کالم

لیلیٰ خالد؛ مزاحمت کا استعارہ

زاہدہ حنا

ان دنوں عالمی رائے عامہ فلسطین میں رونما ہونے والے انسانی المیے کو دیکھ کر شدید کرب سے دوچار ہے۔ اس حوالے سے پل پل کی خبریں آپ تک پہنچ رہی ہیں۔
اس موقع پر میں عرب ممالک اور اسرائیل کے درمیان 5 جون 1967 کو شروع ہونے والی اس چھ روزہ جنگ کا ذکر کرنا چاہوں گی جس کا شاخسانہ فلسطین کے مظلوم انسان آج بھی بھگت رہے ہیں۔ اس مختصر جنگ میں اسرائیل کو فتح حاصل ہوئی، یروشلم ان کے قبضے میں آگیا۔
اس وقت مصر کے صدر جمال عبد الناصر اور کئی دیگر عرب رہنماؤں کو یقین تھا کہ وہ اسرائیل کو صفحہ ہستی سے مٹا دیں گے لیکن جب یہ جنگ ختم ہوئی تو معلوم ہوا کہ اسرائیل کا رقبہ تین گنا زیادہ بڑھ چکا ہے۔
اس جنگ کے بعد فلسطین میں مزاحمت کی ایک بے مثال تحریک شروع ہوئی جس میں دو خواتین کے نام بہت نمایاں تھے اس میں ایک کا نام لیلیٰ خالد اور دوسری کا نام حنان اشروی تھا۔ حنان اشروی نے سیاسی جدوجہد کا راستہ اختیار کیا۔
اس کا تعلق فلسطین کے ایک خوش حال گھرانے سے تھا۔ جب چھ روزہ جنگ ختم ہوئی تو وہ بیروت یونیورسٹی میں انگریزی ادب پڑھ رہی تھی۔ جب اسے لوٹ کر اپنے گھر رام اللہ جانا پڑا تو اسے پہلے اردن کا سفر کرنا پڑا، وہاں سے وہ رام اللہ کے لیے روانہ ہوئی تو حنان کو تفتیش کاروں کا سامنا کرنا پڑا۔
گھنٹوں اس سے، اس کے اور خاندان کے بارے میں پوچھ گچھ ہوئی، جب وہ اس مرحلے سے بھی گزرگئی تو اس کی جامہ تلاشی ہوئی۔ اسرائیلی فوج نے اس کا تمام سامان ضبط کرلیا۔
ان مراحل کے بعد جب وہ گھر پہنچی تو یہ وہ زمین نہیں تھی جسے وہ تعلیم حاصل کرنے کے لیے کئی برس پہلے چھوڑ کرگئی تھی۔ وہ لکھتی ہے کہ ’رام اللہ‘ جسے ’’ فلسطین کی دلہن‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا تھا، وہ دلہن بے حرمت کی جاچکی تھی۔
یہ وہ دور تھا جب ایڈورڈ سعید ، حنان اشروی اور لیلیٰ خالد جیسے فلسطینی رہنما جومسلمان نہیں تھے لیکن وہ اپنے وطن کی آزادی کے لیے بے مثال جدوجہد کر رہے تھے۔ لیلیٰ خالد اور حنان اشروی مغرب میں اور ہمارے یہاں فلسطین کی جدوجہد آزادی کا استعارہ بن گئیں۔
اس وقت مجھے لیلیٰ خالد بہت یاد آرہی ہیں۔ 79 سالہ لیلیٰ خالد ہمہ جہت شخصیت ہیں اور ایک کتاب بھی لکھ چکی ہیں۔ لیلیٰ خالد کو راتوں رات اس وقت شہرت ملی جب انھوں نے 1969 میں روم سے تل ابیب جانے والی ٹی ڈبلیو اے کی فلائٹ 840 کو اغوا کیا۔ نوجوان، لیلیٰ نے ذاتی خوابوں کی قربانی دیتے ہوئے یہ خطرناک کام فلسطین کی آزادی کے لیے کیا تھا اور دنیا بھر کے اخبارات ان کی تصویروں سے بھرے ہوئے تھے۔
لیلیٰ خالد گرفتار ہوئیں، جیل گئیں اور جب چھوٹ کر آئیں تو ایک بار پھر ایک طیارہ اغوا کیا۔ لیلیٰ اب اس طرح سرگرم نہیں لیکن ان کے خیال میں فلسطین کی آزادی مسلح جدوجہد کے بغیر ممکن نہیں۔ دنیا لیلیٰ خالد کو دہشت گرد کہتی ہے لیکن ان کے خیال میں وہ آزادی کے لیے جدوجہد کرنے والی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اصل دہشت گرد صیہونی ہیں جنھوں نے ہمارے وطن پر غاصبانہ قبضہ کر رکھا ہے، دہشت گرد استعماری طاقتیں ہیں جو دنیا کے لوگوں پر جنگیں مسلط کرتی ہیں۔ گزشتہ دنوں لیلیٰ خالد کا ایک انٹرویو میری نظر سے گزرا جس کو پڑھ کر بہت کچھ سیکھا اور سمجھا جاسکتا ہے۔
ان سے جب سیاسی مسلح جدوجہد کے آغاز کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ جب ہمیں 1948 میں فلسطین سے بے دخل کیا گیا تو ہم مہاجرین کی حیثیت سے لبنان کے جنوب میں طائر میں آباد ہوگئے۔ یہ ایک اذیت ناک زندگی تھی۔
ہم ہر چیز سے محروم کر دیے گئے تھے۔ میرا پہلا اسکول خیمے میں تھا۔ مجھے وہاں کوئی چیز پسند نہ آئی، میں فلسطین سے محروم ہوگئی تھی۔ مجھے یقین دلایا گیا تھا کہ ہمیں اپنے گھروں کو واپس جانا ہے۔ میں نوجوان تھی لیکن میں نے خود سے سوال کیا، ’’ اس طرح کیوں رہنا پڑ رہا ہے؟ ‘‘میں نے سیاسی معاملات میں اس وقت دلچسپی لینا شروع کی جب میرے بھائی بہن عرب نیشنل موومنٹ میں شامل تھے۔
فلسطین واپس جانا ہمارا خواب تھا۔ 1967 کی چھ روزہ جنگ میں عرب افواج کی شکست نے ہمیں ہتھیار اٹھانے اور انقلاب برپا کرنے پر راغب کیا۔
اے این ایم نے پاپولر فرنٹ برائے آزادی فلسطین (پی ایف ایل پی) قائم کرنے کا فیصلہ کیا اور اس کے قائم ہوتے ہی میں نے اس میں شمولیت اختیار کر لی۔ میں نے محسوس کیا کہ معاملات کو ہمیں اپنے ہاتھوں میں لے لینا چاہیے۔ وطن کی واپسی کے لیے عرب حکومتوں پر انحصار نہیں کرسکتے، ہمیں اپنے آپ پر بھروسہ کرنا ہوگا۔
لیلیٰ خالد سے پوچھا گیا کہ انھوں نے طیارہ اغوا کیوں کیا تھا تو ان کا جواب تھا ’’ اپنے قیدیوں خصوصاً عورتوں کی رہائی اور فلسطین کے قضیہ کے بارے میں بین الاقوامی طور پر آگاہی ہمارا ہدف تھا۔ ہم دنیا کو بتانا چاہتے تھے کہ ہم محض مہاجرنہیں ہیں، جنھیں امداد چاہیے اور خیموں میں رہنا ہے، ہم بامقصد زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔
مجھے اس بات کی کوئی پروا نہ تھی کہ طیارہ اغوء کرنے والی میں پہلی عورت ہوں کہ نہیں۔ میں اپنے مقصد کے لیے کچھ نہ کچھ کرنا چاہتی تھی۔ یقیناً ہم جانتے تھے کہ طیارے اغوا کر کے فلسطین کو آزاد نہیں کراسکتے تھے۔ تاہم، یہ بین الاقوامی توجہ حاصل کرنے کا ایک طریقہ تھا۔ میری جیب میں ایک ہینڈ گرنیڈ اور ایک عدد پستول تھا۔ تب میں اپنے ( پاپولر فرنٹ کے) کامریڈ سالم عیساوی سے ملی۔ ہمیں واضح ہدایات تھیں کہ کسی کو نقصان نہ پہنچے۔
میں نے پائلٹ کو ہینڈگرنیڈ دکھا کر کہا کہ جہاز کی نئی کپتان میں ہوں۔ میں نے اس سے کہا ’’ ہم فلسطینی ہیں اور پاپولر فرنٹ سے تعلق رکھتے ہیں اور ہم مہاجر ہیں، جب ہم فلسطین میں داخل ہونے والے تھے تو میں نے پائلٹ سے کہا کہ ہمیں حیفہ لے کر چلے۔ میرا ساتھی بھی حیفہ سے تعلق رکھتا تھا۔ پھر ہم نے طیارے کو شام کے شہر دمشق کی جانب موڑ دیا۔ میں نے مسافروں سے معذرت کی، میں نے ان سے کہا کہ انھیں خوفزدہ کرنے پر مجھے بہت افسوس ہے۔ میں نے ان سے کہا کہ آپ بالکل محفوظ ہیں۔ ہم نے کسی کو نقصان نہیں پہنچایا۔ تمام مسافر رہا کر دیے گئے اور اپنے گھروں کو واپس چلے گئے لیکن ہم اپنے گھروں کو واپس نہیں گئے ۔ ہم اب تک مہاجر ہیں۔‘‘
اس کے جواب میں کہ ان کی نظر میں دہشت گردی کیا ہے تو انھوں نے کہا ’’ قبضہ کرنا دہشت گردی ہے۔ ہماری زمین، گھر ہتھیا لینا اور ہمیں مہاجر بنا دینا دہشت گردی ہے۔ صیہونی جتھوں نے قتل عام کیے ہیں۔ آپ جانتے ہیں، ہر روز فلسطین میں لوگ قتل کیے جا رہے ہیں۔ اسرائیلی فوج قتل کرنے کے لیے گولیاں چلاتی ہے۔ صحافی شیریں ابو عاقل کے بارے میں سوچیں، جسے صرف اس وجہ سے قتل کر دیا گیا کہ وہ زمینی حقائق پر بات کرتی تھی۔ ہم روزانہ تشدد دیکھتے ہیں لیکن ہم مقبوضہ علاقوں میں ایک نیا انتفاضہ بھی دیکھ رہے ہیں۔ مقبوضہ علاقوں کے لوگ اپنی آزادی کے لیے نوآبادیاتی تسلط کے خلاف بغاوت کرتے ہیں۔ بین الاقوامی قانون کہتا ہے کہ فوجی قبضے والے علاقے کے لوگوں کو حق حاصل ہے کہ وہ اپنا دفاع کریں خواہ مسلح جدوجہد ہی کیوں نہ کرنی پڑے۔ قبضے کے خلاف لڑنے کا یہ قانونی طریقہ ہے۔ ‘‘
ایک دلچسپ سوال کہ کیا ماں بن کر تمہارے طریقۂ جنگ اور جدوجہد میں تبدیلی آئی ہے؟ ایک ایسی تحریک میں جس پر مردوں کا غلبہ ہے، عورت کی حیثیت سے تمہارا کیا تجربہ رہا؟ لیلیٰ خالد کا کہنا تھا ’’ ابتداء میں میرا تعلق پاپولر فرنٹ کے فوجی دھڑے سے تھا، لیکن مجھے ایک عورت کے طور پر کام کرنا اور عورتوں کے حقوق کے بارے میں بات کرنا پڑتی تھی۔
انقلاب ہر ایک کے لیے ہے، اس وقت بھی جب ہم ماں ہوں۔ انقلابی ہونے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ میں صرف جنگ کروں۔ مجھے محبت کرنے اور چاہے جانے کا، ماں اور دادی بننے کا حق حاصل ہے۔‘‘
آزاد فلسطین کے تصور کے بارے میں لیلیٰ نے کہا آزادی کی کلید میں مہاجرین کی واپسی ہے۔ ہم ایک ایسی جمہوریت قائم کرنا چاہتے ہیں جہاں سب کے حقوق اور فرائض یکساں ہوں۔ ہم وہاں موجود تمام لوگوں کے ساتھ، اسرائیلیوں کے ساتھ ایسا کرنا چاہتے ہیں۔ یہ ایک مہذب اور جمہوری حل ہے اور اسے رائج کیا جاسکتا ہے۔
لیلیٰ سے پوچھا گیا کہ اگر تمہیں حیفہ واپس جانے کا موقع مل جائے تو سب سے پہلا کام کیا کرو گی؟ تو اس کا جواب دل کو چھو لینے والا تھا۔ اس نے کہا ’’ میں یہ دیکھنے کے لیے دوڑتی ہوئی جاؤں گی کہ آیا میرا گھر اب تک سلامت ہے۔
میں تصور میں لوگوں کو آپس میں مل کر گاتے ناچتے دیکھ رہی ہوں اور میں نارنگی کے پیڑ تلے سوؤں گی۔ میں نارنگیوں سے نفرت کیا کرتی تھی کیونکہ جب میں انھیں لبنان میں اپنے رشتہ داروں کے پیڑوں سے توڑنا چاہتی تھی تو میری ماں نے غصہ کرتے ہوئے کہا تھا یہ ہماری نارنگیاں نہیں ہیں، ہماری نارنگیاں فلسطین میں ہیں۔‘‘
نہ جانے اپنے وطن سے دربدری کا یہ سلسلہ کب ختم ہوگا ؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *