کالم

عشرہ ذوالحجہ کی فضیلت

انس معاویہ رجانہ

اللہ رب العزت نے اپنے محبوب ؐ کی لاڈلی امت پر بڑے احسانات و انعامات کئے ہیں، اپنے پیارے حبیب کو راضی کرنے کےلئے امت محمدیہ کو تمام امتوں پر فضیلت دی۔رسول اللہؐ کو پریشانی لاحق ہوئی کہ عمر کم ہونے کی وجہ سے میری امت اعمال صالح کم کرسکے گی. اللہ تعالیٰ کی رحمت جوش میں آئی فرمایا’’ اے میرے پیارے رسول آپ کی امت کی عمریں اگرچہ کم ہونگی لیکن میں ان کو ایسے ایام دے دوں گا جن میں عبادت کرنے پر ستر گنا زیادہ اجر ملے گا‘‘. اس کےلئے اللہ تعالی نے رمضان المبارک عطا کردیا، پھر رمضان المبارک کے آخری عشرے میں لیلۃ القدر اور لیلۃ الجائزہ عطا فرماکر مزید ثواب کو بڑھا دیا. فرمان خداوندی ہے ’’لیلۃ القدر (کی عبادت) ہزار مہینوں سے افضل ہے‘‘ (سورۃ القدر آیت 03) انہی راتوں میں سے ماہ ذوالحجہ کے ابتدائی دس راتیں ہے، ان کی فضیلت و منقبت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ باری تعالیٰ نے ان راتوں کی قسمیں کھائی ہیں ’’قسم ہے فجر کی. اور قسم ہے دس راتوں کی. (سورۃ الفجر آیت 1.2)
جب حضرت موسیٰ ؑ نے اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرنے کےلئے تیس دن پورے کرلئے تھے پھر حکم ہوا ‘‘دس دن پورے کرو ۔مفسرین نے ذوالحجہ کے پہلے دس دن مراد لئے ہیں (معارف القرآن)۔ ذوالحجہ کے ابتدائی دنوں میں ایک روزہ رکھنے پر ایک سال کے روزے رکھنے کا اور ایک رات کا قیام کرنے پر لیلۃ القدر کا ثواب ملتا ہے. حدیث مبارکہ میں ہے رسول اللہ ؐ نے فرمایا "ایک روزہ کا ثواب بڑھا کر ایک سال کے روزوں کے برابر اور ان راتوں میں سے ایک رات میں بھی اگر عبادت کی توفیق ہو گئی تو وہ اس طرح ہے جیسے لیلۃ القدر میں عبادت کر لی ہو۔ (سنن ترمذی) یوم عرفہ کا روزہ دو سال کے گناہوں کی معافی کا ذریعہ ہے، نبی کریمؐ نے فرمایا کہ ”یوم عرفہ یعنی 9 ذوالحجہ کا روزہ ایک سال گزشتہ اور ایک سال آئندہ کے گناہوں کا کفارہ ہے۔“ حضرت عبد اللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ آپؐ نے فرمایا "نیکی کا کوئی بھی عمل عشرہ ذو الحجہ میں کئے جانے والے کام سے اللہ تعالیٰ کے نزدیک زیادہ پاکیزہ ہے نہ اجرو ثواب میں بڑھ کر ہے۔ عشرہ ذوالحجہ میں خاص الخاص عمل حج بیت اللہ ہے اور یہ اہل استطاعت مسلمان پر زندگی میں صرف ایک دفعہ فرض ہے، اس کی خاص برکات وہی لوگ حاصل کرسکتے ہیں جو بیت الله میں حاضر ہو کے حج کریں، لیکن الله نے اپنے فضل وکرم، بے پناہ رحمت سے تمام اہل ایمان کو اس بات کا موقع عنایت فرما دیا کہ وہ اپنے مقام پر رہ کر بھی حجاج کرام سے نسبت پیدا کرکے ان کے ساتھ کچھ اعمال میں شریک ہو جائیں، ذوالحجہ کا چاند دیکھتے ہی جو حکم مسلمانوں کو سب سے پہلے ملتا ہے وہ یہ ہے کہ ام المؤمنین حضرت سلمہ ؓسے روایت ہے فرماتی ہیں کہ رسول الله ؐنے فرمایا کہ:’’ جب ذی الحجہ کا پہلا عشرہ شروع ہو جائے تو تم میں سے جو آدمی قربانی کرنے کا ارادہ کرے وہ ( اس وقت تک قربانی نہ کرے) اپنے بال اور ناخن بالکل نہ کتروائے‘‘ ۔ ایک اور روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ ’’ جو آدمی بقرہ عید کا چاند دیکھے اور وہ قربانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہو تو وہ (قربانی کے لینے تک) اپنے بال اور ناخن نہ کٹوائے۔“ (رواہ مسلم) اگر کسی کے ہاں قربانی نہیں ہے اس کو بھی اجر سے خالی نہیں چھوڑا گیا. حضرت عبدالله بن عمرو بن العاصؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرمؐنے فرمایا:” مجھے حکم دیا گیا ہے ، قربانی کے روز عید منانے کا، جو الله تعالیٰ نے اس امت کے لیے مقرر فرمائی ہے۔ ایک شخص عرض گزار ہوا کہ اگر مجھے کچھ میسر نہ آئے سوائے اس اونٹنی یا بکری وغیرہ کے، جو دودھ دوہنے کے لیے عاریتاً یا کرائے پر ملی ہو تو کیا اس کی قربانی پیش کر دوں؟ آپ ؐنے فرمایا نہیں! بلکہ تم اپنے بال کتراؤ، ناخن کاٹو، مونچھیں پست کرو اور موئے زیر ناف صاف کرو، الله تعالیٰ کے نزدیک بس یہی تمہاری قربانی ہے۔“عشرہ ذی الحجہ کے دنوں کا ادراک اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر خاص فضل و انعام ہے ہمیں اس عشرے کی قدر کرنی چاہیے جس طرح اس کا حق ہے۔روزانہ تین سپاروں کی تلاوت کرکے ایک قرآن مجید بآسانی ختم کریں باقی وقت تہمید، تہلیل، تکبیرات، ذکر اذکار، واعمال صالحہ میں صرف کریں.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Diyarbakır koltuk yıkama hindi sex