کالم

’’لاہور “ گورنمنٹ ہسپتالوں کی مرمت ،علاج کی دشوارياں

محمد سمير

لاہور کے گورنمنٹ ہسپتال، جو عوام کی صحت کے ساتھ تماشا ہیں، اس میں مختلف پہلوئوں کا موازنہ کرنا ایک حیرت انگیز حقیقت سامنےلاتا ہے۔ یہاں کی صحتیابی نظام کی کمزوریوں اور عدم کارکردگیوں کا آئینہ واضح ہے۔ حقیقت میں صحت کے معاملات میں معياری چیلنجز ہیں۔لاہور کے گورنمنٹ ہسپتال کی بڑی بناوٹ اور معاصر سہولتوں کے باوجود، ان میں عوام کی صحتیابی میں مشکلات بڑھتی جا رہی ہیں ، جبکہ مسلسل معاملات میں خلل ہو رہا ہے؟ یہاں کے ڈاکٹرز اور نرسز عوام کو بہترین صحتیابی فراہم کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں یا صرف دکھاوے کے لئے محنت ہو رہی ہے؟اس دور میں جہاں ہرحلقہ اور ہر شہر میں صحتیابی سہولتوں کا مظاہرہ دیکھا جا رہا ہے، وہاں لاہور کے گورنمنٹ ہسپتالوں میںصحتیابی نظام عوام کی مدد کے لئے ہے یا مشکلات بڑھانے کے لئے؟
لاہور کے گورنمنٹ ہسپتالوں میںعوام کو چیک اپ حاصل کرنے کے لئے لمحہ بہ لمحہ انتظار، اور معمولی معاملات میں ہونے والا انتظار ایک بے رحم حقیقت ہے جو عوام کو صحتیابی خدمات حاصل کرنے کے نام پر ایک سواليہ نشان ہے۔ ایمرجنسی حالت میں اور معمولی بیماریوں میں عوام پس رہی ہے۔یہ ایک نظام کی فلاحی ناکامی ہے جس نے لاہور کے شہریوں کو صحتیابی سہولتوں تک پہنچنے میں تکلیف میں ڈال دیاہے۔مزید محسن نقوی نے جو ہسپتالوں ميں مرمت شروع کروائی
ہے تاکہ علاج کا معيار بہتر ہو سکے ليکن اس مرمت توڑ پھوڑ سے بھی مريض کوانتہائی مشکل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ڈاکٹر اور ہسپتال کا عملہ اپنا کام ٹھيک سے سر انجام نہیں دے رہا۔اوپی ڈی کی ہڑتال ميں بھی مريضوں کے لئے بہت پریشانی کا سامنا رہا ہے۔حکومت کو گہرائی سے غور کرنا چاہئے تاکہ صحتیابی خدمات میں بہتری کی جا سکے۔آئیے ہم اپنے صحتیابی نظام میں مضبوطی اور بہتری کے لئے ایک متحد قدم اٹھائیں تاکہ لاہور کے ہسپتالوں میں مريضوں کو عالمی معیار کی صحتیابی خدمات حاصل ہو سکیں اور چیک اپ تک رسائی میں کوئی رکاوٹ نہ ہو۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Diyarbakır koltuk yıkama hindi sex