کالم

عبداللہ ملک۔۔۔۔۔۔یادوں کے دریچے

ایم آر شاہد

عالمی شہرت یافتہ کالم نگار، ادیب و دانشور روزنامہ پاکستان ٹائمز، روزنامہ امروز کے مدیر اعلی عبداللہ ملک آزادی فکر کے زبردست حامی تھے۔ انہوں نے پریس پر مختلف ادوارمیں لگائی جانے والی پابندیوں کے خلاف بھرپور احتجاج کیا۔ انہیں فوج کے اقتدار سے شدید نفرت تھی ۔ ان کی ترقی پسند سوچوں اور فکروں کا کام اتنا پھیلا ہوا ہے اس سے انصاف کرنے کے لیے عام قاری کے لیے اپنی تاریخ کا جاننا بہت ضروری ہے۔
عبداللہ مالک سے میرے تعلقات /15 20 سال پرانے تھے گاہے بگاہے ان سے ملاقات ہو جاتی یا پھر میں ملنے کے لیے ان کے پاس چلا جاتا میرے لیے یہ افتخار کی بات ہے ان کے اخری 2سالوں میں مجھے ان کے ساتھ علمی و ادبی کام کرنے کا موقع میسرآیامیں نے انہیں ہر وقت لکھنے پڑھنے میں مصروف پایا ۔بیمار ہونے سے قبل رمضان المبارک سے پہلے ایک دن میرے ساتھ گپ شپ میں مصروف تھے اور اس فقرے کو بار بار دہراتے رہے کہ شاہد میرا دماغ بڑا مترک ہے مگر بڑھاپے کی وجہ سے اب ہاتھ ساتھ نہیں دیتے اب کالم اور دوسری تحریر یںلکھتے ہوئے جلدی تھکاوٹ کا احساس ہونے لگتا ہے ورنہ اب بھی بہت کچھ لکھنے کا عزم کئے بیٹھا ہوں ۔
جو علمی و ادبی، صحافتی، سیاسی موادپڑا ہے اپنی زندگی میں اسے کتابی صورتوں میں دیکھنا چاہتا ہو ں۔ اب تمہارا ساتھ ہے تو میں کافی حد تک مطمئن ہوں کہ میرے ادھورے کام پایہ تکمیل تک پہنچ جائیں گے تاکہ آنے والی نسلیں اس کام سے فائدہ اٹھا سکیں ۔ خدا گواہ ہے اب مجھے دولت عزت کی ضرورت نہیں میرے اللہ نے مجھے سب کچھ دے رکھا ہے ۔ ایک عرصہ میرے ذہن میں ایک سوال کیڑے کی طرح رینگتا تھا۔ سوچاآج موقع ہے پوچھ لوں، میں نے کہا ملک صاحب آپ کی تحریروںاور تقریروں میں زیادہ تر فیض احمد فیض کا ذکر ملتا ہے جبکہ احمد ندیم قاسمی کی جانب راغب کم کم دکھائی دیتے ہیں ۔کہنے لگے ہماری دونوں سے شناسائی ہے۔ میں نے قاسمی صاحب کے ساتھ ایک عرصہ اکٹھے کام کیا ہے۔ میں ان کی دل و جان سے قدر کرتا ہوں کیونکہ ان کی ذات اس قابل ہے کہ ان کا احترام کیا جائے۔ رہی بات فیض سے زیادہ تعلقات کی تو سنو! آج سے 23 سال قبل 1979 ؁ء میں میری بیوی عائشہ کا انتقال ہو گیا اور میں ماسکو میں ایک وفد کے ساتھ گیاہوا تھا۔ میرے ساتھ فیض تھے۔ واپسی ٹکٹ کا انتظام نہیں ہو رہا تھا۔ اسی غم دوراں میں فیض احمد فیض نے میرا 20 گھنٹے ساتھ دیا۔ مجھے مسلسل دلاسہ دیتے رہتے ور صبر کی تلقین کرتے رہے اور مجھے سنبھالتے رہے ۔ بھلا اس کا یہ احسان میں کب بھول سکتا ہوں ۔
میں نے قاسمی صاحب کے لیے کئی بار تعریفی کالم لکھے ہیں کیونکہ یہ ادبی دنیا کا ایک بڑا نام ہے لیکن 2 سال قبل سہ ماہی معاصر میں قاسمی صاحب نے فیض مرحوم کے متعلق 28 صفحات کا مضمون لکھا۔ مجھے اس کا دکھ ہوا فیض کے مرنے کے بعد ایسی خامیوں کو چھالنے کی کیا ضرورت پیش آگئی تھی ؟ اس سلسلہ میں ہماری فون پر بات بھی ہوئی۔ میں نے اپنا موقف بیان کیا مگر قاسمی صاحب نے بضد اپنی تحریر کو صحیح قرار دیا۔ میں آج یہ لکھتے ہوئے بالکل ہچکچاہٹ کا شکار نہیں ہوں کہ ان کا ترقی پسند ہونا الگ بات ، بھٹوسے قریبی دوستانہ تعلقات الگ بات، روس اور ہندوستان کے اعلی حکمرانوں سے دوستی الگ بات مگر ملک صاحب نے سچ کا دامن کبھی ہاتھ سے نہ جانے دیا، جس کی وجہ سے انہیں قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کرنا پڑیں مگر ان کے قدم کبھی نہ ڈگمگائے۔
ملک صاحب نے اپنی محنت قابلیت کی بناء پر دولت اور عزت شہرت کمائی جو بہت کم لوگوں کے حصے میںآتی ہے۔ ان کی تمام تحریریں علمی، ادبی، سیاسی اور صحافتی اصولوں کا احاطہ کرتی نظرآتی ہیں۔ مرحوم لاہور کی ثقافت اور دوستی کا بہترین نمونہ تھے۔ ان کی لائبریری کو ترتیب دیتے ہوئے وہ نایاب کتب کا ذخیرہ دیکھا جو ملک کی بڑی بڑی درسگاہوں اور لائبریریوں میں نہیں۔ انہیں دنیا کے نامور شخصیات کے حالات زندگی پر مشتمل نایاب کتابیں پڑھنے اور اپنی لائبریری میں جمع کرنے اور اخباری فائلیں، روزانہ امروز، روزنامہ پاکستان ٹائمز، ہفت روزہ لیل و نہار کا تمام ریکارڈ، قومی جنگ اور دوسرا قومی ریکارڈ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کی لائبریری کو عطیہ کے طور پر دی گئی ہیں۔ جہاں عبداللہ مالک کا تمام ریکارڈ رکھ کر ایک کمرے کے باہر ان کے نام کی تختی نصب کر دی ہے۔ ان کی پہلی کتاب 1940؁ء میں چھپی۔ صحافتی زندگی کا آغازبطور رپورٹرروزنامہ امروز سے کیا۔ پھراپنی محنت اور دیانتداری سے روز نامہ پاکستان ٹائمز کے مدیر اعلی مقرر ہوئے اور اخری وقت تک صحافتی زندگی سے رابطہ قائم رکھا۔ صرف ساڑھے 4 ماہ کے دوران علالت کالم لکھنے چھوڑ دئیے۔ دماغ لکھنے کے لیے مجبور کرتا تو اپنی پوتی میرا سے لکھواتے۔ ان کی مشہور زمانہ کتاب ــحدیث دل ہے۔ اس میں ایک کمیونسٹ کا روزنامچہ تحریرہے۔ ایک دن ملاقات کے دوران کہنے لگے تم نے میری آخری ڈائریاں پڑھی ہیں۔ میں نے کہا جی! کہنے لگے ان میں بیماری اور تکلیف کا زیادہ ذکر ہے۔ جیسے جیسے بوڑھا ہو رہا ہوں سوچ میں بھی تبدیلیوں کا رجحان پنپ رہا ہے۔ بس یوں کہہ لیں کہ آخری ڈائری میرا بڑھا پانامہ ہے۔ دماغ کی رفتار تیز ہے مگر کمزوری کی وجہ سے ہاتھ ساتھ نہیں دے رہے۔ آج ملک صاحب ہم میںموجود نہیں۔ ان کی یادیں ہی ہمارے لئے سرمایہ افتخار ہیں۔ صدیاں ایسے لوگوں کو جنم نہیں دیتیں بلکہ ایسے عظیم تخلیق کار صدیوں کو جنم دیتے ہیں۔ جن صدیوں میں سانس لیتے ہیں وہ صدیاں ان پر فخر کرتی ہیں۔ ان کے کالموں میں تحریک، تاریخ اور علم ادب اور سچی سیاست کی جھلک دیکھنے کو ملتی ہے۔ جب ضیا شاہ نے روزنامہ پاکستان کا اغاز کیا تو ان کے کہنے پر اس اخبار کا سب سے پہلا اداریہ عبداللہ مالک نے تحریر کیا اور میرا کالم کے عنوان سے کالم لکھنے شروع کئے۔ یہ سلسلہ 1993؁ء تک جاری رہا۔پھر روزنامہ نوائے وقت میں حدیث دل کے نام سے کالم تحریر کرتے رہے ۔یہ سلسلہ مرتے وقت تک جاری رہا۔ ان کے کالم ملک و بیرون ملک بڑے شوق سے پڑھے جاتے تھے۔
مرحوم نے روزمچوںپر مشتمل ڈائریاں لکھنے کا اغاز 1941؁ء یعنی 60 سال قبل کیا۔ بیمار ہونے سے قبل تک یہ سلسلہ جاری و ساری رہا۔ ڈائریوں میں پاکستان سے قبل اور بعد کی ملکی حالات اور تاریخ اور بڑے بڑے انکشافات موجود ہیں۔ ان ڈائریوں اور کالموں کے مجموعے کتابی صورت میں لانے کے لیے کام جاری ہے ۔دوران علالت ان کی عیادت کے لیے اسلام اباد 3 مرتبہ جانے کا اتفاق ہوا۔7 جنوری، 19 جنوری اور آخری بار 14 مارچ 2003؁ء بروز جمعۃ المبارک پہلی مرتبہ گیا تو عبداللہ ملک KRL ہسپتال میں زیر علاج تھے۔ دوسری مرتبہ گیا تو وہ ہسپتال سے فارغ ہو کر اپنے بڑے بیٹے ڈاکٹر کوثر ملک کے ہاں قیام پذیر تھے۔ تیسری اور آخری مرتبہ بھی ان کے گھر پر ملاقات ہوئی۔ پہلی بار جب میں خان ریسرچ لباٹری ہسپتالVIP روم نمبر 1میں پہنچا تو بھائی جان ڈاکٹر کوثر ملک فون پر کسی سے بات کر رہے تھے۔ عبداللہ مالک صاحب سو رہے تھے۔ کچھ دیر بعد آنکھ کھلی۔ سلام دعا کے دوران ہاتھ پکڑ کر رونے لگے کہ شاہد میاں تمہارا احسان نہیں اُتار سکتا۔ میں نے کہا کہ آپ مجھے خواہ مخواہ گنہگار کر رہے ہیں۔
میں نے آپ پر کوئی احسان نہیں کیا۔آپ مجھے میرے کام کا معاوضہ دیتے ہیں۔ اس میں بھلا احسان والی کون سی بات ہے بلکہ آپ کے ساتھ کام کرنے پر مجھے فخر ہے۔ گپ شپ کے دوران میں نے تسلی دی کہ آپ مطمئن ہو جائیں۔ اب آپ پہلی کی طرح صحت یا ب ہو کر دوبارہ لکھنے پڑھنے لگیں گے۔ ڈاکٹر کوثر ملک سے کہنے لگے شاہد سے باتیں کرو ۔ اس نے بہت بڑا کام کیا ہے۔ وہ کہنے لگے ہاں ابا جی میں نے دیکھا ہے آپ کی لائبریری اور کتابوں کے وہ مسودہ جات کا کام تسلی بخش ہے۔ کہنے لگے نہیں یار اوہ کم نہیںویکھیا۔ ایس نے لاہور دے تمام قبرستاناں اتے ایک تحقیقی کتاب مرتب کیتی اے جیہڑی چھین دے آخری مرحلے وچ اے۔ان کے بیٹے کوثر ملک کہنے لگے اچھا مجھے علم نہیں تھا۔آؤ یار شاہد بتاؤ مجھے بھی۔ بندہ ناچیز نے اپنی تحقیقی کام پر تمام داستان سنا دی۔وہ بہت خوش ہوئے۔ پھر دوبارہ 19 جنوری بروز اتوار کو میں اسلام آبادعیادت کے لیے حاضری دی۔ کراچی اڈے سے ان کے پوتے عمر ملک گھر لے گئے۔ ملک صاحب سو رہے تھے۔ کچھ دیر بعد جاگے گئے۔ مجھ سے ملے مگر کمزوری کے باعث زیادہ بات نہ کر سکے۔ ان پر غنودی طاری ہو گئی۔ کچھ دیر بعد دوبارہ آنکھ کھلی تو اپنی ڈائریوں کی کمپوزنگ کے بارے میں گفتگو کا سلسلہ جاری رہا۔ پھر تھکاوٹ محسوس کی اور انہیں لٹا دیا گیا۔ میں لاہور کے لیے چل پڑا۔ اس کے بعد حسب معمول دو چار دنوں بعد فون پر بات ہو جاتی ہے اور بار بار اپنی ڈائریوں کی کمپوزنگ کا پوچھتے رہے۔ پھر تیسری اور آخری بار انہیں 14 مارچ 2003؁ء کو ملنے اسلام آباد گیا۔ کرسی پر خاصے چاک وچوبند بیٹھے تھے۔ علیک سلیک کے بعد کہنے لگے میری ڈائریوں کی کمپوزنگ کا کام شروع کرواؤ۔ میں بہت فکر مند ہوں۔ انہیں کتابی شکل دینا اب تمہارا اور عمر ملک کا کام ہے۔
وفات سے چھ روز پہلے ان سے فون پر آخری بات ہوئی۔ کہنے لگے میری ڈائریوں کا کام کہاں تک پہنچا۔میں نے صاف صاف کہہدیا ملک صاحب عمر صاحب نے ابھی کمپیوٹر والے کا اہتمام نہیں کیا۔ میں نے تمام ڈائریاں اور کالموں کے مسودے ترتیب دے رکھے ہیں۔ عبداللہ ملک کی تیماداری میں ان کی فیملی نے کوئی کسر اٹھا نہ رکھی تھی۔ مہنگا علاج دن رات دیکھ بھال میں ان کے بیٹے بہو پوتا اور پوتی لگے رہے۔ روز بروز کی بڑھتی ہوئی تکلیف نے ان کی فیملی کو خبردار کر دیا تھا کہ جلدی بوڑھا پیڑ موت کی آندھی سے ٹوٹ جائے گا اور ان سے پیار کی گھنی چھاؤں چھین جائے گی۔
عبداللہ ملک صاحب کی زندگی کے مختلف پہلووں کا احاطہ کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے۔آج ان کے ساتھ بیتی ہوئی یادوں کو دہرانے چلا ہوں تو میرے ہر سو ہو کا عالم طاری ہے۔ ان کی رہائش گاہ پر جہاں بیٹھا ہوں کل تک ایک طرف کتابیں اور دوسری جانب ان کے کمرے میں پڑی ان کی میز اور کرسی تھی۔ اب یہاں نہ کتابیں ہیں اور نہ ان کے پڑھنے والے عبداللہ ملک صاحب موجود ہیں۔ اس اداس اور ویران گھر کا مکین ا ب کبھی واپس نہیں آئے گا۔ برآمدے میں پڑی ان کی نشست گاہ اداس ہے۔ اس گھر کی گراؤنڈ پھول اور پودے ملک صاحب کی دوری محسوس کر رہے ہیں۔ عبداللہ ملک کی وفات پر تعزیتی خطوط کا ایک انبار لگا ہے۔قومی اخبارات میں خبروں کے علاوہ نامور دانشوروں نے انہیں خراج عقیدت پیش کیا ہے ۔ان خطوط میں ملکی اور غیر ملکی سربراہان مملکت کے تعزیت نامے بھی ہیں۔ عقیدت مند قاری حضرات کے پیار بھرے ہمدرد نامے بھی پڑے ملتے ہیں۔ یہ سب کچھ ملک صاحب کی یاد میں رکھا گیا ہے جو دوسروں کے دکھ درد کوقریب سے محسوس کرتے تھے۔ پچھلے دنوں گپ شپ کے لیے رانا عبدالرحمان اور سرور بک ہوم والوں کے پاس جانے کا اتفاق ہوا تو بات چل نکلی کہاآج کل عبداللہ ملک کے کس پروجیکٹ پر کام ہو رہا ہے۔ میں نے کہا کہ ان کی ڈائریوں پر مشتمل ایک کتاب اور آ رہی ہے۔ اس کی اشاعت سے بہت سے پردہ نشینوں کے شرافت کے پردے چاک ہوں گے۔ اس میں بہت سی انکشافات تاریخ کے حوالے اور پتہ نہیں کیا کیا قاری کو پڑھنے اور سوچنے کو ملے گا۔ مجھے یاد ہے 19 اپریل 2008؁ء کو چیئرمین اکادمی ادیبات پاکستان اسلام آباد سے جناب عبداللہ ملک کی پانچویں برسی کے سلسلے میں ایک خاص تقریب کا اہتمام کیا تھا جس میں ملک کی بڑی بڑی قد آور شخصیات نے صرف شرکت کی تھی بلکہ تفصیلا اپنے اپنے خیالات کا کھل کراظہار بھی کیا تھا۔ وہ تقریب کیا تھی یادوں کی ایک حسین بارات تھی جس میں سٹیج پر عبداللہ ملک کی بڑی مسکراتی تصویر تھی۔ جیسے وہ آج کے حالات پر ہنس رہے ہوں اور کہہ رہے ہوںکیا قائد اعظم نے ایسے حالات پیدا کرنے کے لیے پاکستان بنایا تھا۔ عبداللہ مالک 10 اکتوبر 1920؁ء کو اندرون لاہور کے ایک تاریخی محلہ چابک سواراں میں پیدا ہوئے۔گورنمنٹ کالج اور اسلامیہ کالج سے تعلیم حاصل کی اور کالج کے زمانے میں ادبی، صحافتی اور سیاسی محاذ پر فعال ہو گئے۔ چنانچہ ایک طرف وہ اسلامیہ کالج کے میگزین کریسنٹ کے مدیرر ہے اور دوسری طرف وہ نوجوانان مجلس حرار میں بھی کچھ عرصہ متحرک رہے اور ان کی سالانہ کانفرنس کے صد ر بھی رہے۔پھر کمیونسٹ پارٹی میں شریک ہو گئے اور پارٹی کے اخبارات لاہور بمبئی میں سرگرم رہے۔ بمبئی کے پارٹی اخبارات قومی جنگ میں وہ سجاد ظہیر، سید سبط حسن اور سردار جعفری کے ساتھ بھی کام کرتے رہے۔ قیام پاکستان کے بعد وہ پاکستان ٹائمز اور امروز کے ساتھ 30 برس منسلک رہے۔ترقی پسندی اور بائیں بازو کے افکار کی بنا پر ہندوستان اور پاکستان میں کئی باران کو باہر ان کو جیل اور شاہی قلعہ کی صعوبتیںبھی برداشت کرنا پڑیں۔ انہوں نے علمی، ادبی، سیاسی اور سفر ناموں پر مشتمل تقریب 38 کتابیں لکھیں۔ ان میں فوج اور اقتدار اعلی کے سلسلے کی 4 کتابیں اپنی نوعیت کی واحد مثال ہیں۔ اس موضوع پر آج تک کسی نے تحقیقی کام نہیں دیکھا۔ حدیث دل کے عنوان سے مسلسل 12 برس کالم نگاری کی۔ پہلے روزنامہ پاکستان میںپھر آخری وقت تک نوائے وقت میں لکھتے رہے۔ ان کے کالموں میں تحریک اور تاریخ کے پھوارے پھوٹتے نظر آتے ہیں۔ پچھلی6 دہائیوں کے دوران پاکستان میں حزب اختلاف حزب اقتدار کی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے تھے۔ صرف یہی نہیں انہوں نے عالمی سیاسی منظر نامے میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کا بھی بغور مطالعہ کیا،بالاخر تاریخ کے اوراق میں شعور کی کرنیں بکھیرنے والے دانشور عبداللہ ملک 10 اپریل2003کواپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ ان کیا آخری آرام گاہ جی بلاک ماڈل ٹاؤن قبرستان میں ہے۔ سرہانے کتبہ نصب ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Diyarbakır koltuk yıkama hindi sex