کالم

قوم کا مستقبل اور کرنٹ قانون

سہیل کوثر

ہم نے اپنی ابتدائی تعلیم میں اپنے اساتذہ کرام سے ہمیشہ ہی سنا ہے کہ آپ نوجوان تعلیم حاصل کر رہے ہو آپ اس قوم کا مستقبل ہو۔ آپ کے ماں باپ اور اس ملک قوم کو آپ سے روشن مستقبل کی امیدیں وابستہ ہیں ، آپ نے آگے چل کر اس ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے آپ میں سے ہی کوئی فوج میں جنرل اور کوئی ڈاکٹر اور کوئی سائنسدان بنے گا اور الحمدللہ ہم نے اس ملک میں رہتے ہوئے ڈاکٹر قدیر کے بعد it میں عرفا کریم جیسے ہونہار فخر دئیے ہیں. اپنے بچوں کو بھی یہی تاکید کی کہ آپ دل لگا کر اپنی تعلیم پر توجہ دیں اور دوران تعلیم کوئی ایسا کام نہ کریں جس سے آپ کے مستقبل پر کوئی داغ لگے بے خوف ہو کر اپنی تعلیم حاصل کریں لیکن معاملہ اس کے برعکس ہے۔ بچے تعلیمی حصول کے لئے ایک ایسے خوف میں مبتلا ہیں جو اس وقت ایک بگڑے رئیس زادے کی وجہ سے سارے ملک کے طالب علم کو بھگتنا پڑ رہا ہے پاکستان میں شناختی کارڈ کے لیے 18 سال کی عمر کی حد مقرر ہے اور اس عمر کے دوران بچہ میٹرک تک ہی پہنچ پاتا ہے اس دوران اس نے اپنے طور پر موٹر سائیکل چلانا سیکھ لی ہوتی ہے اور اپنی تعلیم کے حصول کے لیے اپنے سکول اور کالج میں آنا جانا ہوتا ہے۔ اب جب کہ پاکستان کی سب سے مضبوط نگران حکومت نے ایک ایسا خوفناک قانون بنا ڈالا ہے کہ ٹین عمر کے نوجوان اپنی تعلیم کے حصول میں تعلیم کی طرف کم اور پولیس کے پکڑے جانے پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں روز بروز ملک بھر میں سینکڑوں موبائل سنچ کی وارداتیں ہو رہی ہیں اور ہر شہرکا شہری خوف میں مبتلا ہے لیکن لاکھوں وارداتوں کا کوئی سراغ نہیں ملتا کیونکہ حکومت کوئی ایسا قانون نہیں بناتی کہ اگر ایک حد تک شہر میں ایسی ڈکیتی کی وارداتیں ہو جائیں تو ایسی پکڑ دھکڑ کریں کہ ملزمان کو بھاگنے کے لیے راستہ نہ ملے مگر ایسا کرنے کی بجائے ان انڈر 18 سال کے سٹوڈنٹ کو پکڑنے کے لیے ہر چوک چوراہے پر ایسے ناکے لگے ہوئے ہیں جیسے ہمیں صرف ان شریف شہریوں کو ہی پکڑنے کی ڈیوٹی دی گئی ہے ۔ اس سلسلے میں اگر آپ تھانوں کا وزٹ کریں تو گیٹ پر آپ کو روزانہ بڑی تعداد میں ان انڈر 18 سال کے نوجوانوں کے گھر والے پریشان ماں باپ کھڑے ملیں گے اب پولیس کرتی کیا ہے بچوں کو پکڑا اور تھانے میں جا کر ان کو بٹھا دیا ان سے
پوچھا جاتا ہے کہ آپ کے والد صاحب کیا کرتے ہیں اگر وہ مالی طور پر مضبوط ہیں تو ان سے بچے کو چھوڑنے کے ریٹ طے کیے جاتے ہیں۔ ان کو ایف آئی آر کے خوف میں مبتلا کر کے اچھی خاصی رقم لے کر رات گئے چھوڑ دیا جاتا ہے اور شریف النفس غریب شہری بیٹے کے خلاف ایف آئی آر ہو جاتی ہے جس تو اس کا مستقبل خراب ہو جائے گا کل کو اس نے اعلیٰ تعلیم کے لیے بھی بیرون ملک سفر کرنا ہے اس میں اس کا پولیس ریکارڈ بن گیا تو اس کا مستقبل برباد ہو جائے گا اس خوف میں والدین روزانہ اس کالے قانون سے اپنے بچوں کو بچانے کے لیے پولیس کے ہاتھوں بلیک میل ہو رہے ہیں پولیس کی تو چاندی سونا ہو گئی ہے پولیس کے اعلیٰ افسران اپنے سوشل میڈیا پیغام میں اس پولیس گردی کا اعتراف کرتے ہوئے تمام ڈی ایس پی ایس ایچ او حضرات کو وارننگ بھی جاری کر چکے ہیں کہ ہمارے علم میں پولیس مک مکا کا معاملہ آیا ہے لیکن ایک اعلیٰ پولیس افسر روزانہ کتنے تھانوں کا وزٹ کر کے معاملات کو چیک کر سکتا ہے ممکن نہیں قوم کا مستقبل جب پولیس کے ہاتھوں بغیر لائسنس کے موٹر سائیکل کے جرم میں جیل جائے گا تو اس کے اندر جو تھانے جیل کا خوف ہوگا وہ دم توڑ سکتا ہے اور آگے چل کر دوسرے کرائم میں بھی وہ ملوث ہو سکتا ہے کیونکہ اس کے اندر قانون کا احترام تو اس وقت متحرک ہو گیا جب اس نے تھانے کی حوالات کا منہ دیکھ لیا… اب وہ بے خوف بھی ہو سکتا ہے اور نفسیاتی مسائل سے دوچار بھی…
خدارا میری بطور صحافی بذریہ اپنا قلم سے اعلیٰ حکام سے درخواست ہے کہ تمام سکولوں اور کالجز میں جب بچہ 8th کلاس سے آگے ا ٓجائے تو اس کو ٹریفک قوانین کا ایک کورس کروایا جائے جس میں موٹر سائیکل چلانے سے لے کر تمام ٹریفک قوانین کی آگاہی شامل ہو۔ تاکہ آگے چل کر اس کے لئے ڈرائیونگ لائسنس کے لیے بھی آسانی پیدا ہو جائے گی اور اس کورس میں جو بچہ موٹر سائیکل با آسانی چلا کر ٹیسٹ پاس کر لے اس کو شناختی کارڈ سے پہلے جس طرح بے فارم کی بنا پر پاسپورٹ جاری کیا جاتا ہے اسی طرح ان کو کم از کم موٹر سائیکل کا لائسنس اس کے سٹوڈنٹ کارڈ کے ساتھ جاری کر کے حکومت پاکستان اپنے مستقبل کو بچا سکتی ہے ۔اور یہی طالب علم اپنی تعلیم کو اپنے سفر کو محفوظ بناتے ہوئے بے خوف سکول اور کالجز ا ٓجا سکیں گے۔ ترقی یافتہ ممالک میں فوجی ٹریننگ کے ساتھ ملکی قوانین کی تعلیم بھی دی جاتی ہے اور قانون ان پر ایف آئی آر درج کرنے کی بجائے ان کو تعلیم دیتا ہے۔ جس سے معاشرے میں بگاڑ کم پیدا ہوتا ہے اگر ہم نے اپنے ملک پاکستان میں ترقی پذیر ممالک کی صف میں سے نکال کر ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل کرنا ہے تو ہم کو کچھ عملی اقدامات ایسے کرنے ہوں گے جن سے ہمارے نوجوان ملک کے قانون سے پیار کریں اور اس کا احترام کرتے ہوئے اپنی تعلیم مکمل کریں ۔پاکستان زندہ باد پاک فوج زندہ باد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے