بین الاقوامیپاکستانسیاست

عمران خان اشرف غنی ملاقات، افغان امن کانفرنس ملتوی کرنےکا فیصلہ

پاکستان نے افغان امن کانفرنس کا انعقاد ملتوی کر دیا ہے۔ افغان امن کانفرنس 17 جولائی سے اسلام آباد میں ہونا تھی۔
ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ چودھری نے تصدیق کی ہے کہ 17 جولائی کو اسلام آباد میں ہونے والی افغان امن کانفرنس کو ملتوی کر دیا گیا ہے۔ اب یہ کانفرنس عیدالاضحیٰ کے بعد منعقد کی جائے گی، نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اور افغان صدر اشرف غنی کے درمیان تاشقند میں ہونے والی ملاقات کے بعد افغان امن کانفرنس کو ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
وزیراعظم عمران خان اور افغان صدر اشرف غنی کے درمیان تاشقند میں ون آن ون اور وفود کی سطح پر ملاقاتیں ہوئیں۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور زلمے خلیل زاد نے بھی افغان صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔
خیال رہے کہ افغان امن کانفرنس 17 سے 19 جولائی تک اسلام آباد میں منعقد ہونا تھی۔ اس کانفرنس کا مقصد افغانستان میں امن عمل کو آگے بڑھانا ہے۔ پاکستان کی جانب سے 30 افغان مندوبین کو امن کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔
اس اہم کانفرنس میں افغان اعلیٰ قومی مفاہمتی کونسل کے چئیرمین عبداللہ عبداللہ، گلبدین حکمت یار، چئیرمین ماسود فاؤنڈیشن احمد ولی، سابق صدر حامد کرزئی اور سابق نائب صدر احمد ضیا مسعود کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔
اس سے قبل ازبکستان کے دارالحکومت تاشقند میں وسطی وجنوبی ایشیائی رابطہ ممالک کانفرنس کا انعقاد ہوا جس میں وزیراعظم عمران خان نے بھی شرکت کی۔
کانگرس ہال پہنچنے پر ازبکستان کے صدر شوکت مرزایوف نے وزیر اعظم پاکستان عمران خان کا استقبال کیا۔
دونوں رہنماؤں نے اہم امور پر تبادلہ خیال کیا۔ کانفرنس میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور افغانستان کے صدر بھی شریک تھے۔
وزیراعظم عمران خان نے کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ افغانستان میں حالات خراب ہونے سے سب سے زیادہ پاکستان متاثر ہوتا ہے۔
افغان صدر اشرف غنی کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ افغان جنگ سے پاکستان سب سے زیادہ متاثر ہوا۔ گزشتہ 15سال میں پاکستان میں دہشتگردی سے 70 ہزار سے زیادہ افراد شہید ہوئے۔ پاکستان نے طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لئے ہر ممکن کوشش کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ پاکستان افغانستان میں امن، مصالحت، تعمیر نو اور اقتصادی ترقی کے تمام اقدامات کی حمایت جاری رکھے گا۔ مسئلے کے مذاکرات کے ذریعے حل کیلئے افغانستان کے تمام پڑوسیوں اور متعلقہ بین الاقوامی فریقین کے ساتھ ملکر کام کریں گے۔
دوسری جانب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان افغانستان میں امن کے لئے اپنا مصالحتی کردار ادا کرتا رہے گا۔ وہ آج تاشقند میں جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا علاقائی روابط، مسائل اور مواقع سے متعلق بین الاقوامی کانفرنس کے موقع پر افغان مفاہمت کے لئے امریکی خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد سے گفتگو کر رہے تھے۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ افغانوں کو ہی افغانستان کے مستقل کا فیصلہ کرنا ہے۔ پاکستان اور افغانستان میں امن کو علاقائی روابط کے فروغ اور خطے کی اقتصادی ترقی کے لئے ضروری تصور کرتا ہے۔
ادھر پاکستان نے افغانستان کے نائب صدر کے الزامات مسترد کر دیئے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ہم افغان حکومت کے اپنی سر زمین پر کارروائی کے حق کو تسلیم کرتے ہیں۔
ترجمان دفترخارجہ نے اپنے بیان میں بتایا کہ افغان حکومت نے سپین بولدک میں طالبان کیخلاف فضائی کارروائی کرنے کے حوالے سے آگاہ کیا، پاکستان نے افغان حکومت کے اپنی سر زمین پر کارروائی کا حق تسلیم کرتے ہوئے مثبت جواب دیا، پاکستان نے اپنے علاقے میں سکیورٹی فورسز اور آبادی کے تحفظ کیلئے ضروری اقدامات اٹھائے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان ایئر فورس نے اس حوالے سے افغان ایئر فورس کیساتھ کوئی بات چیت نہیں کی، ایسے بیانات پاکستان کی افغان مسئلے کے حل کیلئے مخلصانہ کوششوں پر منفی اثر ڈالتے ہیں، پاکستان نے حال ہی میں 40 افغان سیکیورٹی اہلکاروں کو افغانستان واپس کیا، یہ سکیورٹی اہلکار فرار ہو کر پاکستان آگئے تھے، پاکستان افغانستان میں قیام امن کیلئے پر عزم ہے، افغانستان میں امن کیلئے اس اہم موقع پر تمام توجہ سیاسی تصفیہ پر مرکوز ہونی چاہیے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *