کالم

قومی خزانے پر بوجھ نہیں پڑے گا؟

محسن گورایہ

جس وقت پاکستان میں مہنگائی، غربت اور کڑے اقتصادی حالات کے مارے پاکستانیوں کی گنجائش سے زیادہ لدی کشتی یونان کے ساحل سے اسی کلومیٹر اندر گہرے سمندر میں ڈوب رہی تھی اس وقت پاکستان میں چیئرمین سینیٹ، ڈپٹی چیئرمین، اپوزیشن لیڈر اور قائد ایوان سمیت اراکین سینیٹ کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کے ترمیمی بل لانے کی مل جل کر تیاریاں ہو رہی تھیں، یہ بل جس روز پیش کئے گئے ، اسی روز منظور بھی کر لئے گئے۔ ایوان نے بلوں کی شق وار منظوری دی، عوام کو دلاسا یہ دیا گیا کہ اس بل سے اراکین کی تنخواہوں اور مراعات میں کوئی فرق نہیں آ رہا اور یہ کہ ان بلز کی منظوری سے ملکی خزانے پر بھی کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ کیسا جادو ہے کہ تنخواہوں اور مراعات میں اضافہ تو ہو گا لیکن قومی خزانے پر بوجھ نہیں پڑے گا،کیا ایسے کچھ بل عوام کے لئے بھی منظور کرنے کی ضرورت نہیں ہے جن سے عوام کی مالی ضروریات تو پوری ہوں، ان کی قوتِ خرید تو بڑھے تاکہ وہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کا مقابلہ کرنے کے قابل ہو سکیں لیکن جس سے قومی خزانے پر بوجھ نہ پڑتا ہو؟ بلکہ میرا تو مشورہ یہ ہے کہ حال ہی میں اگلے مالی سال کا جو قومی بجٹ پیش کیا گیا ہے اسے ترک کر کے ایوانِ بالا کی طرز پر ایک ایسا بجٹ تیار کیا جائے جس میں تمام شعبوں کی ضروریات کو پیش نظر رکھتے ہوئے بھاری رقوم مختص کی جائیں لیکن اس طریقے سے کہ قومی خزانے پر بوجھ نہ پڑے، بڑھتی ہوئی مہنگائی کا علاج اس کے سوا کچھ اور نہیں ہو سکتا کہ عوام کو مراعات اور سبسڈیاں دی جائیں اور ان کی آمدنیوں میں اضافہ کیا جائے۔ ساری دنیا ان دنوں مہنگائی کے شدید اثرات کی زد میں ہےلیکن تمام ترقی یافتہ ممالک میں مہنگائی کے اثرات کا مقابلہ عوام کی آمدنیوں میں اضافہ کر کے ہی کیا جا رہا ہے۔ ایسے اقدامات پاکستان میں بھی کئے جانے چاہئیں لیکن شرط یہ ہے کہ ایسا فارمولہ بنایا جائے جس سے عوام کے مسائل حل ہو جائیں اور ان کے لئے اپنی مشکلات پر قابو پانا آسان ہو جائے لیکن قومی خزانے پر اس کا بوجھ نہ پڑے۔منظور کئے گئے بل میں کس کس کی مراعات میں کتنا اضافہ کیا گیا ہےیہ سب کچھ خبروں میں آ چکا ہے اس لئے اس کی تفصیل میں جانا ضروری نہیںلیکن یہ سوچنا بے حد ضروری ہے کہ ڈیفالٹ کے دھانے پر پہنچے ہوئے ملک میں اس طرح مراعات میں بے تحاشا اضافہ چہ معنی دارد؟ کیا چالیس فیصد سے زیادہ مہنگائی کی چکی میں پستے اور دو وقت کی روٹی کو ترستے عوام کے ساتھ یہ مذاق کے مترادف نہیں ہے؟ دوسروں کو سادگی اور وطن پرستی کا سبق دینے والے آخر خود اس نعمت سے محروم کیوں محسوس ہوتے ہیں؟ پاکستان پیپلز پارٹی نے چیئرمین سینیٹ کی مراعات کے بل کو مسترد کر دیا ہے اور ترجمان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز وفاقی وزیر برائے تخفیف غربت شازیہ مری نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پیپلز پارٹی نے چیئرمین سینیٹ کے مراعات کے بل کو تسلیم نہیں کیا ہے۔ ادھر امیر جماعت اسلامی نے کہا ہے کہ سینیٹ میں مراعات میں اضافہ کرنا غریب قوم کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے حکمرانوں کے پروٹوکول پر غریب کا پیسہ خرچ ہو رہا
ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا مراعات کے بل کو مسترد کر دینا یا بل کو غریبوں کے زخموں پر نمک پاشی قرار دے دینا کافی ہے؟ کیا اس طرح سارے مسائل حل ہو جائیں گے؟18 فروری 2023ء کو سینیٹر مشتاق احمد نے 87 رکنی وفاقی کابینہ کو دنیا کی سب سے بڑی کابینہ قرار دیتے ہوئے ملک کو معاشی دلدل سے نکالنے کی طرف قدم بڑھاتے ہوئے ججوں، جرنیلوں اور قانون سازوں کے لئے مراعات ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا، انہوں نے کہا تھا کہ ایک ریٹائرڈ جج کو ماہانہ پنشن کی مد میں تقریباً 10 لاکھ روپے ملتے ہیں، اس کے علاوہ مفت بجلی کے 2 ہزار یونٹ، 3 سو لیٹر مفت پٹرول اور 3 ہزار روپے کی مفت فون کالز ملتی ہیں حالانکہ اس لگژری طرز زندگی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ 60 بلٹ پروف لگژری گاڑیاں صرف کابینہ کے ارکان کے استعمال میں ہیں، جبکہ دیگر بڑے افراد کے پاس ایسی گاڑیاں ہیں جو ایک ٹرک جتنا تیل استعمال کرتی ہیں۔ انہوں نے ایسی اور بھی خاصی تفصیلات بیان کی تھیں جن کا یہ کالم متحمل نہیں ہو سکتا لیکن سوچنے کا مقام ہے کہ جو ملک دیوالیہ ہونے کے قریب ہوجس کی حکومت عوام پر آئی ایم ایف کی شرائط کو ناقابلِ برداشت بوجھ صرف اس لئے ڈال رہی ہو کہ اس کے بغیر گزارہ نہیں اور جس کی نوجوان نسل ملک میں اپنا مستقبل بہتر نہ پا کر غیر قانونی طریقے سے باہر جانے کی مشکلات کا سامنا کرنے کے لئے تیار اور اس کوشش میں اپنی جانیں گنوا رہی ہو اس ملک کے حکمرانوں کو لگژری زندگی کی تعیشات زیبا دیتی ہیں؟ بجائے اس کے کہ ان کے مطالبات پر توجہ دیتے ہوئے مراعات میں کمی کی جاتی الٹا مراعات میں اضافے کئے جا رہے ہیں۔فروری میں ضمنی بجٹ پیش کرتے وقت وزیر مملکت برائے خزانہ ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا نے کہا تھا کہ وزیر اعظم شہباز شریف تمام سرکاری اداروں میں کفایت شعاری کے بڑے اقدامات کا اعلان کریں گے تاکہ حکومتی اخراجات کو کم سے کم کر کے مالیاتی خسارے پر قابو پایا جا سکے۔ وہ کفایت شعاری اقدامات کہاں ہیں؟ ابھی گزشتہ ہفتے ہی مراعات میں اضافے کے لئے جو بل منظور کئے گئے ہیں کیا وہ ان کفایت شعاری اقدامات کا حصہ ہیں؟ تب وزیر مملکت نے تمام سیاسی جماعتوں اور دیگر سٹیک ہولڈرز پر زور دیا تھا کہ وہ ضرورت کی اس گھڑی میں حکومت کا ساتھ دیں، کیونکہ ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کے لئے سخت فیصلوں کی اشد ضرورت ہے،دوسراسوال یہ ہے کہ مراعات میں اضافوں کے بلوں کی منظور ی سخت فیصلوںکا حصہ سمجھی جائے؟یہ حقیقت بارہا سامنے آ چکی اور ثابت ہو چکی ہے کہ عوام سے ہمدردی جتانے اور ان سے الفت کا دم بھرنے والے سیاسی رہنما جب منتخب ہو کر حکومتی ایوانوں میں پہنچتے ہیں تو سب سے پہلے اپنی ضروریات پوری کرنے پر توجہ دیتے ہیں اور ان لوگوں کو بھول ہی جاتے ہیں جن کے ووٹوں نے انہیں اعلیٰ ایوانوں تک پہنچایا ہوتا ہے، ہونا تو یہ چاہئے کہ حاکم روٹی اس وقت کھائے جب اسے یقین ہو جائے کہ اس کی ساری رعایا پیٹ بھر چکی، خلیفہ راشد حضرت عمر نے کہا تھا کہ دجلہ و فرات کے کنارے ایک کتا بھی بھوکا پیاسا مر گیا تو ان کی پکڑ ہو گی تو یہ کوئی عام سی بات نہیں تھی، یہ ایک بہت بڑا استعارہ ایک بہت بڑی تنبیہ تھی۔ ہم خلیفہ راشد کی یہ مثال تو بار بار دھراتے ہیںلیکن ذرا جائزہ لیجئے کوئی ایک بھی حکمران ان پیرامیٹرز پر پورا اترتا ہے جو خلیفہ راشد نے طے کئے تھے۔ کشتیاں الٹ رہی ہیںلوگ بھوکے مر رہے ہیں خود کشیاں کر رہے ہیں اپنی ایک ضرورت پوری کرنے کے لئے کسی دوسری ضرورت کا گلا گھونٹ رہے ہیں، فاقوں پر مجبور ہو رہے ہیں لیکن ہمارے حکمران اپنی مراعات میں اضافوں پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں اور یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ اس سے قومی خزانہ متاثر نہیں ہو گا، کیا آپ اس بات پر یقین کریں گے؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Diyarbakır koltuk yıkama hindi sex