کالم

موجودہ سیاسی صورتحال اور عوام

اختر عباس اختر

پاکستان اس وقت بہت سے مسائل میں گھر ا ہوا ہے اور یہ تمام تر مسائل اندورنی اور خالصتاٌ ہمارے اپنے پیدا کردا ہیں معیشت تباہ حالی کا شکار ہے انڈسٹری برباد ہو چکی ہے کئی سالوں سے چھوٹی انڈسٹری کی جانب توجہ ہی نہیں دی گئی ملک قرضوں کی دلدل میں دھنستا جا رہا ہے ڈالر میں اضافہ اور روپے کی بے قدری جاری ہے قرضوں میں نان سٹاپ اضافہ ہو رہا ہے مہنگائی کا طوفان بد تمیزی غریب اور سفید پوش خاندانوں کو نگل رہا ہے ملک میں آئین او رقانون کہیں نظر نہیں آرہا ،جس کی لاٹھی اس کی بھینس ،والا محاورا موجودہ حالات پر فٹ ہورہا ہے جنگل کے بھی کچھ قانون ہوتے ہونگے یہاں کوئی نظر نہیں آ رہا کسی
ادارے میں بھی حکومت کی کوئی رٹ نہیں ہے ہر شخص اپنی مرضی کرتا نظر آتا ہے بے روز گاری اور غربت میں خطرناک اضافہ ہو چکا ہے لاکھوں نوجوان بے روز گار ہیں اور کروڑوں نوجوان تعلیم کے بعد روز گار کی تلاش میں سرگرم ہیں لاقانونیت اپنی آخری حدوں کو چھو رہی ہے رشوت کا بازار گرم ہے کیونکہ انصاف نہ ہونے کے برابر ہے جب انصاف ملنا بند ہو جائے تو رشوت میں بے پناہ اضافہ ہونا فطری بات ہے لوگ انصاف کے لئے پیسے کا سہارا لیتے ہوئے انصاف خریدنے کی کوشش کرتے ہیں کرپشن ناسور بن کر ہماری نسلوں کو تباہ کر رہی ہے لوگ احساس کمتری کا شکار ہیں غریب دو وقت کی روٹی کو ترس رہے ہیں ڈپریشن سے لوگ مریض اور لاکھوں نوجوان نشہ کے عادی ہو چکے ہیں لوگوں کے پاس کھانے کو پیسے ہیں نہ یو ٹیلٹی بل ادا کرنے کے لئے۔ آئے روز بجلی گیس و اشیا ضروری کی قیمتوں میں اضافہ سے لوگوں کی قوت خرید ختم ہو کر رہ گئی ہے اور ہمارے حکمران ہیں کہ وہ انتقامی سیاست سے ہی باہر نہیں آ رہے ایک سال سے ایک عجیب صورتحال ہے الزامات کا طوفان بدتمیزی ہے جو ہر ایک کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے کسی شریف کی عزت محفوظ نہیں ۔ چادرو چاردیواری کا تقدس پامال کیا جا رہا ہے پریس کانفرنسوں کا جمعہ بازار لگا ہوا ہے جس کی وجہ سے انکی اہمیت ہی ختم ہو گئی ہے کبھی پریس کانفرنس کا ایک نام اور دبدبہ ہوا کرتا تھا کسی اہم ایشو پر ہی کوئی اہم شخصیت آکے پریس کانفرنس کرتی تھی جو کئی کئی دن ٹاک شو اور عوامی بحث کا حصہ رہتی تھی ۔ لوگوں کی پگڑیاں اچھالنے پر چینلزاور اینکرز نے بھی سچ کی بجائے پسند اور ناپسند کو ترجیح دینی شروع کر دی ہے۔ غریب کی آواز کوئی بلند کرنے کو تیار ہی نہیں ہے۔عوام کی خدمت اور سیاست کو عبادت سمجھ کے کرنے والی باتیں اب صرف کتابوں میں مل سکتی ہیں ۔ ہمیںاپنے اداروں کا تحفظ کرنا ہو گا اپنی افواج کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنا ہوگا شہدا کی یادگار وں و قومی املاک کے تحفظ کو یقینی بنانا ہوگا ایک مہذب قوم ہونے کا ثبوت دیناہو گا ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Diyarbakır koltuk yıkama hindi sex