کالم

غزہ بچوں کا قبرستان،عالمی ضمیر داغدار

ایم ڈی طاہر جرال

غزہ میں خواتین اور بچے نہیں مر رہے وہاں دنیا بھر کی انسانیت مر رہی ہے غزہ میں بچے نہیں انسانیت کے نام پر دنیا کے منصف سسکیاں لے رہے ہیں ان بچوں کا خون ان کی آہیں ان بچوں کے آنسو پوری دنیا کے مسلمانوں کو پکار رہے ہیں ان کی معصوم ننھی منی لاشیں پوری دنیا کی انسانیت پر بین کر رہی ہیں اب تک کی اطلاعات کے مطابق شہید بچوں کی تعداد 5000 ہزار کے قریب ہے 7000 ہزار بچے زخمی ہیں 1100 بچے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں روزانہ کی بنیاد پر 500 کے قریب بچے اسرائیلی بمباری کی وجہ سے شہید ہو رہے ہیں غزہ اس وقت بچوں کے قبرستان میں بدل گیا ہے،اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال نے بھی خبر دار کیا ہے کہ 11 لاکھ بچوں کی زندگیوں کو پانی کی کمی کی وجہ سے ڈی ہایئڈریشن ہونے سے سخت خطرہ ہے انہوں نے یہ بھی کہا کہ غزہ میں بچوں کی اموات ہمارے ضمیر پر بدنما داغ ہے انہوں نے اسرائیل کی
وحشیانہ بمباری پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے فوری جنگ بندی کا اور غزہ کی ناکہ بندی ختم کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے 07 اکتوبر سے اب تک ہر ہفتے میں اسرائیل 6 ہزار بم گرا رہا ہے،بربریت کا شکار ان بچوں و خواتین کی درد بھری فریاد ان کی چیخیں ان کی آہ و پکار کو کوئی کیوں نہیں سن رہا ،کیا آج دنیا میں کوئی محمد بن قاسم نہیں جو مسلمانوں کے قبلہ اول بیت المقدس پر پھر سے اسلام کا جھنڈا گاڑے، اسرائیل کے مظالم کا خاتمہ کرے،آج مسجد اقصٰی کے در و دیوار،منیار محراب و منبر بھی خون آلود ہیں آج فلسطین کے ہسپتالوں و مدارس اور مساجد کے در و دیوار بھی فلسطین کے مسلمانوں کے خون کے چھینٹوں سے بھرے ہیں یہ خون رائیگاں تو نہیں جائے گا غزہ کے مظلوم بے گناہ معصوم دنیا سے سوال کر رہے ہیں کہ کیا اسرائیلی جارحیت، نسل کشی اور قتل عام،میں دنیا کے ہاتھ بھی اس خون ریزی سے لت پت نہیں ہیں۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں کچھ آوازیں سنائی دی ہیں جن سے عالمی برادری کے ضمیر کو جھنجھوڑا گیا ۔ متحدہ عرب امارات کے سفیر نے کہا کہ فلسطینی بچوں کی اموات ہمارے اخلاقی ضمیر کو داغدار کریں گی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں متحدہ عرب امارات کے سفیر کی اس بات کی توثیق کی گئی کہ عالمی برادری اخلاقی ذمہ داری کا احترام کرنے میں ناکام رہی ہے اور دنیا کی اکثریت کے اظہار خیال کو نظر انداز کرنے سے بین الاقوامی نظام کو ناقابل تلافی نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔ کدھر ہیں اہل مغرب جو اپنی عمدہ انسانیت کے نام پر جانوروں کے حقوق کا خیال رکھنے کا بڑا پرچار کرتے ہیں اور ہم مسلمان بھی ان کی اس انسانیت کی مثالیں دیتے نہیں تھکتے آج کہاں ہیں انسانی حقوق کی تنظیمیں آج کہاں ہیں انسانی حقوق کے تحفظ کے علمبردار جو بڑے بڑے دعوے کرتے تھے کہاں ہیں امن کے نوبل انعام یافتہ لوگ،کہاں ہیں دنیا کے تمام مذاہب کے عالم و فاضل جو انسانیت کا درس دیتے تھے آج کدھر گئی انسانیت آج کدھر گئے ہیں یہ سب کیا ان کے ضمیر سو گئے کیا ان کے ضمیر مردہ ہو گئے ہیں یا تمام کے تمام مصلحتوں کا شکار ہو چکے ہیں یا سب امریکہ اور اسرائیل کے آگے جھک گئے ہیں ۔ فلسطین میں اسرائیل ایک قابض ھے جبری قبضہ برقرار رکھنے کے لیے فلسطین کو مٹانے کے لئے اس کے مکروہ مظالم جاری ہیں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی کہا ہے کہ اسرائیل کو قابض کے طور پر حق دفاع حاصل نہیں،
رب العالمین تو سمیع و بصیر ہے۔ظلم کی سیاہ رات اپنے عبرت ناک انجام کو پہنچے گی ان بچوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور ان شا اللہ فلسطین بھی آزاد ہو گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے