کالم

غزہ جل رہا ہے!

محمدابشام

فتح مکہ کے موقع پر انسانی تاریخ کے سب سے عظیم سپہ سالار فاتح بن کر مکہ میں داخل ہو رہے ہیں ۔ جہاں تیرہ برس تک نبی کریمؐ نے مصائب کے پہاڑ جھیلے اور تکالیف برداشت کیں مگر زبان شکوئوں سے پاک تھی۔ اصحاب رسولؐ سمجھ رہے تھے کہ آج قریش مکہ سے ان کے ظلم و جبر کا حساب لیا جائے گامگر قربان جائیں رحمت دو عالم کی ذات اقدسؐ پر فرمایا آج عام معافی کا دن ہے سب کو معاف کیا جاتا ہے اور اس موقع پر عفوو درگزر کی ایسی تابندہ مثالیں قائم کیںکہ اقوام عالم کے لئے یہ پیغام چھوڑ گئیںکہ جنگیں خونی دریا بہانے کے لئے نہیںبلکہ مغلوب ریاست میں امن و سلامتی قائم کرنے کے لئے لڑی جاتی ہیں۔ آجطاقت کے نشے میں بدمست دہشتگرد اسرائیل ابرہہ کی تاریخ دہرانے کے لئے لائو لشکر سمیت دنیا کے جدید اسلحہ سے لیس قبلہ اول اور غزہ پٹی میں آگھسا ہے آج مغربی شیطانی قوتیں امن والے کریم نبی ؐکے مٹھی بھر نہتے لاچار امتیوں پر چڑھ دوڑی ہیں اور بے آسرا فلسطینی مسلمانوں کو بے دردی کے ساتھ بارود سے چھلنی کیا جار ہا ہے سہاگ اجڑ رہے ہیں مائوں کی گودیں خالی ہو رہی ہیں اور بہنوں کے سر سے حیا کے آنچل اتر رہے ہیں پچہتر برسوں سے اپنے پیاروں کی لاشیں اٹھانے والے غیور فلسطینی کب تک بے گناہ لاشے اٹھائیں اور ننھے منے معصوم پھولوں کو بارود سے جھلستا ہوا دیکھیں ،مگر حیف ہے دنیا بھر میں انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والی تنظیموں پر جو کسی جانور کے مر جانے پرتو واویلا کرتی ہیںمگر وہ کشمیر اور فلسطین میں ہونے والے بے دریغ قتل عام پر خاموش ہیں۔جو دین ایک انسان کے ناحق قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے اسی اسلام کے ماننے والے امت محمدیہ کی امت کے لوگوں کا خون اس قدر ارزاں ہے کہ اسے پانی کی طرح بہایا جارہا ہے۔ اہل یہود نے سفاکیت و درندگی کی انتہا کرتے ہوئے غزا کے بے بس مسلمانوں پر نیوکلئیر وار توڑ ڈالی اور ان پر فاسفورس بم برسائے جا رہے ہیں جس سے مسلم خواتین اور بچوں کے جسم پگھل رہے ہیںغزہ میں کربلا برپا کر دی گئی ہے جہاں پینے کے لئے پانی اور نہ ہی خوراک کا مناسب بندوبست ہے ادویات بھی نا پید ہیںصرف بھیانک موت رقصاں ہے جس کے انتظار میں مائیں اپنے شیرخوار بچے اپنی گودوں میں لئے بیٹھی سسک رہی ہیںاور اس خون کی ہولی کے لئے تمام باطل قوتیں یکجا ہو چکی ہیں۔ اگر نسل پرست اسرائیلی یہودی سوچ رہے ہیں کہ وہ فلسطین میں مسلمانوں کی نسلی کشی میں کامیاب ہو جائیں گے تو یہ ہر گز ممکن نہیں ان کے مد مقابل وہ غیور لوگ ہیںجن کی مائیں انھیں پیدا ہونے پر شہادت پانے کی گھٹی پلاتیں اور جہاد کی لوریا ں سناتی ہیںجو خوشی سے شہادت کا جام پی جاتے ہیں ان کی زندگی بارود کی چھائوںمیں پل بڑھ کر جوان ہوتی ہے حماس کے مجاہدین سر پر کفن باندھ کر نکلے ہیں۔مغربی طاقتیں یہ سمجھتی ہیں کہ بارود کے زور پر مٹھی بھر مجاہدین
اسلام اور نہتے فلسطینوں کو زیر کر لیا جائے گامگریہ بات ملحوظ خاطر رکھی جائے کہ اس ضمن میں تاریخ کے دریچوں سے پھر سے عالمی جنگ جھانک رہی ہے اور اگر یہ جنگ چھڑی تو آخری جنگ ہو گی!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Diyarbakır koltuk yıkama hindi sex