کالم

محسن نقوی کا احسن اقدام ” ماڈل شرائنز” کی تشکیل

محمد ناظم الدین

حضرت داتا گنج بخش ؒکی شخصیت اور افکارواحوال کو بر صغیر کی تاریخ تصوّف میں نہایت معتبرمقام حاصل ہے۔ جس کے پیش ِنظر حکومت آپؒ کے مزارِ اقدس کو ایک ماڈل خانقاہ کے طور پر آراستہ کر رہی ہے۔ جدید دور کے تقاضوں سے عہدہ برأ ہونے کے لیے ضروری ہے کہ ہم خانقاہ کو، ان کے طرزِ تعمیر اور زائرین کی گنجائش کو پیش ِ نظر رکھتے ہوئے خوبصورت دلاویز اور آسودہ بنایا جا رہا ہے تاکہ آنے والا ہرزائر خوشگوار احساس اور روحانی آسودگی سے ہمکنار ہو۔ ان خانقاہوں کا وجود اپنے گردوپیش کے سیاسی، سماجی، دینی اور مذہبی ماحول کو بھر پور طریقے سے متاثر کرتا ہے۔ جہاں چوبیس گھنٹے زائرین کی آمد ورفت کا سلسلہ جاری رہتا، روحانی طمانیت اور تسکین کاسامان فراواں، اور پریشان حال، منتشر الخیال، عدم تحفظ اور محرومی کے بوجھ تلے دبے ہوئے انسان کو زندگی کی شاہراہ پر گامزن ہونے کا حوصلہ عطا کرتا ہے۔ اس موقع پر ایڈ منسٹریٹر اوقاف داتاؒ دربار توقیر محمودوٹو، منیجر ز اوقاف شیخ محمد جمیل، طاہر محمود و دیگر بھی موجود تھے۔ واضح رہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے ویژن کے مطابق، صوبے میں خانقاہوں کی تعمیرو تزئین کے حوالے سے ایک جامع حکمتِ عملی اور لا ئحہ عمل مرتب کیا گیا ہے، جس کے تحت خانقاہوں کے معیاری ایریا، ان کے شعبے، طرزِ تعمیر، صفائی اور سکیورٹی سمیت دیگر مختلف شعبہ جات کے خدوخال کی تجدیدِ نو کی جار ہی ہے۔ حضرت داتاگنج بخشؒ کے مزارِ اقدس کا وسیع و عریض کمپلیکس اپنی تمام تر وسعتوں کے باوجود جمعرات اور جمعہ کے موقع پر بھی ناکافی ہوجاتا ہے، جس کی توسیع اس وقت کا اہم تر ین تقاضہ ہے۔داتاؒ دربارمزارپر جاری تعمیراتی و ترقیاتی امور کی رفتار،24/7لنگرخانے میں مہیا کردہ لنگر کے میعار کی چیکنگ اورعام زائرین کے لیے دیگر سہولیات کی فراہمی جاری ہے۔
گڈ گورننس کی بدولت بد عنوانی کا خاتمہ ممکن ہوا ہے ۔محکمہ اوقاف کی وقف املاک اراضی کی حفاظت بنیادی ذمہ داری ہے ، جس میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں۔وزیر اعلیٰ پنجاب محسن نقوی کی ہدایت پر قبضہ مافیا اور ناجائز تجاوزات کی روک تھام کے لیے فیلڈ افسران ہمہ وقت مستعدرہیں۔ غیر قانونی تعمیرات کی روک تھام کے لیے جامع حکمت عملی وضع کرلی،تجاوز شدہ لینڈ کو دوبارہ حاصل کرکے کمرشل منصوبہ جات قائم کرنااوّلین ترجیح۔ وقف اراضیات پر کمرشل سکیمزاور ترقی سے متعلق منصوبہ بندی عمل میں لا ئی جاچکی،وقف اراضیات پر ناجائز قبضہ جات کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ محکمانہ تعمیر و ترقی کے لیے اوقاف اسٹیبلشمنٹ سرگرم عمل ہے۔ وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر اوقاف و مذہبی امور کی تمام ترقیاتی سکیمیں بروقت مکمل ہوں گی ، کوالٹی اور میعار کو یقینی بنایا جائے گا۔ بہترین پلاننگ پراسیس و جامع حکمت عملی سے ” ماڈل شرائنز” کی تشکیل کا خواب شرمندہ تعبیر ہوگیا۔ حکومت نے دربار حضرت بی بی پاک دامن کے اپروچ پیسج کے لیے 11.17 ملین رقم سے رقبہ کی خریدار ی کی منظوری دی ہے۔ محکمہ اوقاف درباروں کی تزئین آ رائش کے ساتھ ریونیو کے حصول کیلئے کمرشل پراجیکٹس پر خصوصی توجہ دے رہا ہے۔
بادشاہی مسجد میں تبرکات گیلری کی تزئین و تشکیل کے کام پر عمل در آمد جاری ہے، تبرکات ِ مقدسہ مِلی اور قومی اثاثہ ہیں ۔بادشاہی مسجد میں بین الاقوامی معیار کی حامل نئی تبرکات گیلری کی تشکیل کا کام دینی جذبوں کا عکاس ہے ، وزیر اعلیٰ پنجاب کے ویژن کے مطابق تبرکات گیلری مسجد کے جنوبی سمیت کے برآمدوں میںقائم ہوگی۔ یہ پراجیکٹ مورخہ 28 فروری2024ء تک مکمل ہوگا۔ دربار حضرت بابا نولکھ ہزاری ؒ کی ترقیاتی سکیم کا جائزہ اور کام کے معیار و رفتاراور محکمانہ تعمیر و ترقی کے لیے اوقاف لیڈر شپ سرگرم عمل ہے۔ سالہا سال سے التواء کا شکار کمرشل سکیموں کے اجراء کو عملی جامہ پہنا یا گیا ۔ بہترین حکمت عملی کی بدولت بد عنوانی کا خاتمہ ممکن ہوا ہے ۔ حکومت وقف پراپرٹیز کی نیلامی کو شفاف بنانے کے علاوہ محصولاتِ زَر اور مالی وسائل میں اضافہ کے لیے پوری طرح مستعد ہیں ۔ محکمہ اوقاف کی آمدن کے حصول کے لیے مثبت اقدام اُٹھائے ہیں۔ محکمہ اوقاف میں کمرشل سکیمز، محصولاتِ زَر میں ریکارڈ اضافہ ، ملازمین کی ریکارڈ ترقیاں اور اَپ گریڈیشنز، امن و یکجہتی اور بین المذاہب مکالمہ و ہم آہنگی ، مدرسہ ایجوکیشن سسٹم کی مین سٹریمنگ ، قرآن پاک کی تقدسِ و حرمت اور مقدس قرآنی اُوراق کی حفاظت کے لیے قرآن محل کی تعمیر جیسے وقیع پراجیکٹس کی تکمیل جاری ہے ۔
پنجاب حکومت روادارانہ فلاحی معاشرے کی تشکیل ، انتہا پسندی و دہشت گردی کاخاتمہ اور خانقاہی نظام کا احیاء موجودہ حکومت کے اہم اہداف میں شامل ہے ۔ سوسائٹی کی اصلاح اور تزکیہ و طہارت کا بنیادی انسٹیٹیوشن” خانقاہ”اور مزاراتِ مقدسہ ہیں ، جہاں عامۃُ النّاس کی تعمیر ِ سیرت اورتشکیل ِ کردار کے اہتمام کے ساتھ اُن کی کفالت، قیام و طعام ،تعلیم و تربیت اور نفسیاتی عوارض کا روحانی علاج و اہتمام ممکن ہونے کے ساتھ، انتہا پسندی کی بیخ کنی، اخوت و بھائی چارے کے فروغ اور روادارانہ فلاحی معاشرے کی ترتیب و تزئین کے سَوتے پھوٹتے ہیں۔ خانقاہوں کے مجموعی انفراسٹرکچر کو بہتر کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ دربار حضرت دیوان چاولی مشائخ ؒکے لیے 105.35 ملین کی منظوری عمل میں آچکی ہے ۔ خانقاہوں کی تعمیر و تزئین اور پنجاب کے مزارات کے ترقیاتی پراجیکٹ کی تشکیل نے تاریخ رقم کی ہے ۔ ان خیالات کا اظہار سیکرٹری اوقاف ڈاکٹر طاہررضابخاری نے دربار حضرت شاہ کمال ؒ سے ملحقہ وقف پراپرٹی کا جائزہ لیتے ہوئے کیا ۔انہوں نے متعلقہ پراپرٹی کے گرائونڈ فلور پر کمرشل دوکانات اور بالائی منزل پر ایڈ منسٹریٹر ز لاہور زون ، منیجر حلقہ اوردرجہ چہارم کے اوقاف ملازمین کے لیے رہائش گاہ کی تعمیر کے ضمن میں ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ اوقاف لیڈر شپ محکمانہ تعمیر و ترقی اور ملازمین کی فلاح و بہبودکے لیے کوشاں ہیں۔صوبہ بھر کے مزارات کی تعمیر و دیگر ترقیاتی امور اور زائرین کے لیے سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی اقدامات جاری ہیں۔ منیجرز اوقاف شیخ محمد جمیل،حسن رضوان سمیت دیگر آفیسران بھی موجود تھے ۔ خانقاہیں خدمت خلق کا سب سے بڑا مرکز ۔ لنگر سسٹم سماجی انقلاب کا سب سے بڑا ذریعہ بھوکوں کو کھانا کھلا نا قربِ الہٰی کا وسیلہ اور صوفیاء بلا تفریق رنگ ونسل انسانی فلاح کے علمبردار تھے ۔ حکومت قرآن پاک کی حُرمت کو یقینی بنانے کے لیے مستعد ہے۔ قرآن پیپر کے نام پر ایمپورٹ ہونے والے کاغذ کو دیگر امور کے لیے استعمال کرنا جائز نہیں۔قرآن پاک میں تحریف جیسی کسی ساز ش یا مذموم حرکت کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ قرآن پاک کی معیاری طباعت کو یقینی بنانے کے لیے ہر ناشرِ قرآن پر نئی پالیسی اور شرائط لازم ہیں، وقف پراپرٹیز کی ڈیجیٹائزیشن کے لیے پراجیکٹ تیار کر لیا گیا ہے۔ مزارات کی سیکیورٹی اور وقف پراپرٹیز کی سرویلنس، مانیٹرنگ اور نگرانی کے لیے موثر حکمت عملی تشکیل دے دی،ہے۔کمرشل املاک کی مکمل کمپیوٹرائز یشن سے رینٹ کولیکشن اور دیگر امور میں بہتری آئے گی۔ اس ضمن میں اربن یونٹ اتھارٹی اور پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ سے اشتراک عمل جاری ہے۔
مزارِ اقبال عظیم قومی ورثہ، اس کی تزئین ِ نو کے لیے جامع حکمت عملی طے کرلی گئی ہے، وزیر اعلیٰ پنجاب کے ویژن کے مطابق مزار کی کنزرویشن اور ریسٹوریشن کے لیے فزیبلٹی سٹڈی اورپلاننگ پراسیس جاری ہے۔ اس ضمن میں والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی اور آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ کی فنی معاونت سے رواں ہفتے میں پی سی۔ I مکمل کر کے، معاملہ منظوری کے لے مجاز اتھارٹی کو ارسال کردیا جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے