کالم

مساوات کا اعلیٰ ترین نمونہ!(1)

راناشفیق خان

جب لوگ اپنے معاشرے کے مختلف اشخاص کو دولت کی وجہ سے یا خاص حسب اور نسب کی وجہ سے، خاص قوم اور قبیلے کی وجہ سے یا کسی خاص طبقے سے تعلق رکھنے کی وجہ سے معزز اور محترم دیکھیں تو دلوں میں یہ بات ضرور درآتی ہے اور ذہنوں میں یہ خیال لازماً پیدا ہوجاتا ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ ہاتھ ان کے بھی دو، ہمارے بھی دو، پاؤں ان کے بھی دو، ہمارے بھی دو، جتنے جسم کے ان کے اعضاء اتنے ہمارے اعضاء، جس طرح کی ان کی شکل وصورت اس طرح کی ہماری شکل وصورت بلکہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان سے علم بھی زیادہ ہو، حلم بھی زیادہ ہو، اوصاف بھی زیادہ ہوں، صلاحیتیں بھی زیادہ ہوں۔ لیکن اس کے باوجود ہم کو عزت واکرام نہ ملے تو لازماً دلوں کے اندر اضطراب پیدا ہوتا ہے، ذہنوں کے اندر انتشار پیدا ہوتا ہے، دل شکستگی ودل شکنی کا سامان پیدا ہوتا ہے اور جب معاشرے میں اضطراب اور انتشار کے حوالے سے لوگ مایوس اور درماندہ ہو جائیں تو لازماً ان کے دلوں کے اندر آہستہ آہستہ تخریب سرایت کرنا شروع کردیتی ہے۔
وہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ معاشرہ ہم کو ہمارا حق نہیں دے پار ہا، ہمارے علم کا ہم کو حق نہیں مل رہا، ہماری صلاحیتوں کا ہماری صفات کا یہ معاشرہ ہم کو حق نہیں دے رہا تو لازماً ان کے ذہنوں کے اندر معاشرے کے خلاف انتقام پیدا ہوتا ہے۔ اسلام نے وہ تفاخر وتکبر جو خاص طبقات کو حاصل ہوتا ہے اور خاص ذہنوں کے اندر پیدا ہوتا ہے۔ خاص حسب اور نسب کے تعلق کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے، یا دولت مندی اور امارت کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ اسلام نے ان سارے تفاخر کو سارے تکبر کو، یکسو ختم کرکے رکھ دیا اور یہ فرما دیا کہ لوگو! معاشرے کے اندر رہنے والے تمام افراد خواہ رنگ کے کیسے ہی ہوں، خواہ نسل کے بٹے ہوئے ہی کیوں نہ ہوں خواہ قوم اور قبیلوں میں الگ الگ ہی کیوں نہ ہوں، معاشرت کے قانون کے اندر اخلاقی تقاضوں کے اندر اور زندگی کے تمام حقوق کے میں یکساں حیثیت رکھتے ہیں اونچ نیچ کا کوئی فرق نہیں ہونا چاہئے۔اسلام معاشرتی انتشار وخلفشار کے خاتمے کے لئے مساوات کا حکم دیتا ہے۔
رسول اللہ ؐ جس دور اور جس علاقے میں نبی بنا کر مبعوث کئے گئے، صرف اسی علاقے کے حالات کو دیکھیں تو آپ کے سامنے آجائے گا کہ نسلی تفاخر، حسب نسب کا غرور کس طرح ان کے اندر سرایت کئے ہوئے تھا، ہر قوم، ہرقبیلہ اپنے کو دوسرے سے برتر سمجھتا تھا اوردوسروں کو اپنے سے کم تر سمجھتا تھا، دوسرے بدتراور خود برتر کہلاتے تھے، صرف نسلی غرور کی وجہ سے آپس میں باہمی جنگ وجدل کی فضا رہتی تھی ایک قبیلے میں رہنے والے بھی مختلف حسب ونسب کے حوالے سے ایک دوسرے کو اونچا، اور ایک دوسرے کو نیچا تصور کرتے تھے، خطوں کے تعلق کی وجہ سے اونچائی اور نیچائی کا فرق پیدا ہوچکا تھا۔ خطہ ئ عرب کے رہنے والے، عجم کے رہنے والوں کو کوئی حیثیت دینے کے لئے تیار نہ تھے، اور خود خطہئ عرب کے اندر مختلف قبیلے، مختلف قبیلوں کو حقارت کی نگاہوں سے دیکھتے تھے اور ایسے میں جب صرف خطہ عرب سے تعلق رکھنے والے ایک دوسرے کو ہیچ اور نیچ تصور کرتے تھے ان لوگوں کے بارے میں ان کے ذہنوں کا عالم کیا ہوگا کہ دوسرے علاقوں سے اٹھ کر ان علاقوں میں آکر رہنے لگے تھے اور ایسے میں وہ لوگ جن کو غلام سمجھا جاتا تھا، وہ عورتیں جن کو لونڈیاں سمجھا جاتا تھا ان کو کس حقارت سے دیکھتے ہوں گے آپ اس کا تصور نہیں کرسکتے۔
دوسرے خطوں کے اندر اور دوسرے علاقوں کے اندر بھی قومی، قبائلی، حسب اور نسب کی یہ غرور، یہ تکبر، یہ اونچائیاں، یہ نیچائیاں، یہ فرق، یہ تمیزیں، بالکل معاشرتی حصہ بن چکی تھیں، عیسائی آپس میں خاص افراد کو اللہ کے انعام واکرامات کا باعث سمجھتے تھے، ان کے ہاں صرف خاص افراد اللہ کے انعام و اکرامات کے حقدار تھے۔ یہودیوں میں لام ساس، کا گروپ جوتھا، خاص گروہ جس کو کہا جاتا تھا کہ اس کے ہاتھوں میں آسمانوں کے خزانوں کی کنجیاں ہیں۔
چینی لوگ اپنے بعض افراد کو ”تیل تو“ کا مقرب جانتے تھے، اور برصغیر کا عالم اس وقت کیا ہوگا کہ آج بھی جبکہ جاہلیت ختم ہو رہی ہے اور علم کی روشنی ہرسو پھیلی ہوئی ہے آج بھی برصغیر کی ہندوقوم میں مختلف مدارج ہیں۔ غریب اور ہیچ طبقے سے تعلق رکھنے والا کسی اونچے طبقے کے محلے سے گزر بھی نہیں سکتا۔ صرف گزرنا ہی ان کے محلے کے لئے نحوست کا باعث سمجھا جاتا ہے، کوئی ہندو ہے، برہمن بھی ہندو ہے،کھشتری بھی ہندو ہے، ویشن بھی ہندو ہے، شودر بھی ہندو ہے، لیکن کوئی اچھوت کسی برہم کے دروازے کی چوکھٹ کو ہاتھ بھی نہیں لگا سکتا تھا۔
اسی طرح عیسائیت ہے، اللہ کے ماننے والے، اہل کتاب کہلانے والے ان کے اندر آپ دیکھ لیجئے، اتنا فرق ہے جو بوڑھے ہیں انہوں نے دیکھا ہوگا کہ جب برصغیر میں انگریز کی حکمرانی تھی، جب حکمران لالچ دے دے کر لوگوں کو عیسائی بنارہے تھے، اس وقت مذہبی طورپر بھی ان کے اندر تعصب کا کیا عالم تھا؟ گوروں کے کلب الگ تھے، کالوں کے کلب الگ تھے، اور تواور گوروں کے لئے گرجا گھر الگ تھے، کالوں کے لئے گرجا گھر الگ تھے، اور امریکہ میں ہم نے خود دیکھا کہ گوروں کی عبادت گاہیں، گرجا گھر الگ، کالوں کے گرجا گھر الگ۔
آج تک کوئی پوپ غیر یورپین علاقے سے نہیں بنایا گیا۔ بلکہ یہ عالم کہ افریقہ میں شروع شروع میں جوانجیل چھپی اس میں حضرت عیسیٰ کی تصویر کالے بچے کی بنائی اور جو یورپ کے اندر شائع ہوتی ہے اس میں گورے کی بنائی گئی ہے۔ گوروں نے یہ تمیز مذہب کے اندر بھی رکھی ہے اور آج تہذیب وتمدن کا مظاہرہ کرنے والے یہ عیسائی، یہ یہودی، ان کے معاشرتی قوانین کو دیکھیں، کچھ لوگ VIPقرار دیئے گئے، کچھ VVIPقرار دیئے گئے جوقانون سے اعلیٰ و ماورا کہلائے اور قانون کی گرفت سے بچائے گئے۔
اس برصغیر میں جب انگریز کی حکمرانی تھی، اپنی حکمرانی کے دور میں کسی ایک علاقے کے حکمران کو بھی عدالت کے اندر پیش نہیں کیا گیا، ایک دفعہ بھی کوئی گورنر کسی عدالت کے اندر نہیں آیا۔
اونچے نیچے کا فرق،ہرمعاشرے اور ہرطبقے میں پایا جاتا ہے، اگر کسی نے منجملہ اس کو ختم کیا ہے تو صرف اور صرف دین اسلام ہے جس نے اس اونچ نیچ کے فرق کو ہمیشہ کے لئے ختم کرکے رکھ دیا ہے۔
اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا، یاایھاالناس، یہاں، یاایھاالذین آمنوا نہیں فرمایا، یاایھا المومنین، بھی نہیں فرمایا، یاایھا المسلمون بھی نہیں فرمایا۔
یاایھا الناس۔ اے لوگوں، اے سارے ذی نفسو، اے انسانیت کے رشتے کے تعلق میں آنے والے والو، اور انسانیت کے تعلق کا اظہار کرنے والو۔ یہ اونچ نیچ کا فرق کیا ہے؟ یہ قوم قبیلے کی تمیز کیا ہے؟ یہ کالے گورے کا فرق کیا ہے؟ یہ عربی عجمی کا فرق کیا ہے؟(جاری ہے)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Diyarbakır koltuk yıkama hindi sex