کالم

عالم اسلام کے رہنماؤں کا بے نتیجہ اجتماع

مصطفیٰ کمال پاشا

آرگنائزیشن آف اسلامک کو آپریشن (OIC) اور عرب لیگ ممالک کی سربراہی کانفرنس جدہ میں بڑے اہتمام اور شان سے منعقد ہوئی۔ عالم اسلام کے درجنوں وفود اپنے سربراہان کے ساتھ اس میں شریک ہوئے ان میں بڑے عرب رؤسا و ملوک اور بادشاہان بھی شریک تھے سب کا ایجنڈا ایک ہی تھا۔ غزہ پر ہونے والی اسرائیلی جارحیت کا سدباب۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے اس اجتماع کی صدارت کی، بہت خوبصورت صدارتی خطبہ دیا جسے سن کر دل جھوم اٹھے، پھر کئی سربراہان نے ایسے ہی دل آویز اور پراثر خطاب فرمائے جنہیں سن کر ایسا لگا کہ بس اب تو اسرائیل کی سِٹی گم ہو جائے گی اس کی ہمت جواب دے جائے گی اور وہ مظلوم فلسطینیوں پر جاری ظلم روک دے گا لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اسرائیلی فورسز ایک مہینے سے زائد عرصے سے غزہ پر آتش و آہن کی بارش برسا رہی ہیں۔ صیہونی حکمران اعلانیہ غزہ کو نیست و نابود کرنے کے عزائم کی تکمیل کے لئے یکسو نظر آ رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کی طرف سے تنقید ہو یا اقوام متحدہ کی قراردادیں،صیہونی حکمرانوں کو اس کی پروا نہیں ہے۔ سیکیورٹی کونسل بھی انہیں فلسطینیوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑنے سے منع نہیں کر چکی ہے۔ وہ بڑی یکسوئی اور قومی و مذہبی جذبات کے ساتھ غزہ کی پٹی کو ناقابل رہائش بنانے پر تلے بیٹھے ہیں۔ 38دنوں سے جاری اسرائیلی جارحیت میں گیارہ ہزار سے زائد ہلاکتیں ہو چکی ہیں جن میں معصوم بچے، بزرگ خواتین و حضرات بھی شامل ہیں جبکہ زخمی ہونے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ غزہ کا سب سے بڑا الشفاء ہسپتال، اجتماعی قبر میں تبدیل ہو چکا ہے۔ غزہ میں بسنے والے 20/22لاکھ انسانوں میں سے 18لاکھ سے زائد مہاجر ہو چکے ہیں اپنے گھروں سے اجڑ کر نکل چکے ہیں۔ اسرائیلی فورسز ان کے مہاجر کیمپوں کو بھی نشانہ بنا رہی ہیں۔ فلسطینیوں کا قتل عام جاری ہے۔ امریکی، برطانوی اور دیگر عیسائی یورپی حکمران کھلے عام صیہونی قاتل حکمرانوں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہیں وہ صیہونی ظلم و ستم کو اس کا حق دفاع کہہ کر اسے حق ثابت کرنے کی کاوش کررہے ہیں۔ اسرائیل کو اسلحی و نقد امداد دی جا رہی ہے۔ امریکی بحری بیڑے بھی اس کی مدد کے لئے آن پہنچے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صیہونی حکمران دھڑلے سے عالمی قوانین کی پائمالی کرتے ہوئے فلسطینیوں پر عرصہ حیات تنگ کرتے چلے جا رہے ہیں۔
ویسے تو 1948ء میں ریاست اسرائیل فلسطینی سرزمین پر غاصبانہ قبضہ کرکے قائم کی گئی تھی۔ فلسطینیوں کو ان کی زمینوں سے بے دخل کرکے، جبری مہاجر بنا کر اسرائیل کی ناجائز تخلیق کی گئی تھی۔ اس دن سے فلسطینی مہاجرت کی زندگی گزارنے پر مجبور کر دیئے گئے ہیں۔عرب حکمران جب بھی اسرائیل کے ساتھ ٹکرائے، شکست سے ہمکنار ہوئے۔ عالم عرب کے عسکری بازو، مصر،عراق اور شام، صیہونی ریاست سے ٹکرانے کا تجربہ کر چکے ہیں۔ ہر بار شکست ہی ان کا مقدر بنی ہے۔ عراق کی ایٹمی تنصیبات بھی اسرائیل نے ہی تباہ و برباد کی تھیں۔ اب یہ تینوں ممالک کسی شمار قطار میں ہی نہیں ہیں یہی تین عرب ممالک تھے جہاں بعث پارٹی حکمران رہی۔ بعث ازم، عرب نیشنل ازم کی تحریک تھی جسے عربوں میں اسلامی حمیت ختم کرنے کے لئے برپا کیا گیا۔ پھر اسی پارٹی کو حکمران بنایا گیا جنہوں نے نہ صرف بعثی نظریات کی پرورش کی بلکہ عربوں کے دل و دماغ سے اسلامی حمیت کا خاتمہ کرنے کی سعی کی۔ انہی تین ممالک میں عربوں میں اسلامی حمیت کے علمبردار اخوان المسلمین کے ساتھ جو بُرا سلوک کیا گیا ان پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے گئے انہیں جان کر انسان کانپ اٹھتا ہے۔ آج عالم عرب میں کوئی ایسی فکری تحریک موجود نہیں ہے جو صیہونی افکار و ظلم کے سامنے عربوں کو سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کھڑا کر سکے۔
اسرائیلی ظلم و ستم اور مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی کے خلاف مسلمانوں نے 25ستمبر1969ء میں او آئی سی قائم کی تھی۔ آج 57مسلمان ممالک اس کے ممبر ہیں جہاں عالم اسلام کی نمائندگی ہوتی ہے عالمی اعداد و شمار کے مطابق دنیا میں مسلمانوں کی تعداد1900ملین ہے۔ گویا دنیا کی مجموعی آبادی کا ایک چوتھائی مسلمانوں پر مشتمل ہے جو 4ٹریلین ڈالر کے مساوی سالانہ اشیاء و خدمات پیدا کرتے اور دیتے ہیں۔ دنیا کے 4براعظموں میں بسنے والے اہل حرم فکری اور نظری طور پر بھی زندہ و جاوید آسمانی پیغام کے علمبردار ہیں۔ ایک متحرک اور قابل تقلید تہذیبی تاریخ و ثقافت کے حامل ہیں سب کچھ ہونے کے باوجود عالمی سطح پر ان کی وہ وقعت نہیں ہے جو ہونا چاہیے۔ عالم اسلام افقی اور عمودی سمتوں میں بٹا ہوا ہے۔ عرب مسلمانوں نے عرب لیگ بنا رکھی ہے انہیں اپنے عرب ہونے پر بھی فخر ہے ویسے تو بادی النظر میں یہ کوئی بُری بات نہیں ہے۔ تنظیم سازی اور اپنی قوت بڑھانے کے لئے ایسا کرنے میں کوئی حرج بھی نہیں ہے لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ عرب لیگ نے عرب مسلمانوں کی وقعت میں قطعاً کوئی اضافہ نہیں کیا ہے۔عرب لیگ ممالک میں بسنے والے عرب مسلمانوں کی تعداد 480ملین کے قریب ہے اور اس میں زیادہ تر مقبول اور امیر ممالک شامل ہیں لیکن اقوام عالم میں، دنیا کی ترقی یافتہ قوموں میں کسی ایک کا بھی شمار نہیں ہوتا،عرب مسلمان گاڑیاں، جہاز اور سامانِ عشرت خریدنے کے لئے مشہور، عربوں کی شہرت ”بڑی گاڑی اور چھوٹی عمر کی لڑکی“ سے مترشیح ہوتی ہے۔ مغرب میں عربی لباس میں نظر آنے والا ہر شخص عیاش سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنی بے پناہ دولت کو تعمیر و ترقی کے لئے نہیں بلکہ عیاشیوں کے لئے استعمال کیا ہے جس کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے کہ پوری دنیا میں بسنے والے 14ملین یہودی جن میں 9.1ملین ریاست اسرائیل میں مقیم ہیں، عربوں کے اعصاب شل کئے ہوئے ہیں۔ صیہونیوں کے ساتھ عرب جب بھی ٹکرائے انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اسرائیل نے ہر معرکہ آرائی کے بعد اپنے جغرافیے میں اپنی پسند کے مطابق توسیع کی یہ توسیع کا سلسلہ ایک منظم اور طے شدہ نقشے کے مطابق ہے اور وہ نقشہ گریٹر اسرائیل کے قیام کا ہے۔صیہونی سالوں، دہائیوں سے ایک عظیم اسرائیل کے قیام کے لئے کوشاں ہیں جس کا دارالحکومت یروشلم ہوگا جس میں ہیکل سلیمانی انہی بنیادوں پر تیسری مرتبہ کھڑا کیا جائے گا جن پرحضرت داؤدؑ اور حضرت سلمانؑ نے تعمیر کیا تھا۔ پھر یہودیوں کا مسیحا آئے گا اور اس طرح انہیں دنیاپر ایسے ہی غلبہ حاصل ہو جائے گا جیسے حضرت داؤدؑ اور حضرت سلمانؑ کے زمانے میں حاصل تھا جس طرح اللہ کی نعمتیں اس زمانے میں یہودیوں پر نازل ہوتی تھیں بالکل اسی طرح اب بھی نازل ہوں گی۔ یہودی 1948ء میں ریاست اسرائیل کے قیام کو گریٹر اسرائیل کے قیام کی ابتداء مانتے ہیں۔ انہوں نے یروشلم پر قبضہ کرکے اسے گریٹر اسرائیل کے دارالحکومت کا درجہ بھی دے دیا ہے۔اب وہ حماس کو بیخ و بُن سے اکھاڑ عربوں میں مزاحمت کی آخری نشانی کا خاتمہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور وہ ایسا کرکے ہی دم لیں گے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: