کالم

محبت کے سفیر کی پاکستان آمد

منشاقاضی

پروفیسر رانا نسیم اختر صدر ورلڈ کامن ویلتھ بزنس اور اور سیز پاکستانیوں کے چیمبر کے صدر این پی آر کے سربراہ پروفیسر رانا نسیم اختر جو سپین میں پاکستان کی سرزمین کے سپوت ہیں اور اپنے ملک کی نیک نامی کے چلتے پھرتے محبت کے سفیر ہیں ۔وہ اس گئے گزرے دور میں خوبصورت دل رکھنے والے عظیم انسان ہیں ۔ پروفیسر رانا نسیم اختر اپنی ذات میں ایک انجمن ہیں ۔ دوستوں کے خیر خواہ اور اپنے وطن عزیز کے ذرے ذرے سے محبت کرتے ہیں ۔ آپ کو شاعر مشرق علامہ اقبال سے عشق ہے ۔ انہیں ہر ذرے میں کلیم دکھائی دیتا ہے ۔ رانا نسیم اختر کی کامیابی کے عقب میں ماں کی دعاؤں کا اثر ہے ۔ پروفیسر رانا نسیم اختر کی والدہ محترمہ بقید حیات ہیں۔ رانا صاحب کہتے ہیں کہ:
جہاں جہاں ہے میری دشمنی اس کا سبب میں ہوں
جہاں جہاں ہے میرا احترام وہ ماں سے ہے
اس سے پہلے بھی میں نے ذکر کیا تھا کہ ہر چلتا پھرتا آدمی انسان نہیں ہے جب تک اس میں انسانیت نہیں ہے ۔ دکھی انسانیت کا درد محسوس کرنے والا آدمی عظیم انسان ہے ۔ آج میں نے ایک عظیم انسان کو تلاش کر لیا ہے، وہ ورلڈ کامن ویلتھ بزنس کے صدر اورسیز پاکستانیوں کے چیمبر کے صدر این پی آر کے سربراہ پروفیسر رانا نسیم اختر ہیں جن کے اندر اوصاف حمیدہ ہیں۔ پروفیسر رانا نسیم اختر کا ہم نے ایک دن کا کام دیکھ لیا ہے ۔ وہ پاکستان میں بین الاقوامی شہرت یافتہ فاؤنڈیشن رحمنٰ فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر ہیں ۔ جس کے سربراہ مسیحائے انسانیت ڈاکٹر وقار احمد نیاز ہیں ۔ ہمارے ڈاکٹر وقار احمد نیاز کے ساتھ رضا چوھدری موصوف کاارادت و عقیدت سے خیر مقدم کریں گے ۔ وہ خصوصی طور پر سپین سے تشریف لا رہے ہیں ۔ آپ کے سماجی کاموں کی فہرست بڑی طویل ہے ان کا صرف رحمن فاؤنڈیشن میں صرف ایک دن کا کام وہ انہیں سو سال تک یاد رکھے گا ۔ پروفیسر رانا نسیم اختر کے دفتر حیات کے اوراق پارینہ اور نرینہ کا رضا چوھدری نے تصورمیں تعارف کروایا ہے اور ان کی لاہور میں موجودگی اورمصروفیات کے بارے میں ایم اسماعیل رضا چوھدری بتائیں گے ۔ پبلک ریلشنز ویلفئر ایسوسی ایشن کے انتخابات میں بلا مقابلہ جیتنے والوں اطہر اعوان ۔میاں کرامت علی اور ذوالفقار چوھدری سے بھی چئیرمین سید ندیم الحسن گیلانی کی معیت میں ملاقات ہو گی اور کالم نگاروں سے بھی تبادلہ خیال ہو گا ۔ رحمن فاؤنڈیشن میں گردوں کے مریضوں جو جانکنی کے عالم میں ہیں اور ان کا مسیحا ان کی جان بچانے میں لگا ہوا ہے۔گردوں کے مریض بھی رحمن فاؤنڈیشن کی حدود سے لیکر آسمان کی نیلگوں وسعتوں تک اپنے محسن مربی کی راہ تک رہے ہیں ۔ اور کہہ رہے ہیں۔
رانا صاحب آپ آ جائیں تو کوئی تمنا نہ رہے
دل میں حسرت نہ رہے لب پہ تقاضا نہ رہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے