پاکستان

عدالتی اصلاحات بل :ایوان کی کارروائی کا ریکارڈ طلب،سیاستدان انصاف نہیں،مرضی کے فیصلے چاہتے :چیف جسٹس

ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ آئین کے بنیادی جزو کی قانون سازی کے ذریعے خلاف ورزی کی گئی،دیکھنا ہے عدلیہ کا جزو تبدیل ہوسکتا ہے؟ ۔ عدلیہ کی آزادی بنیادی حق ہے، فریقین سے سنجیدہ بحث کی توقع ہے فل کورٹ تشکیل دیا جائے،کوئی اعتراض نہیں کریگا:حسن رضا پاشا،پاشا صاحب آپ نفیس آدمی ، اپنے ارد گرد سے معلوم کرائیں آپ کے لوگ کس کو فل کورٹ کہتے ہیں :چیف جسٹس،فریقین سے 8مئی تک جواب طلب

اسلام آباد(کورٹ رپورٹر،نیوزایجنسیاں)سپریم کورٹ نے چیف جسٹس آف پاکستان کے اختیارات میں کمی کے حوالے سے ’سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل 2023‘ پر سماعت کے لیے فل کورٹ بنانے اور جسٹس مظاہر نقوی کو بینچ سے علیحدہ کرنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے پارلیمانی کارروائی کا ریکارڈ طلب کر لیا۔بل کے خلاف دائر درخواستوں پر سپریم کورٹ کے 8 رکنی لارجر بینچ نے سماعت کی جس میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ ملک، جسٹس سید حسن اظہر رضوی اور جسٹس شاہد وحید شامل ہیں۔خیال رہے کہ مذکورہ بل پارلیمنٹ کے بعد صدر سے دوبارہ منظوری کی آئینی مدت گزر جانے پر از خود منظور ہوکر 21 اپریل کو قانون کی شکل اختیار کرچکا ہے۔مسلم لیگ (ن) کی جانب سے بیرسٹر صلاح الدین اور پیپلز پارٹی نے فاروق ایچ نائیک کو وکیل مقرر کیا ہے جبکہ پاکستان بار کونسل کی جانب سے حسن رضا پاشا عدالت میں پیش ہوئے۔سماعت کے آغاز پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے وکیل طارق رحیم نے کہا کہ عدالتی اصلاحات بل قانون کا حصہ بن چکا ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ گزشتہ حکمنامہ عبوری نوعیت کا تھا، جمہوریت آئین کے اہم خدوخال میں سے ہے، آزاد عدلیہ اور وفاق بھی آئین کے اہم خدوخال میں سے ہیں، دیکھنا ہے کہ عدلیہ کا جزو تبدیل ہوسکتا ہے؟انہوں نے اپنے ریمارکس میں مزید کہا کہ عدلیہ کہ آزادی بنیادی حق ہے، عدلیہ کی آزادی کے حوالے سے یہ مقدمہ منفرد نوعیت کا ہے، مقدمے پر فریقین کے سنجیدہ بحث کی توقع ہے، لارجر بینچ کو بہترین معاونت فراہم کرنی ہوگی، پاکستان میں اپنی نوعیت کا یہ پہلا قانون ہے، ریاست کے تیسرے ستون کے بارے میں یہ قانون ہے۔دوران سماعت سپریم کورٹ نے تمام فریقین سے تحریری جواب اور سپریم کورٹ رولز اینڈ پروسیجر بل پر پارلیمانی کارروائی کا ریکارڈ طلب کر لیا، علاوہ ازیں قائمہ کمیٹی میں ہونے والی بحث کا ریکارڈ بھی طلب کرلیا گیا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ قانون سازی کے اختیار سے متعلق وفاقی فہرست کی کچھ حدود و قیود بھی ہیں، فیڈرل لیجسلیٹو لسٹ کے سیکشن 55 کا بھی جائزہ لیں، یہ حقیقت تبدیل نہیں ہوسکتی کہ آزاد عدلیہ آئین کا بنیادی جزو ہے، الزام ہے کہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ آئین کے بنیادی جزو کی قانون سازی کے ذریعے خلاف ورزی کی گئی۔دریں اثنا سپریم کورٹ نے سیاسی جماعتوں اور وکلا تنظیموں سے 8 مئی تک جواب طلب کرلیا۔دوران سماعت پاکستان بار کونسل نے جسٹس مظاہر نقوی کو بینچ سے الگ کرنے کی استدعا کردی، حسن رضا پاشا نے پاکستان بار کونسل کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان بار نے ہمیشہ آئین اور عدلیہ کے لیے لڑائی لڑی ہے، مناسب ہوگا اگر اس مقدمے میں فل کورٹ تشکیل دیا جائے، بینچ میں 7 سینئر ترین ججز شامل ہوں تو کوئی اعتراض نہیں کرسکے گا، بینچ کے ایک رکن کے خلاف 6 ریفرنس دائر کیے ہوئے ہیں۔اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ 7 سینئر ججز اور فل کورٹ بنانا چیف جسٹس کا اختیار ہے، افتخار چوہدری کیس میں عدالت نے قرار دیا ہے کہ ریفرنس صرف صدر مملکت دائر کرسکتے ہیں، کسی جج کے خلاف ریفرنس اس کو کام کرنے سے نہیں روک سکتا، سپریم جوڈیشل کونسل کی رائے آنے تک جج کو کام کرنے سے نہیں روکا جاسکتا، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس میں بھی عدالت نے یہی فیصلہ دیا تھا۔انہوں نے اپنے ریمارکس میں مزید کہا کہ شکایات ججز کے خلاف آتی رہتی ہیں، مجھ سمیت سپریم کورٹ کے اکثر ججز کے خلاف شکایات آتی رہتی ہیں، سیاسی معاملات نے عدالت کا ماحول آلودہ کردیا ہے، سیاسی لوگ انصاف نہیں من پسند فیصلے چاہتے ہیں، انتخابات کے مقدمے میں بھی کچھ ججز کو نکال کر فل کورٹ بنانے کا مطالبہ کیا گیا تھا، سپریم کورٹ کے ججز کا فیصلہ عدالت کا فیصلہ ہوتا ہے، ہر ادارہ سپریم کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد کا پابند ہے۔حسن رضا پاشا کو مخاطب کرتے ہوئے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ پاشا صاحب آپ نفیس آدمی ہیں، اپنے اردگرد سے معلوم کرائیں آپ کے لوگ کس کو فل کورٹ کہتے ہیں۔حسن رضا پاشا نے کہا کہ وکلا کے تحفظات سے عدالت کو آگاہ کیا ہے، تاہم چیف جسٹس نے فل کورٹ تشکیل دینے کی استدعا فی الوقت مسترد کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ بار نے ادارے کا تحفظ کرنا ہے، ججز نے آنا ہے اور چلے جانا ہے۔چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کی جانب سے حکم امتناع واپس لینے کی استدعا بھی مسترد کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ پہلے سمجھا تو دیں کے قانون کیا ہے اور کیوں بنا؟اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت بینچ بڑھانے پر غور کرے، اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ بینچ کی تعداد کم بھی کی جا سکتی ہے۔بعدازاں سپریم کورٹ نے کیس کی مزید سماعت پیر (8 مئی) تک ملتوی کردی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Diyarbakır koltuk yıkama hindi sex