ آخرعالمی طاقتیں کب انسانیت کااحترام کرناسیکھیں گی اورکب ایسے مظالم رکوانے کے لیے عملی اقدامات کریں گی؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Diyarbakır koltuk yıkama hindi sex