کالم

مشتاق لوگ ۔ بیزار لوگ

منشاقاضی

مجھے گذشتہ روز ایک سرکاری محکمہ میں جانے کا اتفاق ہوا گورنمنٹ سرونٹس ھاؤسنگ فاؤنڈیشن کہتے ہیں ۔ وہاں مجھے جا کر بڑی مسرت محسوس ہوئی ۔ میرا اپنا تو کوئی ذاتی کام نہیں تھا اپنے استاد جو فوت ہو گئے ہیں ان کے کام کے سلسلے میں معلومات حاصل کرنی تھیں ۔ جو مجھے اتنی جلدی دی گئیں کہ میں حیرت زدہ رہ گیا ۔ اس ادارے کی کتاب کا دیباچہ بابر ملک ہیں جو مرکز معلومات پر بیٹھے ہیں اور اخلاق و خوش مزاجی کا پیکر متحرک ہیں ۔ ادارے کی اس کتاب کا دیباچہ پڑھنے کے بعد پوری کتاب کا مطالعہ کرنے کی آرزو جاگ اٹھی ۔ کتاب کا دوسرا باب وا کیا تو سامنے نام کی تختی پر لکھا تھا رائے منظور ناصر مینجنگ ڈائریکٹر جن سے ملاقات صرف اس لیئے کرنی تھی کہ آپ کا عملہ خوش اخلاق اور فرض شناس ہے ۔ رائے صاحب
کے پی اے جناب مشتاق نے میری پرچی اندر بھجوا دی ۔میں دفتری امور کی انجام دہی میں مصروف عملہ کی جتنی بھی توصیف کروں کم ہے ۔ بابر ملک اور مشتاق صاحب نے مجھے اس لیئے بھی بہت متاثر کیا کہ میں بہت دور سے آیا ہوں آپ مجھے اپنا نمبر دے دیں تاکہ مجھے استاد مکرم آغا حسین شاہ مرحوم کی بیوہ کے لیئے معلوم کرنا پڑے تو میں فون پر پوچھ لوں ۔ دونوں نے مجھے کسی توقف کے بغیر رابطوں کی دولت سے سرفراز کر دیا ۔ میں اس لیئے اجازت لیکر چلا آیا کہ جو بات میں نے رائے صاحب سے کہنی ہے وہ میں اپنے کالم میں ذکر کر دوں کہ رائے صاحب کے زیر سایہ کام کرنے والوں کے اخلاق نے بتا دیا کہ وہ قائد اعظم کے فرمان پر عمل پیرا ہیں ۔ میں نے اس ادارے کے عملہ کو درد مند ۔ ھمدرد اور خدمت گزار پایا ۔ اور میں اس ادارے کی نیک نامی کا چلتا پھرتا اشتہار بن گیا ہوں ۔میری آپ کے دفتر میں مشتاق لوگوں سے بھی ملاقات ہوئی جن کے دل احساس کی دولت سے مالا مال ہیں اور بیزار لوگوں سے بھی جن کے دل میں احساس کی ایک کرن بھی موجود نہیں ۔ حساب کے لوگ ہیں ان سے میں نے نام اور رابطے کے لیئے موبائل نمبر دریافت کیا تو انہوں نے نہ ہی نام بتایا اور نہ ہی رابطہ نمبر دیا۔ اور مجھے کہنے لگے آپ پرانے زمانے کے لوگ ہیں ۔ ایک صاحب جن کا رنگ شاعر مشرق کے ایک دوست چوھدری شہاب جیسا ہے ۔ انہوں نے تو حد ہی کر دی ۔ میرا تعلق انڈیا سے ہے اور موبائل میرا ذاتی ہے ۔ ہم اپنی ذاتی معلومات نہیں دیتے ۔ رائے صاحب مجھے ایک پلاٹ الاٹ ہوا تھا ۔ میں اسے منسوخ کرانے کے لیئے ھاؤسنگ کے دفتر میں پچیس سال پہلے گیا تھا ۔ اور آج بھی اپنے استاد مرحوم کی بیوہ کے لیئے مجھے آپ کے دفتر آنا پڑا ۔ جہاں مشتاق لوگوں سے بھی تعلق پیدا ہوئے وہاں بیزار لوگوں سے بھی پالا پڑا ۔ بیزار لوگوں سے مجھے ہمدردی ہے کہ وہ اپنے انداز و اسلوب میں تبدیلی پیدا کر کے دیکھ لیں حیرت انگیز قلبی مسرت محسوس ہو گی ۔ اللہ تعالیٰ اعداد و شمار کے ماھرین کے دلوں میں چاھت کے دروازے کھول دے ۔ آمین، آخر میں غالب کے شعر پر اپنا کالم مکمل کرتا ہوں ۔۔ ہم ہیں مشتاق اور وہ بیزاریا الہی یہ ماجرا کیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے