کالم

محاسبہ یا پچھتاوا

مجاہد حسین وسیر

اس وقت پورے ملک میں الیکشن کی گہما گہمی ہے۔2024 کے الیکشن کے لیے پاکستان بھر سے 128585760 ووٹر اگلے 5 سال کے لیے8 فروری کو اپنی قسمت کا فیصلہ کرنے جا رہے ہیں اگر ہم ووٹرز کی تقسیم کار کو دیکھیں تو اسلام آباد میں 568406 مرد اور 514623 خواتین ،مجموعی طور پر اسلام آباد میں مردو خواتین کے کل 1083029 ووٹرز ہیں ۔ بلوچستا ن میں 3016164 مرد جبکہ 2355783 خواتین ووٹرز ہیں۔ صوبہ خیبر پختون خواہ میں 11944397 مرد جبکہ 9983722 خواتین ووٹرز ہیں۔ پنجاب میں 39122082 مرد جبکہ 34085814 خواتین ووٹرز ہیں۔ صوبہ سندھ میں 14612655 مرد جبکہ 12382114 خواتین ووٹرز ہیں۔ یوں پاکستان بھر سے مجموعی طور پر کل 69263704 مرد جو کہ 53 اعشاریہ 87 فی صد جبکہ خواتین کی مجموعی تعداد 59322056 جوکہ 46 اعشاریہ 13 فیصد ہے اگر ہم بات کریں مرد و خواتین دونوں کی مجموعی تعدادکی تو 128585760 ووٹرز اپنا حق رائے استعمال کریں گے۔ دوسری جانب پاکستان بھر کے چاروں صوبوں سے بلوچستان کے 36 شہروں صوبہ خیبر پختونخوا کے بھی 36 شہروں صوبہ پنجاب کے 42 شہروں اور صوبہ سندھ کے 30 شہروں ، مجموعی طور پر پاکستان کے 144 شہروں کے ووٹرز کو عمر کے لحاظ سے دیکھیں تو 18 سے 25 سال کے 14189214 مرد 9329157 خواتین ہیں۔26 سے 35 سال عمر کے ووٹرز 17898476 مرد 15447349 خواتین ہیں۔36 سے 45 سال عمر کے ووٹرز 15076337 مرد 13671321 خواتین ہیں۔46 سے 55 سال عمر کے ووٹرز کی تعداد 9616014 مرد 8928420 خواتین ہیں۔56 سے 65 سال عمر کے ووٹرز کی تعداد 6431585 مرد 5705759 خواتین ہیں جبکہ 65 سے زیادہ عمر کے 6052080 مرد 6240050 خواتین ووٹرز ہیں۔ پاکستان کی قومی اسمبلی ملک کا خودمختار قانون ساز ادارہ ہےاس وقت پاکستان بھر سے قومی اسمبلی کی 342 نشستیں ہیں، جن میں سے 272 براہ راست منتخب ہوتی ہیں جبکہ 60 خواتین کے لیے اور مزید 10 مذہبی اقلیتوں کے لیے مخصوص ہیں۔ پنجاب اسمبلی کی کل نشستوں کی تعداد 371ہے جن میں سے 297 جنرل نشستیں، 66 نشستیں خواتین کے لیے اور 8 غیر مسلموں کے لیے مخصوص ہیں۔خیبرپختونخوا کی صوبائی اسمبلی میں کل 145 اراکین، 115 جنرل نشستیں، 26 خواتین کے لیے مخصوص اور 04 نشستیں غیر مسلموں کے لیے ہیں۔سندھ کی صوبائی اسمبلی میں کل 168 نشستیں جن میں سے 130 جنرل نشستیں، 29 خواتین کے لیے اور 9 غیر مسلموں کے لیے مخصوص ہیں۔بلوچستان کی صوبائی اسمبلی کے 65 اراکین ہیں جن میں سے 51 اراکین بلوچستان کے اضلاع سے براہ راست جنرل نشستوں پر منتخب ہوتے ہیں، 11 خواتین کے لیے مخصوص اور 3 غیر مسلموں کے لیے مخصوص نشستیں ہیں۔اگر ہم بات کریں امیدواروں کی کہ پاکستان کی قومی اسمبلی کے لیے کس صوبے سے کتنے مردو خواتین امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کروائے ۔ سب سے پہلے ہم بات کریں گےاسلام آباد کی جہاں سے 182 مرد 27 خواتین نے
قومی اسمبلی کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کروائے جن میں سے 98 مرد اور 18 خواتین کے کاغذات نامزدگی منظور ہوئے۔ پنجاب سے 3367 مرد 254 خواتین امیدواروں نے قومی اسمبلی کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کروائے جن میں سے 2912 مرد اور 188 خواتین کے کاغذات نامزدگی منظور ہوئے۔ سندھ سے 1574 مرد 107 خواتین امیدواروں نے قومی اسمبلی کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کروائے جن میں سے 1419 مرد اور 96 خواتین کے کاغذات نامزدگی منظور ہوئے۔ خیبر پختونخوا سے 1293 مرد 38 خواتین امیدواروں نے قومی اسمبلی کےلیے کاغذات نامزدگی جمع کروائے جن میں سے 1144 مرد اور 35 خواتین کے کاغذات نامزدگی منظور ہوئے۔ بلوچستان سے 612 مرد 19 خواتین امیدواروں نے قومی اسمبلی کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کروائے جن میں سے 521 مرد اور 18 خواتین کے کاغذات نامزدگی منظور ہوئے۔پاکستان بھر سے قومی اسمبلی کے لیے جمع کرائی گئی 934 مرد 90 خواتین کی درخواستوں کو مختلف وجوہات کی بنا پر واپس کر دیا گیا ۔قومی اسمبلی کے لیے کل 6449 مردو خواتین امیدواروں کے مقابلہ ہو گا۔اگر ہم بات کریں چاروں صوبائی اسمبلیوں کے لیے پنجاب سے 8496 مرد 439 خواتین، سندھ اسمبلی کے لیے 4088 مرد 206 خواتین ، خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلی کے لیے 3344 مرد 117 خواتین، بلوچستان کی صوبائی اسمبلی کے لیے 1742 مرد 46 خواتین نے کاغذات نامزدگی جمع کروائے جن میں سے بعض وجوہات کی بنیاد پر پنجاب سے 943، سندھ سے 520،خیبر پختونخوا سے 367 اور بلوچستان سے 386 مرد و خواتین کے کاغذات واپس کر دئیے گئے یوں چاروں صوبوں سے صوبائی اسمبلیوں کے کل 2216 امیدواروں کو نامزدگی کے وقت ہی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس وقت پنجاب اسمبلی کے لیے 7992، سندھ اسمبلی کے لیے 3774، خیبر پختونخوا اسمبلی کے لیے 3094 اور بلوچستان اسمبلی کے لیے 1402 امیدوار مد مقابل ہیں، یوں چاروں صوبائی اسمبلیوں کے کل 16262 اور قومی اسمبلی کے 6749 جن کی مجموعی تعداد 22711 امیدوار مد مقابل ہیں۔ ہر امیدوار اپنے آپ کو نام نہاد عوامی لیڈر، عوام کے دکھوں کا مداوا کرنے والا، عوام کے لیے ایک مسیحا کا روپ دھارے عوام کی قسمت بدلنے بلکہ عوام کی قسمت کو چار چاند لگانے میدان میں پوری آب و تاب سے سیا سی اکھاڑے میں اترا ہوا ہے۔ہر ایک عوام کو یہ یقین دلانے میں تگ و دو کر رہا ہے کہ مجھ سے زیادہ آپ کا ہمدرد کوئی نہیں، آپ کے ووٹ کا صحیح حقدار میں ہوں ، میرے جیسا مخلص، نڈر، بے باک ، پڑھا لکھا ، دیانت دار، آپ کے اپنے وسیب کا مقامی امیدوار ہوں ، آپ لوگوں کے مسائل کو جتنی قریب سے میں سمجھ سکتا ہوں کوئی دوسرا کہاں؟ اور کوئی مد مقابل ایسا لیڈر ہے جس میں اتنی خوبیاں ہیں ؟ بتائیں۔بھلے 8 فروری کے بعد حسب روایت اگلے 5 سال کے لیے کوئی دیکھنے کو بھی نہ ملے۔ کچھ تو ایسے بہروپیے بھی ہوں گے جو سیاست میں عوامی خدمت کا سہارا لے کر اسمبلیوں میں پہنچ جائیں گے اور ذاتی مقاصد، جائیدایں اور جاگیریں بنانے کے لیے ڈھال کے طور پر استعمال کریں گے، کچھ اقتدار کی ہوس کے لیے۔ تو پھر اچھا انسان کہاں سے آئے گا ؟ ہر ایک فرد چاہتا ہے ہمارے حکمران ایماندار ہوں کوئی تو ایسا ضرور ہو گا جو حقیقی لیڈر بھی ہو گا، عوام کا دکھ درد رکھنے والا بھی ہو گا۔ اس کے لیے پہلے خود کی اصلاح کرنا پڑے گی اگر خود ایمان دار ہوں گے تو ایمان دار لیڈر بھی ملے گا ورنہ وہی ہو گا جو پہلے سے ہوتا آیا ہے۔ لہٰذا اب کی بار جوش سے نہیں ہوش ، یہ وقت ہے عوامی طاقت کا، اپنی اس طاقت کو استعمال کر کے ڈاکووں ، چوروں، لٹیروں اور بہروپیوں کا محاسبہ کرنے کا اگر وقت گزر گیا تو پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں ہو گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Diyarbakır koltuk yıkama hindi sex