کالم

مقننہ و عدلیہ میں بڑھتی خلیج

اورنگزیب اعوان

پاکستانی قوم آزادی کی تلاش میں محو سفر ہے. آج سے پچہتر سال قبل برصغیر کے مسلمانوں نے برطانوی سامراج سے تو آزادی حاصل کر لی. مگر حقیقی طور پر آزاد نہیں ہو سکے. کیونکہ ہماری رگوں میں غلامی سرایت کر چکی ہے. ایک طبقہ جو انگریز سامراج میں بطور ملازم ان کا خدمت گزار رہ چکا ہے. وہ آج بھی خود کو حکمران اور عوام کو اپنا غلام سمجھتا ہے. اسی لیے وہ عام عوام کو حق زندگی سمیت دیگر بنیادی حقوق دینے کو ہرگز تیار نہیں. اس طبقہ فکر کے پیرو کار مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ میں اعلیٰ ترین عہدوں پر براجمان ہیں. یہ
عوام کے بنیادی حقوق کے لیے دست و گریبان نہیں ہوتے. بلکہ ان کے درمیان پائی جانے والی محاذ آرائی اپنی اپنی برتری کو نمایاں کرنے کے لیے جاری و ساری ہے۔ اب ملکی عدلیہ نے بھیملکی معاملات میں بجا مداخلت شروع کر دی ہے. کبھی یہ نیب قوانین میں ترامیم پر از خود نوٹس لیتی ہے. تو کبھی قومی اسمبلی کی تحلیل پر. اب اس نے دو صوبائی اسمبلیوں کے الیکشن پر ایکشن لیا ہے. اس تمام تر ایکشن میں چیف جسٹس آف پاکستان ایکٹیو ہے۔ اب تو عدالت عظمیٰ میں بھی گروپ بندی کی صدا بلند ہونے لگی ہے حکومت وقت نے پریکٹس و پروسیجر بل قومی اسمبلی و سینٹ سے اکثریت رائے سے پاس کرکے صدر مملکت کو بھیجا ہے. جس کے تحت از خود نوٹس اور عدالت عظمیٰ کے بینچ کی تشکیل اب چیف جسٹس خود سے نہیں کر پائے گا. اسے اس فعل کو سر انجام دینے کے لیے عدالت عظمیٰ کے تین سینئر ترین ججوں سے مشاورت کرنا ہوگی. ان کی مشاورت کے بعد ہی یہ اقدام اٹھایا جا سکے گا. اسی طرح مسلم لیگ ن کے سربراہ اور تین بار کے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کو متعدد بار غیر آئینی طریقہ کار کے تحت ملکی سیاست سے باہر کیا گیا۔ چیف جسٹس مقننہ کے تشکیل کردہ قوانین کے ماتحت اپنے فرائض سر انجام دیتا ہے. اور مقننہ وقتاً فوقتاً اس کی کارکردگی کو بہتر بنانے کی غرض سے قوانین تشکیل دے سکتی ہے. صدر پاکستان نے بھی پارلیمنٹ کے منظور شدہ قانون کو واپس کر دیا ہے۔پارلیمنٹ کی مثبت قانون سازی اس ملک کی تقدیر بدلنے جا رہی ہے. اس لڑائی کا مثبت انجام ہونے جا رہا ہے. شاید یہ آخری معرکہ ہو گا. اس کے بعد ملکی آئینی ادارے اپنی اپنی حدود و قیود میں کام کرنا شروع کر دیں گے. جس کے مثبت ثمرات ملک و قوم کو دیکھنے کو ملیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *