کالم

قبر کے ہولناک عذاب سے کیسے بچیں؟

راناشفیق خان

طبرانی شریف کی حدیث میں اس کی تھوڑی سی تفصیل موجود ہے، قبر انسان کو اسی زبان حال سے مخاطب کر کے کہتی ہے :اے انسان! تو نے اس وقت کیوں یاد نہیں رکھا، جب تو اتراتے ہوئے، بڑے فخر سے، بڑئے غرور سے، کبر اور نخوت سے میری پشت پر چلا کرتا تھا۔تو نے اپنی زندگی میں محسوس کیا اور تجھے بتلایا بھی گیا تھا کہ میں تنہائی، وحشت اور کیڑوں کا گھر ہوں، یہ جانتے ہوئے کہ تو نے یہاں آنا ہے، تو میرے لئے کون سا عمل تیا ر کر کے آیا ہے جوآج اس تنہائی اور وحشت کو تیرے لئے جائے سکون، کیڑوں کی بجائے تیر ی عزت اور مہمانی میں بدل دے۔ایک اور حدیث جو شعب الایمان میں بیہقی نے روایت کی ہے، نبی اکرم ؐ کا فرمان ہے کہ انسان کی قبر اس کو ہر روز آواز دیتی ہے، زبان حا ل سے اس کو پکارتی ہے :دیکھنے والو! میں تنہائی، وحشت اور کیڑے مکوڑوں کا گھر ہوں، مجھے صرف زمین میں کھودا ہوا ایک گڑھا نہ سمجھا کرو۔مَیں جہنم کا گڑ ھا ہوں، یا جنت کی کیاری ہوں، تمہارے اعمال اور تمہارا عقیدہ تمہارے لئے مجھے جہنم کا گڑھا بنائے گا یا جنت کی کیاری میں تبدیل کرے گا۔ [شعب الایمان، فصل فی عذاب القبر : ۱/۰۶۳]حدیث کے مطابق مومن سے قبر زبان حال سے کہتی ہے کہ مجھے بتلایا گیا تھا کہ یہ مومن تمہارے اندرآنے والا ہے، جب سے مجھے یہ پتہ چلا ہے کہ یہ مومن میرے اندرآنے والا ہے، میں اس وقت سے محبت کے ساتھ تمہارا انتظار کر رہی تھی تاکہ تمہیں آرام پہنچاؤں، جبکہ اس کے بر عکس کافر سے یہ کہتی ہے :جب تو میری پشت پر بد عملی کرتاتھا، میری سطح پر برے عقیدے اور برے عمل کے ساتھ چلتا پھرتا تھا، اس وقت سے میرے اندر تیرا بغض اور دشمنی موجود ہے۔ تو میرے پاس آگیا ہے اب میں تجھ سے وہ سلوک کروں گی جس کے لئے اللہ تعالیٰ نے مجھے تجھ پرمسلط کیا ہے۔پھر قبر اس کو دباتی ہے حتی کہ اس کی پسلیاں ادھر سے ادھر اور ادھر سے ادھر نکل جاتی ہیں اور یہ خیال مت کرو کہ یہ صرف کافر کے لئے ہے۔مسند أحمد (۴/۷۸۲) رقم (۷۵۵۸۱)]طبقات ابن سعد اور حدیث کی دوسری کتابوں میں یہ روایت موجود ہے، نبی اکرم ؐ نے حضرت سعد بن معاذ جیسے جلیل القدر صحابی کی وفات کے بعد ان کے بارے میں فرمایا :سعد نیک آدمی اور اچھے عقیدے کا مالک تھا، نبی اکرم ؐ کا یہ صحابی پیشاب کے چھینٹوں سے پرہیز نہیں کرتا تھا، انہوں نے جسم اور کپڑے تھوڑا بہت پیشاب سے آلودہ ہونے کی صورت و حالت میں کچھ نمازیں ادا کی تھیں۔ پیشاب کے چھینٹوں سے پرہیز نہ کرنے کے صلے میں آپ ؐ نے فرمایا کہ سعد کو بھی ایک دفعہ اس کی قبر نے دبایا تھا، اس کی پسلیوں کو جھنجوڑا تھا، اس لئے کہ وہ پیشاب کے چھینٹوں سے پرہیز نہیں کرتا تھا اور ساتھ ہی آپ ؐ نے فرمایا کہ اگر کوئی قبر کے جھٹکے سے بچ سکتا ہوتا تو سعد بن معاذ ضرور بچ جاتا۔ (طبقات ابن سعد)اس سے معلوم ہوا کہ اگر مومن اور اچھے عقیدے کا مالک بھی بدعمل ہے تو جس طرح اللہ تعالیٰ آخرت میں اس کو بدعملی کی سزا دے سکتا ہے یا دے گا اسی طرح عالم برزخ اور قبر کے عالم میں بھی سزا مل سکتی ہے۔مسند احمد میں عالم برزخ اور عالم قبر کے سلسلے میں ایک روایت ہے کہ قبر کے اندر کافر پر تکلیف دینے والے سانپ مسلط کئے جاتے ہیں اور مومن کے لئے ارشاد فرمایا:اس پر جنت کی کھڑکیاں کھولی جاتی ہیں اور کہا جاتا ہے کہ ( ابھی وہ جنت میں گیا نہیں ہے نشا ط و سرور اور راحت دینے کے لئے اس کو دکھایا جاتا ہے ) جنت میں تیرا ٹھکانہ یہ ہے کیونکہ تو نے اپنی زندگی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت میں بسر کی تھی اور ساتھ ہی اسے دور سے جہنم کا نظارہ کرایا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے :اگر تو اللہ اور اس کے رسول ؐکی اطاعت نہ کرتا، تیرا عقیدہ اور عمل اچھا نہ ہوتا تو پھر تیرا ٹھکانہ یہ تھا۔ یہ تیری مسرت، فرحت اور خوشی کے لئے کیا جاتا ہے کہ تو اس سے بچ گیا ہے اور یہ مل گیا ہے۔ اسی طرح کافر اور بدکار کو بھی دونوں چیزیں دکھائی جاتی ہیں، قرآن مجید نے کہا ہے:مسند احمد(اَلنَّارُ یُعْرَضُوْنَ عَلَیْھَا).[المؤمن:۶۴]حدیث میں بھی کہا گیا ہے کہ آگ میں داخل نہیں کیا جاتا بلکہ آگ پیش کی جاتی ہے، اس کو بھی دکھایا جاتا ہے کہ اگر تو نیک اور اچھے عقیدے کا مالک ہوتا تو یہ جنت تجھ کو ملنا تھی، اب تو نے اچھے عمل اور عقیدے سے زندگی بسر نہیں کی لہٰذا تیری منزل اور تیرا آخری ٹھکانہ جہنم ہے جس میں تجھے ڈالا جائے گا۔اس مشکل وقت میں انسان کے کام آنے والی چیز عقیدے کے بعد اس کا عمل ہے۔ بیہقی میں ایک اور روایت ہے :جب آدمی فوت ہوتا ہے تو اس کے وارث کہتے ہیں، یہ کیا چھوڑ کر گیا ہے ؟ ان کی نظر اس پر ہوتی ہے، جو وہ چھوڑ کر جار ہا ہے، اور ملائکہ آپس میں کہتے ہیں اس نے کیابھیجا ہے انہیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ وہ بہت بڑا مکان، کوٹھی، اور محل چھوڑ کر جا رہا ہے۔ بڑی کامیاب، یا منصب اور عہدوں پر فائز اولاد چھوڑ کر جا رہا ہے۔ بہت بڑا بینک بیلنس اور دولت چھوڑ کر جا رہا ہے۔ان چیزوں سے ان کو غرض ہے جو پیچھے رہ گئے ہیں وہ ان چیزوں کو دیکھتے ہیں۔ اب عمل کس طرح کام آتا ہے، اس کی تفصیل کچھ اس طرح ہے :عذاب قبر کے فرشتے نیک انسان کے پاؤں کی طرف سے آتے ہیں ( وہ پاؤں جو نما زمیں قیام کرتے تھے، جو اسے مسجد اور نیکی کی طرف لے کر جاتے تھے ) تو نیک قدم ان کو روک لیتے ہیں، عذاب کو نہیں آنے دیتے، ہاتھوں کی طرف سے آتے ہیں، نیک انسان کو عذاب تو نہیں ہوگا، لیکن اسے یہ بتانے اور ہمیں یہ سبق سکھانے کے لئے کہ انسان کا نیک عمل کس طرح عذاب کو روکتا ہے، حدیث نے اس کی منظر کشی کی ہے۔بالفرض اگر پاؤں کی طرف سے عذاب آتا ہے، تو نیکی کی طرف جانے والے نیک قدم اس کو روکتے ہیں۔ ہاتھوں کی طرف سے آتا ہے تو نیک اور اچھے ہاتھ جس سے وہ خیرات کرتا تھا، جس سے وہ وضو کرتا تھا، جس سے وہ نیکیاں کرتا تھا آنے والے عذاب کو روک لیتے ہیں۔ سامنے کی طرف سے آتا ہے تو وہ منہ اور زبان جس سے وہ ذکر الٰہی کرتا تھا، جس سے تلاوت کرتاتھا، جس سے نیکی کی باتیں کرتاتھا، آنے والے عذاب کو روک لیتا
ہے۔گویا بتلایا کہ نیکی عذاب اور بندے کے درمیان حائل ہو کر اسے روک لیتی ہے۔اسی طرح تلاوت قرآن عذاب کو روک لیتی ہے، نیکیوں اور تلاوت قرآن کے ساتھ ساتھ بالخصوص قرآن پاک کی دو سورتوں کے بارے میں اللہ کے نبی ؐ نے فرمایا کہ یہ عذاب قبر کو روکنے کے لئے اکسیر کا کام دیتی ہیں، عشاء کے بعد روزانہ ان کی تلاوت کرنی چاہئے، ایک انتسویں پارے کی پہلی تیس آیات والی ’’سورۃ الملک ‘‘ ہے۔ دوسری اکیسویں پارے کی ’’سورۃ السجدہ ‘‘ ہے۔ یہ جن کو یاد ہیں یا جو یاد کر سکتے ہیں ان کو یاد کرنی چاہئیں، ورنہ سورۃ الملک ضرور یاد کرنی چاہئے اور جن کو یاد نہیں ہے، یا جن کے لئے یاد کرنا مشکل ہے ان کو قرآن مجید میں سے دیکھ کر عشاء کے بعد تلاوت کرنی چاہئے۔قبر کے عذاب اور ثواب کے بارہ میں آج سے نہیں مدت سے لوگ شکوک و شبہات پیدا کرتے اور ان کا شکار بھی ہیں۔ ایک بات تو کہی ہی جاتی ہے جس کا میں نے شروع میں تذکرہ کیا کہ جناب عذاب قبر یا ثواب قبر قرآن سے ثابت کریں۔ میں اس کے بارہ میں مختصر طو ر پر دہراتا ہوں کہ اس کی بنیاد قرآن کے اندر ہی ہے، جس طرح باقی مسائل، نماز، حج اور زکوٰۃ کی ہے۔یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کر لیں کہ کوئی بھی مسئلہ مثلاً عذاب قبر ہے، نماز ہے، روزہ ہے، روزے کے بارے میں قرآن مجید نے با ر بار نہیں کہا، نماز اورزکوٰۃ کے بارے میں تو ہے، لیکن حج کی طرح روزے کو فرض کرنے والے رکوع میں بھی بنیادی ایک آیت کریمہ ہے:ایک آیت ہے جس نے روزے فرض کئے ہیں، لیکن وہ پورے مہینے کے روزے، ساری زندگی کے لئے روزے فرض ہوئے، اگر ایک آیت حج اور روزہ فرض کر سکتی ہے تو آیت حالانکہ آیات زیادہ ہیں، لیکن ایک بنیادی آیت عذاب قبر کو ثابت کر سکتی ہے۔دوسری بات مشاہدے کی ہے کہ اگر پرانی قبر کو کھودا جائے، یا وہ کسی طرح کھل جائے تو اس میں خاک اور ہڈیوں کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا، زیادہ سے زیادہ انسان کے جسم کے ذرات ہوتے ہیں، وہ عذاب، ثواب، راحت یا تکلیف کو کس طرح محسوس کرتے ہیں، یا یہ ہے کہ قبر کھولی جائے تو اس میں کوئی کھڑکی نظر نہیں آتی کہ یہ جنت کی طرف کھلتی ہے یا جہنم کی طرف ہمیں تو نظر نہیں آتی، یہ بھی غلط فہمی ہے۔یہ بات سمجھ لیں کہ جو چیزیں عالم برزخ اور عالم آخرت کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں، اللہ تعالیٰ کی مشیت اور اس کا فیصلہ یہ ہے کہ انسان ا س دنیا میں ان کو آنکھوں سے نہیں دیکھ سکتا۔ اسی کی ایک بڑی موٹی سی مثال ہے، جبریل علیہ السلام نبی کریم ؐ کے پاس جو الگ آتے تھے وہ تو آتے تھے، لیکن کئی دفعہ صحابہ کی موجودگی میں وحی لے کر آئے، صحابہ کرامؓ نے اس کے کچھ اثرات تو محسوس کئے کہ آپ ؐ کی پیشانی عرق آلود ہو گئی، آپ نے بوجھ محسوس کیا، صحابہ نے جبریل کو دیکھا نہیں، لیکن نبی ؐ دیکھ رہے ہوتے تھے، اور صحابہ نہیں دیکھ رہے ہوتے تھے، ایسے کئی مواقع ہیں۔پہلا واقعہ :مشہور مستند اور صحیح واقعہ ہے کہ ایک دفعہ نبی کریم ؐ نماز پڑھ رہے تھے، آپ ؐ نماز کے دوران آگے بڑھے پھر پیچھے ہٹے، نماز کے بعد پو چھا گیا جناب! ہم نے پہلی مرتبہ دیکھا ہے کہ آپ نماز ادا کرتے کرتے آگے بڑھے جیسے کوئی چیز پکڑنے لگے ہیں، پھر پیچھے ہٹے ہیں، یہ کیا بات ہے ؟ تو آپ ؐ نے فرمایا :’’نما زمیں جنت کا ایک منظر میرے سامنے آیا، جنت کے انگوروں کے لٹکتے ہوئے، خوشے میرے سامنے پیش کئے گئے، یہ اتنا حقیقی منظر تھا کہ میں بے اختیار یہ خیال لے کر آگے بڑھا کہ میں کوئی خوشہ توڑ لوں اور نماز کے بعد اپنے صحابہ کو کھلاؤں، لیکن جونہی آگے بڑھا تو یکا یک وہ منظر بدل گیا اور پھر:جہنم کا ایک منظر سامنے آیا اور وہ منظر بھی اتنا حقیقی تھا کہ میں بے اختیار پیچھے ہٹا کہ اس کی کوئی لپٹ مجھے اپنی لپیٹ میں نہ لے لے۔ (بخاری)اب یہ دونوں چیزیں جنت کے میوے اور جہنم کی آگ کے شعلے نبی کریم ؐ نے عیاں اپنی آنکھوں سے دیکھے لیکن جتنے صحابہ پیچھے موجود تھے ان میں سے کسی ایک نے بھی نہیں دیکھے تھے۔ یہ دونوں مثالیں یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہیں کہ دوسرے جہاں کے واقعات، مناظر اور چیزیں اس طرح نظر نہیں آتیں۔حدیث پاک میں بھی کہا گیا ہے کہ اگر عذاب قبر کے مناظر ۔۔۔ وہ چیخیں اور آوازیں جو عذاب کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہیں، اگر دنیا والے وہ مناظر دیکھ لیں یا ان آوازوں کو سن لیں تو وہ خوف اور دہشت کے مارے اپنے مردوں کو دفنانا چھوڑ دیں۔ اس لئے وہ مناظر نہ دکھائے جاتے ہیں، نہ سنائے جاتے ہیں، جس طرح ہم جہنم نہیں دیکھ رہے، اس دنیا میں جنت کوئی نہیں دیکھ سکتا، لیکن ان کی خبر صادق المصدوق پیغمبر ؐ نے دی ہے، خواہ وہ خبر قرآن مجید میں ہے یا صحیح حدیث میں، اس کو ماننا اور تسلیم کرنا مومن کا کام ہے۔شاہ ولی اللہ ؒ عام انسان، تجربے اور عام انسانی زندگی سے مثال دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اگر تمہاری عقل سو فیصد عذاب قبر کو سمجھنے سے قاصر ہے توپھر کم از کم اتنا ہی سمجھو کہ جس طرح انسان دیکھتا خواب ہے، لیکن اس کے اثرات فزیکلی محسوس کرتا ہے، اسی طرح قبر میں اس کو نقشے دکھائے جاتے ہیں اور وہ نقشے حقیقی ہوتے ہیں کیونکہ قرآن مجید نے کہا ہے یا حدیث نے کہا ہے کہ دوسری چیزیں پیش کی جاتی ہیں، لیکن انسان ان کے اثرات ذہنی، روحانی اور جسمانی طور پر محسوس کرتا ہے، وہ کس حد تک جسمانی، روحانی، ذہنی ہوتے ہیں، یہ ہم نہیں جان سکتے، کیونکہ ہمارے پاس اس زندگی کے متعلق پورا علم ہی نہیں۔جیسے قرآن مجید نے کہا ہے کہ شہداء زندہ ہیں، لیکن ساتھ ہی کہا (وَلٰکِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ ) [البقرۃ:] تم ان کی زندگی کا شعور نہیں رکھتے کہ اس کی کیفیت اور تفصیل کیا ہے، شہداء کی اپنی کیفیت ہے۔ لیکن عام مردہ بھی پورا مردہ نہیں ہوتا، اس کے بدن اور روح کا کنکشن باقی رہتا ہے جو جسم ہمارے سامنے موجود ہے اور جو روح اس کے اندر موجود ہے، سائنس اور فلسفے کی ترقی کے باوجود ان کا بھی پورا کنکشن اور تعلق نہیں سمجھ سکے، قرآن مجید نے روح کے بارے میں خاص طور پر کہا :(قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِرَبِّیْ وَمَآ اُوْتِیْتُمْ مِنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِیْلًا).[الإسراء:]تمہیں روح کے بارے میں بڑا تھوڑا علم ہے، سائنسی ترقی ہونے کے باوجود آج بھی یہ بات درست ہے کہ تمہیں روح کے بارے میں زیادہ علم نہیں اس لئے کہ اس کی پوری کیفیت نہ سمجھی جا سکتی ہے اور نہ ہی بیان کی جا سکتی ہے۔ لیکن صرف سمجھانے کے لئے شاہ صاحب کی یہ مثال ہے اگر تم اور نہیں سمجھ سکتے تو کم از کم اتنا ہی سمجھ لو کہ جس طرح خواب میں آدمی محسوس کرتا ہے اور اس پر وار داتیں بھی گزر تی ہیں، اس کو قبر میں وہ مناظر حقیقی دکھائے جاتے ہیں، لیکن کسی حد تک جسمانی کے ساتھ یہ روحانی تعلق ضرور ہوتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Diyarbakır koltuk yıkama hindi sex