کالم

مظلوم فلسطینیوں کا اصل مجرم کون؟

افتخار احمد سندھو

فلسطین اور کشمیر کے مظلوم عوام بارے جب بھی ہمارے دانشور بات کرتے ہیں تو سیدھا صیہونی قوتوں کو ظالم و فاسق قرار دیتے ہیں۔ یہ سلسلہ کئی عشروں سے چل رہا ہے جبکہ امت مسلمہ کو مسلمانوں کا ہمدرد اور نجات دہندہ تصور کیا جاتا ہے مگر میرا نقطہ نظر اس سے ذرا مختلف ہے۔ فلسطین اور کشمیر کے مسلمانوں پر اس وقت جتنا ظلم ہو رہا ہے اس کی اصل مجرم امت مسلمہ ہے جس کے خود اپنے مفادات ان صہیونی قوتوں سے وابستہ ہیںجو کشمیر اور فلسطین کو اپنی سٹاک مارکیٹ سمجھتے ہیں۔ فلسطینیوں اور کشمیریوںپر جتنا زیادہ ظلم ہوتا ہے اس نام نہاد امت مسلمہ کی دکانداری اتنی ہی چمکتی ہے۔ یہ تو قرآن پاک کا فیصلہ ہے کہ کافر کبھی مسلمانوں کا دوست نہیں ہو سکتا مگر جب ہم بااثر اور مادی وسائل سے مالا مال عرب حکومتوں کو امریکہ اوراسرائیل کا ہم نوالہ اور ہم پیالہ دیکھتے ہیں تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔ یہ امت مسلمہ جو فلسطین اوراسرائیل جنگ کو مقدس جنگ (Holy War) کا نام دے کر اپنے ہی مسلمان بھائیوں کو مروا رہی ہے، اس کی طرف ہمارا دھیان کیوں نہیں جاتا۔
اگر آج کے فلسطین کی حالت دیکھیں تو اس وقت وہاں فاسفورس کے کیمیائی بم برسائے جارہے ہیں۔ ایک چھوٹی سی پٹی ہے جہاں پر مردوں، عورتوں اور بچوں کا جینا دشوار کر دیاگیا ہے جہاں زخمی کراہ رہے ہیں، جہاں انسانی خون کی ندیاں بہہ رہی ہیں، لاشیں بے یارو مددگار پڑی ہیں، لاشوں سے تعفن پھیل رہا ہے، کسی کے پاس اتنے وسائل نہیں کہ وہ ان لاشوں کو دفنا سکے۔
یہ بتانا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ یہودیوں کے بھی تین طبقے ہیں۔ ایک عیسائی، دوسرے مولوی اور تیسرے ان کے ٹھیکیدار ہیں۔ دنیا میں اس وقت جتنی بھی تباہی و بربادی ہو رہی ہے یہ سب مذہب کے ان ٹھیکیداروں کی پھیلائی ہوئی ہے جبکہ اصل یہودی کی سوچ کچھ اور ہے۔ اس وقت جو جنگ جاری ہے اس کے خلاف سب سے بڑا احتجاج یہودیوںنے ہی نیویارک میں کیا جوفلسطینیوں کے حق میں تھا جبکہ ان کے جو مولوی ہیں مذہب کے نام نہاد ٹھیکیدار ہیں وہی یہ سارا ظلم کروا رہے ہیں۔ تاریخ شاہد ہے کہ غیر مذہبی لوگوں نے کبھی اتنا ظلم نہیں کیا، یہ سب مذہبی فرقے ہیں جو مسلمانوں پر اتنا ظلم کروا رہے ہیں، وہ خواہ پروٹسٹنٹ ہوں۔ کیتھولک یا آرتھو ڈوگز ہوں۔ وہ مسلمانوں کا خواہ شیعہ فرقہ ہو، سنی ہو، خواہ وہ ہندوئوں کے پیروکارہوں جنہیں مہا بھارت، اکھنڈ بھارت اورپتہ نہیں کیا کچھ کہتے ہیں۔ یہی وہ مذہبی طبقے ہیں جو مسلمانوں پر اس قدر تشدد کروا رہے ہیں۔
موجودہ حالات میں تو اقوام متحدہ سے اور غیر مسلم طاقتوں سے ہی اپیل کی جا سکتی ہے کہ وہ اتنے بڑے انسانی المیے کو رکوانے کی کوشش کریں۔ خاص طور پر ہماری عیسائیوں سے اپیل ہے کہ خدارا وہ ہمارے حال پر رحم کریں اوریہ جنگ بند کروائیں۔ اگر مثال کے طور پر روس یہ جنگ بند کرواتا ہے تو وہ بھی عیسائی ہے۔ امریکہ ایسا کرتا ہے تو و ہ بھی عیسائی ہے مگر امریکہ تو اس وقت ایک پارٹی بن کر کھڑا ہے تاہم اس وقت جو دو بڑی طاقتیں مسلمانوں کے حق میں بول رہی ہیں وہ بھی دونوں غیر مسلم ہیں۔ ان میں ایک چین اور دوسرا روس ہے۔ یہ درست ہے کہ وہ دونوں بھی اپنی سیاست کے لئے بول رہے ہیں۔ اصل سوال بھی یہی ہے کہ اگر اس وقت کسی کا بولنا سنا جائے گا تو وہ بھی پانچ طاقتیں ہیں جنہوں نے دنیا کو پہلی اور دوسری عالمی جنگ میں فتح کیا تھا اوراب بھی انہی سے اپیل کی جا سکتی ہے۔
مثلاً اگر گائوں میں کوئی بھی تنازعہ ہو بالآخر گائوں کے چودھری کے پاس ہی جانا پڑتا ہے۔ بے شک چودھری کا بیٹا ہی اس میں ملوث کیوں نہ ہو مگر اس کے علاوہ آپ کہیں بھی جائیں گے توآپ کے پاس اپنی بقاء کا کوئی راستہ نہیں ہو گا۔ میں یہ بھی عرض کرتا چلوں کہ ہرمذہب کے جو نام نہاد ملاں ہیں خواہ وہ یہودیت کے ہوں، عیسائیوں کے ہوں، ہندوئوں کے ہوں یا کسی کے بھی ہوں، یہ سب اپنے اپنے دین کا غلط استعمال کررہے ہیں۔ یہ جو اس جنگ کو (Holy War) مقدس جنگ قرار دیتے ہیں۔ یہ مقدس جنگ نہیں ہے اوراس حوالے سے ہمیں عیسائیوں اوریہودیوں کاموقف تسلیم کرنا پڑے گا۔ اس تناظر میں پھر یہ عرض کروں گا کہ یہ مقدس جنگ نہیں ہے۔ سورۃ بنی اسرائیل کی پہلی آیت کے ترجمہ کے مفہوم کچھ اس طرح سے ہے۔ آیت سبحان اللہ سے شروع ہوتی ہے اور پھر کہا گیا کہ اللہ تعالیٰ لے گیا اپنے بندے کو۔ پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو راتوں رات لے گئی مسجد الحرام سے مسجد اقصیٰ تک۔ سورۃ اسرائیل میں آگے چل کرایک اور آیت ہے جس میں اللہ پاک بتا رہے ہیں کہ وہ تو ایک رویہ تھا مگر آپ نے فتنہ کھڑا کردیا۔یہ جو کہتے ہیں کہ وہاں مسجد موجود تھی، ایسا کچھ بھی نہیں تھا، وہ تو ایک کلیسا تھا۔ کلیسا بھی اس کو بڑا ہونے کی وجہ سے کہتے تھے۔
جدالانبیاحضرت ابراہیم علیہ السلام کے بیٹے حضرت اسحاق ؑ بھی یہاں آکر آباد ہوئے تھے۔ آگے ان کے بیٹے حضرت یعقوب ؑ تھے ۔ان کا لقب اسرائیل تھا جس کی وجہ سے ان کی نسل کوبنی اسرائیل کہا جاتا ہے۔ تاریخ تو سب نے بیان کردی ہے۔ حضرت دائود علیہ السلام نے یروشلم کی بنیادیں رکھیں۔ یہ الگ بات ہے کہ عیسائی اس کو کلیسا اور یہودی اس کو یروشلم کہتے تھے۔ اب آپ اس کو بیت المقدس کہتے ہیں۔ مسجددراصل سجدہ کرنے کی جگہ کو کہتے ہیں،جہاں سے مسجد شروع ہوتی ہے وہاں سے مسلمانوں کا معاملہ شروع ہوتا ہے۔ عیسائی تو یہی کہتے ہیں کہ یہ مسلمانوں کا رویہ تھا وہ صرف سرکار دو عالمؐ کا ایک رویہ تھا ،اب مسلمان اسے قبلہ اول کہتے ہیں۔
اسی طرح قرآن پاک کی تیسری سورۃ آل عمران کی آیت نمبر 96 میں میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ زمین پر میرا جو پہلا گھر ہے وہ خانہ کعبہ ہے۔ چونکہ یہودیوں نے کہا تھا کہ ہمارا قبلہ یعنی بیتُ المقدس کعبہ سے افضل ہے کیونکہ یہ گزشتہ انبیااکرامؑ کا قبلہ رہا ہے، نیزیہ خانہ کعبہ سے پرانا ہے ۔ ان کے رد میں یہ آیتِ کریمہ اتری ۔اور بتا دیا گیا کہ روئے زمین پر عبادت کیلئے سب سے پہلے جو گھر تیار ہوا وہ خانہ کعبہ ہے۔
اب سورۃ بقرہ پر آجائیں حضرت ابراہیم علیہ اسلام سے کہا جارہا ہے کہ جاکر وہاں بنیادیں کھڑی کریں اور اللہ تعالیٰ کا گھر تعمیر کریں۔ سوال یہ ہے کیا حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کے دور میں بیت المقدس بنا ہوا تھا۔ اب مجھے کوئی بتائے کہ وہ ہمارا قبلہ اول کیسے ہو گیا جبکہ قرآن کہہ رہا ہے کہ ہمارا قبلہ اول خانہ کعبہ ہے۔
میں یہ بھی عرض کرتا چلوں کہ بہت سی روایات ایسی بھی ملتی ہیں کہ حضرت اسحاق علیہ السلام اور حضرت یعقوب علیہ السلام وہاں جاکر حج کیا کرتے تھے مگر عیسائیوں نے بائبل میں بہت سی تبدیلیاں کر دی ہیں بلکہ ہمارے نبیؐ وہاں حج کرنے جایا کرتے تھے۔ جبکہ اس کو ساری دنیا کا قبلہ اول اس لئے کہا جاتا ہے کہ مسلمان ساری زندگی اس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے رہے ہیں۔ اس تاریخی تناظر میں آج کے نوجوانوں کو میں یہی مشورہ دوں گا کہ وہ خود قرآن پاک پڑھیں، خود حدیث پڑھیں، اسے مولویوں پر نہ چھوڑیں کیونکہ جب وہ خود پڑھیں گے تو پھر یہ کوئی شجر ممنوعہ اور حساس Topic نہیں رہے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *