کالم

مسلمان شرمندہ کیوں نہیں ہوتے !

غلام شبیر عاصم

کرہ ارض پر جہاں بھی سورج فلک پر چمکتا دمکتا ہے۔اپنی روشنی کو تمام مظاہراتِ کائنات پر یکساں ڈالتا ہے۔یہی مثال ماہِ صیام کی ہے ماہ صیام آتا تو سب کے لئے برابر ہے،مگر اس سورج(ماہِ صیام) سے کرنیں وصول کرنے والا ہر انسان ان کرنوں کو اپنے اپنے رنگ میں ظاہر کرتا ہے۔اپنا اپنا رنگ دکھاتا ہے۔ماہِ صیام رحمتوں،برکتوں، عنائیتوں اور نیکیوں بھرا مہینہ تصور کیا جاتا ہے۔لیکن ہر انسان اس سے اپنے اپنے ظرف اور معیارِ ایمان کے مطابق”اثرات و ثمرات”وصول کرتا ہے۔بڑے گہرے مشاہدے کی بات ہے کہ بجائے خوفِ خدا کے،صلہ رحمی اور ایمانداری کے ماہِ رمضان میں ملاوٹ،منافقت، سنگدلی،بے ایمانی،دنیاوی ہوس ولالچ جیسی قباحتیں خباثتیں عروج پر ہوتی ہیں۔اشائے خورد و نوش کی قیمتیں کم کرنے کے بجائے کئی گنا بڑھا دی جاتی ہیں۔اکثر ریڑھیوں والے سارا دن کھڑے کھڑے تھک جاتے ہیں،اور وہ یہ سوچ کر مطمئن ہوتے ہیں کہ وہ صبح سے کھڑے ہیں محنت کر رہے ہیں۔حلال رزق کمارہے ہیں۔دراصل وہ روزی کمانے کا آغاز ہی جھوٹ بولنے سے کرتے ہیں۔دکھاتے کچھ ہیں،دیتے کچھاور ہیں،ہندو سینیٹر دنیش کمار اسلام آباد میں ایک اجلاس میں بڑی جذباتی تقریر کررہاتھا جو ہم مسلمانوں کے منہ پر تھپڑ ہے۔دنیش کمار کہہ رہا تھا کہ کہا جاتا ہے کہ رمضان المبارک کے مہینہ میں شیطان کو جکڑ دیا جاتا ہے۔مگر یہاں پر تو وہ کُھلے عام دندناتا پھرتا ہے۔جناب سپیکر رمضان سے پہلے کیلا 150 روپے درجن تھا اب 450
روپے درجن فروخت ہورہا ہے۔جنابِ سپیکر مجھے شرم آرہی ہے رمضان کے مہینےمیں مسلمان، مسلمان بھائیوں ہی کا خون چوس رہے ہیں۔KPK میں دیال سنگھ کو صرف اس جرم کی پاداش میں قتل کردیا گیا کہ وہ رمضان کے احترام میں چیزیں سستی کیوں بیچ رہا ہے۔معروف سرجن ڈاکٹر بِیر بل جوکہ سینکڑوں بار فری میڈیکل کیمپ لگا کر مخلوق خدا کی خدمت کرتا رہا ہے۔ اس سماج سیوک کو بھی موت کے گھاٹ اتاردیا گیا ہے۔کراچی میں رمضان کے دنوں میں لگائے جانے والے ایک سستے اسٹال پر کچھ لوگوں نے دھاوا بول دیا سارا سامان توڑ پھوڑ کرکے ضائع دیا کہ یہ سستا اسٹال کیوں لگتا ہے۔جناب اسپیکر مجھے کہا جاتا ہے کہ دنیش کمار تم مسلمان ہوجاو،میں کیوں مسلمان ہوجائوں پہلے اپنے آپ کو تو ٹھیک کرو پھر کسی دوسرے کو تبلیغ کرو۔جناب اسپیکر غیر مسلم ہوکر مجھے ان واقعات پر شرم آرہی ہے مسلمانوں کو شرم کیوں نہیں آتی۔بے حِسی کے عارضہ سے نکل کر اگر محسوس کیا جائے تو دنیش کمار کے سچ پر مبنی خطاب پرہمیں غفلت کی بلکہ عیاشی و بے حِسی کی نیند سے بیدار ہونا ہوگا۔ورنہ ہمارے اپنوں ہی کے ہاتھوں اسلام کا چہرہ اتنا بِگڑ جائے گا کہ کائنات کے اِس خوبصورت ترین اور سچے دین کی طرف غیر مسلم دیکھنا بھی گوارا نہیں کریں گے۔مہنگائی اتنی ہے کہ 1000 روپے کا نوٹ اب 100 روپے کا لگنے لگا ہے۔جہاں مہنگائی پر قابو پانا مشکل ہے وہاں دہشت گردی اور جرائم پر قابو پانا تو بلا شبہ ناممکن کام ہوسکتاہے۔ کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کااگر کہیں کسی بازار میں کوئی چکر لگتا بھی ہے تو ہلکا پُھلکا سا جرمانہ کرکے پریس کوریج لے لی جاتی ہے۔اگر بھاری جرمانہ کے ساتھ دکان سِیل کی جائے اور حوالات کی سیر کرائی جائے تو شاید نصیحت پکڑ سکیں۔لیکن ایسے کرے گا کون اور کیوں کرے گا۔اے سی اور ڈی سی اوز بے چارے بھی کیا کریں۔انہیں بھی تو آخر نوکری کرنی ہے،ان کے ضمیر کی جگہ بھی پیٹ ہی نے لے لی ہے۔یہ مُردہ ضمیر لوگ اگر”مردہ شکم”ہوجائیں تو دعوے سے کہتا ہوں کہ نظام ٹھیک ہوجائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے