کالم

لاہور پولیس کے بدتمیز اور بدتہذیب ملازم!

شفیق پسروری

موجودہ آئی جی پنجاب، اپنے ملازمین کو ترقی اور مختلف مراعات سے نوازتے چلے جا رہے ، اے کاش! ان کو تہذیب، شائستگی اور اخلاقیات سے مزین کرنے کا بھی سامان کر جائیں۔محکمانہ زرکثیر سے ، الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا اور بالخصوص سوشل میڈیا کے ذریعہ، پولیس کا امیج بہتر بنانے کی انتہائی کوششیں جاری ہیں مگر سڑکوں اور ناکوں پر کھڑے ملازمین اپنے بدتر رویہ اور ناروا گفتگو سے، خیر خواہ افسران کے سارے کیئے کرائے پر پانی پھیر رہے ہیں۔میں نے کبھی، پولیس ملازمین کے رویوں پر بات نہیں کی، بلکہ جہاں تک ممکن ہوا، ان کے ساتھ تعاون ہی کیا حالانکہ روزمرہ کے ”سیاہ و سفید“ اور ”اندھیرے اجالے“ کے آمیزہ واقعات و مشاہدات سے کبیدہ خاطر ہوتا رہتا ہوں۔ یہ نہیں کہ اس محکمے میں صرف اندھیر ہی مچا ہے،6 اچھے بلکہ بہت اچھے لوگ بھی اس محکمے میں موجود ہیں صرف یہی محکمہ کیا ہر محکمے اور ہر طبقے میں اچھے بھی ہوتے ہیں اور برے بھی، مگر اس محکمے کے جن ملازمین کا عوام سے معاملہ رہتا ہے ، ان کی بدمعاملگیوں کی وجہ سے، دفاتر میں بیٹھے اچھے لوگ تک نگاہ نہیں جاپاتی، نچلی سطح کے ملازمین، ایسے قدم اٹھاتے رہتے ہیں کہ جن کا افسران کو پتہ تک نہیں ہوتا۔آج، میں، اپنے ساتھ روا رکھے گئے، ایک نہایت ناروا واقعہ سے، دل گرفتہ، یہ تحریر لکھ رہا ہوں۔ سچ ہی کہا جاتا ہے کہ خنجر کا لگا گھاؤ وہ تکلیف نہیں دیتا جو تلخ لفظوں کے گھاؤ دیتے ہیں ۔…. آج میرے ساتھ بھی انتہائی تکلیف دہ معاملہ ہوا ہے، چند پولیس ملازمین نے تذلیل آمیز نہیں بلکہ صریحاً ًذلیل کا رویہ اپنایا اور ناروا الفاظ سے میرا کلیجہ چھلنی کر دیا۔ میں گزشتہ شب ملتان میں ایک شادی سے فارغ ہو کر صبح نماز فجر کے وقت لاہور پہنچا، بکر منڈی بس اڈے سے رکشہ پکڑا اور بند روڈ کے راستہ نیازی چوک (بتی چوک، راوی روڈ) جا رہا تھا، جب شفیق آباد تھانہ (اور ڈی ایس پی آفس) کے سامنے پہنچا تو چار پولیس ملازمین، ناکے کے بغیر کھڑے لوگوں کو روک کر تلاشیاں لے رہے تھے، میرے والے رکشے کو بھی رکنے کا اشارہ کیا، میں نے خود ڈرائیور سے کہا سائیڈ پر کر کے رکشہ روک لو۔ابھی رکشہ رک رہا تھا کہ ایک ملازم نے دروازہ کھولتے ہی مجھے بدتمیزی سے کہا ”او مولوی! نیچے آ جاؤ۔“میں نے کہا”سائیڈ پر رک کر اترتا ہوں۔“ ساتھ ہی میں نے اپنے سرکاری و صحافتی کارڈز اسے دیئے، بجائے کارڈز دیکھنے کے ناروا انداز اور ناروا الفاظ و کلمات سے، پھر مجھے بیگ کی تلاشی دینے کا حکم دیا۔ میں نے صرف ایک فقرہ کہا ”کہ آپ بات تو اچھے انداز میں کریں۔ آپ سے بڑے میرے بچے ہیں، میری عمر کا لحاظ کر لیں اور پھر میں آپ کی بات بھی مان رہا ہوں ….“ مگر وہ اسی لہجے میں اور زیادہ تلخ الفاظ ادا کرنے لگ گیا، اس کی اس بلاوجہ بدتمیزی اور بدتہذیبی کو دیکھتے ہوئے مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ ”شاید اس نے کوئی نشہ کر رکھا تھا۔“ مجھ سے پوچھنے لگا کہاں سے آئے ہو؟“ ”میں نے جیب سے ٹکٹ کا حصہ نکال کے دکھایا، ” یہ دیکھیں، ملتان سے آ رہا ہوں“ اس پر پھر تلخ ہو گیا کہ ”میں نے تجھے بس میں بٹھانا ہے جو ٹکٹ دکھا رہے ہو، اس کو بتی بنا کر …….. میں نے پوچھا”آپ شفیق آباد تھانہ سے تعلق رکھتے ہیں؟ اکھڑ لہجے میں کہنے لگا”ہاں، شفیق آباد تھانے سے ہے، جو پٹنا ہے پٹ لے۔…….. میں نے اس گروپ میں سینئر نظر آنے والے سے کہا ”آپ اس کو سمجھائیں، یہ اپنا انداز اور لہجہ ٹھیک کر لیں …. تو سینئر کا جوب آیا”چل چل اپنی راہ لگ ……..میں نے سامان سمیٹا اور دل گرفتگی سے رکشے میں بیٹھ گیا، جو پانچ سات منٹ وہاں تذلیلا نہ گزرے اس سے ابھی تک ”شاک“ کی کیفیت میں ہوں۔ اگر وہ میرے کسی فقرے یا قدم کے ردعمل میں ایسی بدتمیزی اور بدتہذیبی کا مظاہرہ کرتا تو میں شاید اس معاملے کو نظر انداز کر دیتا، مگر وہ تو ابتدا ءہی سے جارحانہ اور تلخ تیر انداز میں ”اوئے توئے“ کیئے جا رہا تھا اور آخر تک کرتا رہا، میں اس کے الفاظ یہاں دُھرا نہیں سکتا اور لہجے کو بھی الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا۔یہ واقعہ منگل صبح پانچ بج کر دس منٹ پر پیش آیا ، تھانہ شفیق آباد کے سامنے، بند روڈ پر اس جانب جو سڑک بابو صابو سے شاہدرہ اور بتی چوک کی طرف آتی ہے۔ ان ملازمین نے بیجز اور ناموں کی پیٹی کے بغیر کمانڈو طرز کی بنیانیں پہن رکھی تھیں …. اس بدتہذیبی اور بدتمیزی پر بعض پولیس افسران نے اچھے انداز میں، ملازمین کے خلاف کارروائی کی بات کیتا ہم انہی کے ایک ماتحت نے کہا ایس پی صاحب اپنے دفتر بلا کر آپ سے ان ملازموں کو معافی دلوانا چاہتے ہیں۔“مجھے بھی امید نہیں کہ ان بدتمیز اور بدتہذیب پولیس ملازمین کا کچھ بگڑے گا …. مگر دفاتر میں بیٹھے اچھے افسران سے کچھ توقع بھی ہے۔ یہ تحریر اس لئے لکھ رہا ہوں کہ پولیس کے اچھے امیج کی توقعات لئے بیٹھے اچھے لوگ ، شاید اس سے کوئی تحریک پکڑیں اور عوام سے معاملات کرنے والے چھوٹے ملازمین کی اچھی تربیت کا کچھ سامان کر کے ”بدنام“ محکمے کو نیک نامی کی راہ پر لگا دیں …. خواہ کسی حد تک ہی سہی!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے