کالم

مرحبامرحبا…آمد مصطفیٰ رحمۃ للعالمینؐ

مولانا سلمان عثمانی

یہ مسلمہ حقیقت ہے ّکہ ختم نبوت کی برکت اور آنحضرتؐ ختم المرسلین کے توسط سے امت مسلمہ کو رب کریم کی طرف سے ایسی بے پایاں رحمتیں حاصل ہوئیں جن کی گنتی کرنے سے اعدادوشمار کے آلات قاصر ہیں۔چنانچہ ارشاد ربانی ہے تم بہترین امت ہویہ منفرد اعزاز بھی ختم نبوت کے مرہون منت ہے، حضور اکرمؐ سید الرسل اور خاتم الانبیاء ہیں۔ آپؐ کے بعد اس دنیا میں کوئی نبی نہیں آئے گا اور آپ دنیا میں بسنے والے تمام انسانوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت، راہ نمائی اور زندگی گزارنے کا پورا پورا سامان اور تعلیمات لے کر آئے جو رہتی دنیا تک کے انسانوں کے لیے مشعل راہ اور کامیابی وکامرانی کا معیار، زینہ اور ضامن ہیں۔ اُمت پر آپؐ کے حقوق و فرائض میں آپ پر ایمان لانا، آپ سے محبت وعقیدت رکھنا، آپ کی تعظیم وتوقیر، اطاعت وفرماں برداری اور آپ کی اتباع وپیروی شامل ہے۔
آپؐ کی سیرت بھی عالمی وآفاقی ہے جس نے تمام شعبہ ہائے زندگی کے لئے ایسے اصول فراہم کیے ہیں جو نظام عالم کی بقاء کے ضامن،انسانی ومعاشرتی قدروں کا حسن اورتمام انسانیت کے لئے نجات دہندہ ہیں۔آپؐ کابے داغ بچپن، باکردارجوانی اورحسن عمل کاحامل بڑھاپا صرف عالم اسلام ہی نہیں،تمام اقوام عالم کے لئے مشعل راہ ہے۔ یہ وہ حقیقت ہے جس کا اعتراف منصف مزاج غیر مسلم دانشوروں نے برملاا ور بجاطور پر کیا ہے۔ معروف ہندوسکالر سوامی لکشمن جی نے جب تعمق نظری سے پیغمبراسلام کی شخصیت کا مطالعہ کیاتواس قدر متاثرہوا کہ آپؐ کی سیرت طیبہ پرپوری کتاب لکھ ڈالی جس کا نام ”عرب کا چاند“رکھا۔اس کتاب سے ایک اقتباس ملاحظہ کیجیے۔ ”جہالت اور ضلالت کے مرکز اعظم جزیرہ نمائے عرب کے کوہ فاران کی چوٹیوں سے ایک نورچمکا،جس نے دنیا کی حالت کو یکسربدل دیا۔آج سے چودہ صدیاں پیشتراسی گمراہ ملک کے شہر مکہ معظمہ کی گلیوں سے ایک انقلاب آفریں صدا اٹھی جس نے ظلم وستم کی فضاؤں میں تہلکہ مچادیا۔یہیں سے ہدایت کا وہ چشمہ پھوٹا،جس نے جہالت وباطل کی تاریکیوں کو دور کرکے ذرے ذرے کو اپنی ایمان پاش روشنی سے جگمگاکررشک طور بنا دیا۔(صفحہ۵۶،۶۶)۔
آنحضرتؐکی سیرت طیبہ کی جامعیت کا عالم یہ ہے کہ فرمان باری تعالیٰ ہے:”اور جب اللہ نے نبیوں سے عہد لیا کہ میں جوکچھ بھی تمہیں کتاب اور حکمت عطاء کروں پھرتمہارے پاس ایک رسول آجائے جواس چیز کی تصدیق کرنے والا ہے جو تمہارے پاس ہے توتم ضروراس پر ایمان لاؤ گے اور ضرور اس کی مدد کروگے“(ال عمران:۱۸)گویا آپؐ کی ذات گرامی مقتداؤں کی مقتدا،پیشواؤں کی پیشوا اور راہنماؤں کی راہنماء ہے۔صحابہ کرامؓ کونماز کا طریقہ سکھاتے ہوئے فرمایا:”نماز ایسے پڑھو جیسے مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو“ (بخاری)۔کھانے کا ادب بیان فرماتے ہوئے اپنا معمول بیان فرمایا:”میں (متکبروں کی طرح)ٹیک لگا کر نہیں کھاتا“(بخاری)۔اس کے علاوہ بھی ذخیرہ احادیث اس نوع کے واقعات سے بھراپڑاہے۔ آنحضرتؐ کی سیرۃ مبارکہ ہے کہ آپؐ کی بچپن سے لڑکپن،لڑکپن سے جوانی،جوانی سے بڑھاپا اوربڑھاپے سے موت تک غرضیکہ زندگی ایک ایک لمحہ بشری وطبعی امور سے متعلق ہو یادینی وشرعی امور سے،مکمل طور پرمحفوظ ہے۔حضرت انسؓ آپؐ کے سراور داڑھی مبارک کے سفید بالوں کی تعداد بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:”آپؐ کی وفات اس حال میں ہوئی کہ آپؐ کے سر اورریش مبارک میں بیس بال بھی سفید نہیں تھے“(شمائل ترمذی)۔غور فرمائیں!کہ آپؐ کی زندگی کا کوئی گوشہ امت کی نگاہوں سے اوجھلنہیں تھا۔اسی طرح آپﷺ کے سرمہ اورتیل لگانے،کنگا کرنے،جوتا پہننے،تبسم فرمانے، چلنے پھرنے اور اظہارمسرت وغم کے وقت آپ ﷺکی کیفیت جیسے احوال صحابہ کرام ؓ نے نوٹ کرکے اگلی نسلوں تک منتقل کئے جو عام طور پر کسی بڑی شخصیت کے سوانح مرتب کرتے وقت ملحوظ نہیں رکھے جاتے۔حضور نبی کریم رحمۃ للعالمین خاتم النبیینؐ نے ارشاد فرمایا: جس نے میری اطاعت کی، اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی، جس نے میری نافرمانی کی، اس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی (بخاری)۔“ اللہ رب العزت ہم سب کو اپنے نبی کریم حضرت محمد مصطفیؐکے اسوہ حسنہ پر عمل کر نے کی توفیق نصیب فرمائے آمین۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *