اداریہ

عالمی مالیاتی ادارے اور پاکستان

اس میں تو کوئی دورائے نہیں کہ آئی ایم ایف، عالمی بنک اور دوسرے عالمی و علاقائی مالیاتی ادارے گزشتہ پانچ دہائیوں سے ہماری معیشت کو آکاس بیل کی طرح جکڑے ہوئے ہیں جنہوں نے ایٹمی قوت پاکستان کو اپنا مقروض بنا کر اس سے خوددار و خودمختار قوم کی طرح اقوام عالم میں سراٹھا کر چلنے کا ڈھنگ بھی چھین لیا ہے، اپنی ہر ناروا شرط تسلیم کرا کے ہماری معیشت پر کاٹھی بھی ڈال لی ہے اور ملک کے بے وسیلہ عوام کو عملاً زندہ درگور بھی کرا دیا ہے۔ یہ مالیاتی ادارے تو یقینا ایک ساہوکار کی طرح مقروض ممالک سے سود در سود کے ساتھ اپنے قرضے واپس لینے کی پالیسیاں طے کرتے ہیں جنہیں اس سے کوئی سروکار نہیں ہوتا کہ ان کی پالیسیوں اور شرائط سے متعلقہ ملک کی معیشت اور عوام غم و اندوہ کی کس کیفیت سے دوچار ہوں گے۔ اس تناظر میں ہمارے حکمرانوں کو تو بیرونی قرضوں سے مستقل خلاصی پانے کی کوئی جامع اور ٹھوس منصوبہ بندی کرنا چاہئے تھی مگر بدقسمتی سے ایسا نہیں ہو سکا اور ہر آنے والے حکمران نے ملک کی معیشت اور اس کے عوام کو عالمی مالیاتی اداروں کے پاس گروی رکھنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اس معاملہ میں ہمارے کسی بھی حکمران کا ’’نامہ اعمال‘‘ ہماری گراوٹوں اور قومی ہزیمتوں میں ہی لپٹا ہوا نظر آتا ہے اور ہم آج بھی قومی معیشت کے سدھار کے دعووں کے باوجود بیرونی قرضوں کے گھن چکر میں اُلجھے ہوئے ہیں۔ نتیجتاً عوام کے غربت، مہنگائی، بے روزگاری کے مسائل گھمبیر سے گھمبیر تر ہو رہے ہیں۔
تازہ صورتحا ل یہ ہے کہ عالمی بینک نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان کا 10فیصد غریب ترین طبقہ 10 فیصد امیر ترین طبقے سے زیادہ ٹیکس دیتا ہے،تعلیم اور صحت کی سہولتوں کے حوالے سے پاکستان کے غریب عوام ’’صحارا‘‘ کے افریقی ممالک کے ہم پلہ ہیں،وہ ملک جو کبھی فی کس آمدن کے لحاظ سے دنیا میں دوسرے نمبر پر ہوا کرتا تھا اب وہ آخری نمبروں میں ہے۔ رپورٹ میں پاکستان کو درپیش چھ بڑے مسائل کی نشاندہی کی گئی ہے جن کے مطابق یہاں ہیومن کیپٹل کا بحران ہے،دستیاب انسانی وسائل کا کم استعمال پیداوار اور ترقی کو متاثر کر رہا ہے، دو کروڑ سے زائد بچے سکول ہی نہیں جا سکتے جبکہ10سال سے کم عمر 79فیصد بچے لکھنے پڑھنے کی صلاحیت سے محروم ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کو بلند مالی خسارے کا سامنا ہے، 2022ء مالی سال کے اختتام تک مالی خسارہ22سال کی بلند ترین سطح یعنی 79فیصد تک پہنچ چکا ہے جبکہ پاکستان کے ذمے قرض مقررہ قانونی حد سے زیادہ یعنی 78فیصد تک پہنچ چکے ہیں، پالیسیوں میں عدم تسلسل کے سبب برآمدات اور سرمایہ کاری میں کمی آ گئی ہے۔عالمی بینک کے مطابق توانائی کا شعبہ ناقابل ِ انحصار اور معیشت پر بوجھ بن چکا ہے اور اِس شعبے پر تیزی سے بڑھتے گردشی قرضے شدید مالی مشکلات پیدا کر رہے ہیں، سرمایہ کاری کا شعبہ غیر موثر ہے اور پالیسی فیصلوں کا محور ذاتی مفاد ہیں۔ورلڈ بینک نے پاکستان میں بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی مخالفت کی ہے۔بینک کے نائب صدر کا کہنا ہے کہ بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے بجائے لائن لاسز کو کم کیا جائے، مقامی قرض موخر کرنے سے بینکنگ سیکٹر اور سرمایہ کاری متاثر ہو سکتی ہے۔پاکستان کو ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح دو سے تین فیصد بڑھانا ہو گی،اخراجات اور ٹیکس اصلاحات پر مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ علاوہ ازیں بینک کے کنٹری ڈائریکٹر نے کہا ہے کہ بورڈ آف ڈائریکٹرز کا اجلاس اگلے ماہ ہو گا جس میں پاکستان کے لئے دو ارب ڈالر کی منظوری دی جائے گی۔
پاکستان کے ابتر معاشی حالات کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں لیکن عالمی بینک کی اِس رپورٹ نے انتہائی باریک بینی سے پاکستان کو درپیش اصل مسائل کا مفصل جائزہ پیش کیا ہے۔ رپورٹ میں پاکستان کے ہیومن کیپٹل کی بدترین صورتحال پر بات کی گئی ہے،ایک ایسا ملک جس کی زیادہ تر آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے لیکن پھر بھی ہیومن کیپٹل کا بحران ہے، آج کا پڑھا لکھا نوجوان ملک میں رہنا ہی نہیں چاہتا، اُس کی ساری دلچسپی باہر جا کر اپنی دنیا بسانے میں ہے کیونکہ یہاں روزگار کے مواقع فراہم نہیں کئے جا رہے۔ اِس کے علاوہ اگر دو کروڑ بچے سکول ہی نہیں جا رہے تو بہتر مستقبل کی اُمید لگانا ذرا مشکل معلوم ہوتا ہے اور 79فیصد 10 سال سے کم عمر بچے لکھنے پڑھنے کی صلاحیت سے ہی محروم ہیں تو معاملات کیسے چلیں گے۔ جس نسل نے جوان ہو کر ملک کی باگ دوڑ سنبھالنی ہے، وہ جدید علوم تو دور کی بات فقط لکھنے پڑھنے سے ہی محروم ہے۔ہمارے ہمسایہ ملک بھارت میں لٹریسی ریٹ 80 فیصد سے زائد ہے جبکہ اِس کے نوجوانوں کی اکثریت انفارمیشن ٹیکنالوجی سے لیس ہو کر پوری دنیا میں اپنی دھاک جما رہی ہے۔بہر حال وقتاً فوقتاً اِس طرح کی رپورٹس سامنے آ رہی ہیں، کبھی آئی ایم ایف پاکستان کی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا نظر آتا ہے اور کبھی عالمی بینک کی رپورٹ ہماری کوتاہیوں کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ بنگلہ دیش ہمارے بعد معرضِ وجود میں آیا تھا لیکن ہم سے کہیں آگے نکل چکا ہے۔اگر ہم اسی پرانی ڈگر پر چلتے رہے اورہم نے اپنی اصلاح نہ کی توہم کبھی بھی ترقی کی منازل نہیں طے کرسکیں گے۔
دہشت گردی اور افغان شہری
نگران وفاقی وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے پاکستان میں ہونے والے دہشت گردی کے اکثر واقعات میں افغان شہریوں کے ملوث ہونے کا انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ حال ہی میں بنوں میں سیکیورٹی فورسز کے قافلے پر ہونے والا خودکش دھماکا افغان شہری نے کیا تھا۔سینیٹ کی داخلہ کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے نگران وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ یقین ہے کہ میانوالی کے افسوس ناک واقعے میں بھی افغان شہری ہی ملوث ہوگا۔سرفراز بگٹی نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کے ہونے والے 26 واقعات میں سے 14 میں افغان شہری ملوث ہیں۔نگران وزیر داخلہ نے غیر قانونی طور پر رہائش پذیر غیر ملکیوں کی وطن واپسی کے حوالے سے بتایا کہ 4 لاکھ غیر قانونی طور پر مقیم افراد پاکستان سے واپس جاچکے ہیں، پہلے مرحلے میں تین لاکھ لوگ واپس گئے تھے مگر اب ان کی تعداد 4 لاکھ کے قریب ہے۔
پاکستان میں جاری دہشت گردی کی وارداتوںمیں افغانستان او رافغان شہریوں کاملوث ہونا ایک تلخ حقیقت ہے جس میں اب کسی بھی شک و شبہ کی گنجائش ہرگز نہیں رہی۔سرفراز بگٹی نے بالکل درست کہاہے کہ :’’ چمن بارڈر سے صرف لوگ پاکستان میں داخل ہی نہیں ہوتے بلکہ ایک بہت بڑا بارڈر ہے، لوگ آکر جو کام کرنا ہوتا ہے وہ کرتے ہیں اور چلے جاتے ہیں، ہم نے مذاق بنایا ہوا جس کا دل کرتا ہے وہ آجاتا ہے‘‘۔ضرورت اس بات کی ہے کہ اب یہ سنگین مذاق بند ہونا چاہیے اور غیرقانونی مہاجرین کونکالنے کے ساتھ ساتھ سرحدوں کی بھی کڑی نگرانی ہونی چاہیے۔
جسٹس اطہر من اللہ کے ریمارکس
سپریم کورٹ کے جسٹس اطہرمن اللہ کے یہ ریمارکس کہ ’’مارشل لا کو راستہ دینے والے فیصلے ختم اور ایسے فیصلے دینے والے ججوں کا بھی احتساب ہونا چاہیے‘‘ ایک ایسی کارروائی کی ضرورت کی نشان دہی کرتے ہیں جو سات عشروں سے وطن عزیز کے معاملات کی درستگی کیلئے ناگزیر ہے اور جس کا اب تک نہ ہونا ہی ملک میں آئین و قانون کی بالادستی اور جمہوری روایات کے استحکام کے فقدان کا بنیادی سبب ہے۔ تاہم آج سے پہلے یہ تصور بھی محال تھا کہ قانونی‘سیاسی اور صحافتی حلقوں کی جانب سے بارہا کیا گیا یہ مطالبہ ملک کی سب سے بڑی عدالت میں ایک آمر کے اقدام کیخلاف مقدمے کی سماعت کے دوران خود ایک منصف کی آواز بن کر ابھرے ہوگا۔پاکستان میں پارلیمان کی بالادستی اور جمہوریت کا گلا گھونٹے جانے کا آغاز ستمبر1954میںگورنر جنرل غلام محمد کے ہاتھوں آئین ساز اسمبلی توڑے جانے کے اقدام کو اس وقت عدالت عظمیٰ کی سربراہی کے منصب پر فائز جسٹس منیر کے 10مئی 1955 کو سنائے گئے فیصلے میں خود ساختہ نظریہ ضرورت کی بنیاد پر جائز قرار دیے جانے کی شکل میں ہوا۔ جسٹس منیرکے اس فیصلے پر ایک ممتاز شخصیت کا یہ تبصرہ حقیقت کی بالکل درست ترجمانی ہے کہ’’وہ ایک ایسا شخص تھا جس نے پاکستان کو اسکے ابتدائی دنوں ہی میں سیاسی، سماجی اور اقتصادی اعتبار سے تباہی کی طرف دھکیل دیا‘‘۔ جسٹس منیر کا گھڑا ہوا یہی نظریہ ضرورت ملک میں پے در پے آئین شکنی کی وارداتوں کو عدالتوں سے سند جواز عطا کیے جانے کا ذریعہ بنا۔تاہم یہ امر خوش آئند ہے کہ آج خود سپریم کورٹ میں اس ضرورت کا برملا اظہار کیا جارہا ہے کہ آئین شکنی پر مبنی پرانے فیصلوں کو بھی مسترد کیاجائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے