کالم

مسجد اقصیٰ کی اسلامی و تاریخی حیثیت

مجاہد حسین وسیر

بیت المقدس کی سر زمین جہاں مسجدِ اقصیٰ موجود ہے، یہ دھرتی ہے ہزاروں انبیاء کا مسکن رہی ہے ا ور سینکڑوں انبیاء کرام کے بچپن کا گہوارہ ہے اور یہیں اللہ تعالیٰ نے بہت سارے انبیاء کو تاج ِ نبوت سے سرفراز فرمایا، یہاں پر انبیاء کے ہاتھوں ہزاروں معجزات رونما ہوئے، حضرت زکریا علیہ السلام کو بڑھاپے میں اسی جگہ پر بیٹے حضرت یحییٰ علیہ السلام کی خوشخبری ملی اور حضرت مریم علیہ السلام کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی عطا ہوئے، یہ مسجد کئی دفعہ آباد ہوئی اور کتنی دفعہ اسے اغیار نے تباہ و برباد کیا۔مسجد اقصی ٰمسلمانوں کا قبلہ اول اور خانہ کعبہ اور مسجد نبوی کے بعد تیسرا مقدس ترین مقام ہے۔مسجد اقصیٰ حقیقت میں مسلمانوں کی میراث ہے جو تاریخی اور مذہبی حقائق سے ثابت ہے مگر یہ جس جگہ پر تعمیر کی گئی۔ یہود کے موقف کے مطابق اِس جگہ پر پہلے سُلیمانی ہیکل تھا۔ مُسلمانوں کے یروشلم شہر پر قبضہ کرنے کے بعد یہ مسجد تعمیر کی گئی۔حالانکہ کہ قرآن میں سفر معراج کے باب میں اس مسجد کا ذکر ہے۔ گویا یہ مسجد حضور ؐ کے بعثت سے بھی پہلے موجود تھی۔ متعدد روایات کے مطابق خانہ کعبہ کے بعد دوسری عبادت گاہ الاقصٰی تعمیر ہوئی تھی۔ موجودہ دور میں اس مسجد کی معروف نسبت حضرت سلیمانؑ کے ساتھ ہے حتیٰ کہ ایک روائت کے مطابق اس مسجد کو حضرت سلیمانؑ نے جنات سے تعمیر کرایا۔ یہ مسجد فی الواقع زمین پر دوسری تعمیر ہونے والی مسجد ہے۔مقامی مسلمان اسے المسجد الاقصیٰ یا حرم قدسی شریف کہتے ہیں۔ یہ مشرقی یروشلم میں واقع ہے یہ یروشلم کی سب سے بڑی مسجد ہے جس میں 5 ہزار نمازیوں کی گنجائش ہے جبکہ مسجد کے صحن میں بھی ہزاروں افراد نماز ادا کرسکتے ہیں۔ حضرت محمدؐ سفر معراج کے دوران مسجد حرام سے یہاں پہنچے تھے اور مسجد اقصیٰ میں تمام انبیا کی نماز کی امامت کرنے کے بعد براق کے ذریعے سات آسمانوں کے سفر پر روانہ ہوئے۔احادیث کے مطابق دنیا میں صرف تین مسجدوں کی جانب سفر کرنا باعث برکت ہے جن میں مسجد حرام، مسجد اقصٰی اور مسجد نبوی شامل ہیں۔ حضرت ابوذر سے حدیث مروی ہے کہ”میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے پوچھا کہ زمین میں سب سے پہلے کون سی مسجد بنائی گئی؟تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: مسجد حرام (بیت اللہ) تو میں نے کہا کہ اس کے بعد کونسی ہے؟ تو نبی ؐفرمانے لگے: مسجد اقصیٰ، میں نے سوال کیا کہ ان دونوں کے درمیان کتنا عرصہ ہے؟ تو نبی ؐنے فرمایا کہ چالیس سال، پھرجہاں بھی تمہیں نماز کا وقت آجائے نماز پڑھ لو کیونکہ اسی میں فضیلت ہے۔
مسجد اقصیٰ مسلمانوں کا قبلہ اول ہے اور معراج میں نماز کی فرضیت کے بعد 16 سے 17 ماہ تک مسلمان مسجد اقصٰی کی جانب رخ کرکے ہی نماز ادا کرتے تھے پھر تحویل قبلہ کا حکم آنے کے بعد مسلمانوں کا قبلہ خانہ کعبہ ہو گیا۔حضرت عمر نے 16ھ میں فاتحانہ طور پر اس کی چابی حاصل کی تھی اور سرزمین قدس میں داخل ہوئے۔اس وقت قدس کے بطریق سیفرنیوس نے مدینہ قدس کی کلید آپ کے علاوہ کسی اورکے ہاتھ میں دینے سے صاف انکارکردیا اورکہا کہ میں چاہتاہوں کہ خلیفۃ المسلمین بنفس نفیس تشریف لائیں اورمدینہ قدس کی زمام کاراپنے ہاتھوں میں سنبھالیں۔ چنانچہ اس موقع پر حضرت عمرؓ اپنا تاریخی سفرطے کرکے قدس پہنچے اور مسجد اقصی کی چابی وصول کی۔ اس کے بعد آپ نے ایک معاہدہ تحریرفرمایا۔ اس معاہدہ میں تحریری طورآپ نے فرمان جاری کیا کہ ان لوگوں کو جو اس سرزمین پر ہیں جانی ومالی تحفظ عطا کیا جاتاہے نیز ان کی ذریت اوراہل وعیال محفوظ ومامون ہوں گے۔ ان کی عبادت گاہوں اوران کے شعائرِدینیہ اوررسم ورواج سے کوئی تعرض نہیں کیا جائے گااورہراس چیزکا ان کو حق حاصل ہے جس کے حصول کی لوگ کوششیں کرتے ہیں اور ہاتھ پاؤں مارتے ہیں پھر خود نماز پڑھائی، یہاں سادہ مستطیل
لکڑی کی مسجد تعمیر ہوئی، مسجد اقصیٰ کی لمبائی 80 میٹر اور چوڑائی 55 میٹر ہے، 23 مرمری اونچے ستونوں اور 49 چوکور چھوٹے ستونوں پر کھڑی یہ عمارت 705 ء میں مکمل ہوئی، دروازوں پر سونے اور چاندی کی چادریں چڑھی ہوئی تھیں، مسجد کے گیارہ گیٹ ہیں، جن میں سے سات شمال میں ہیں، پانچ بار اس کی تعمیر ہوئی۔ پہلی صلیبی جنگ کے بعد جب عیسائیوں کا بیت المقدس پر قبضہ ہو گیا تو انہوں نے مسجد اقصٰی میں بہت رد و بدل کیا۔ انہوں نے مسجد میں رہنے کے لیے کئی کمرے بنا لیے اور اس کا نام معبد سلیمان رکھا، نیز متعدد دیگر عمارتوں کا اضافہ کیا جو بطور جائے ضرورت اور اناج کی کوٹھیوں کے استعمال ہوتی تھیں۔ انہوں نے مسجد کے اندر اور مسجد کے ساتھ ساتھ گرجا بھی بنا لیا۔ سلطان صلاح الدین ایوبی نے 1187ء میں فتح بیت المقدس کے بعد مسجد اقصٰی کو عیسائیوں کے تمام نشانات سے پاک کیا اور محراب اور مسجد کو دوبارہ تعمیر کیا۔21 اگست 1969ء کو ایک آسٹریلوی یہودی ڈینس مائیکل روحان نے قبلہ اول کو آگ لگا دی جس سے مسجد اقصیٰ تین گھنٹے تک آگ کی لپیٹ میں رہی اور جنوب مشرقی جانب عین قبلہ کی طرف کا بڑا حصہ گر پڑا۔ محراب میں موجود منبر بھی نذر آتش ہو گیا جسے صلاح الدین ایوبی نے فتح بیت المقدس کے بعد نصب کیا تھا۔اس المناک واقعہ کے ایک ہفتے بعد اسلامی ممالک نے موتمر عالم اسلامی (او آئی سی) قائم کر دی۔ تاہم 1973ء میں پاکستان کے شہر لاہور میں ہونے والے دوسرے اجلاس کے بعد سے 56 اسلامی ممالک کی یہ تنظیم غیر فعال ہو گئی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے