اداریہ

عالمی ماحولیاتی کانفرنس

عالمی ماحولیاتی کانفرنس (کاپ28)کانفرنس میں اقوام متحدہ کے عالمی موسمیاتی ادارے (ڈبلیو ایم او) نے 2023ء کو دنیا کی تاریخ کا گرم ترین سال ہونے کا امکان ظاہر کرتے ہوئے اپنی رپورٹ میں انتباہ کیا کہ مستقبل قریب میں سیلاب، جنگلات میں آتشزدگی، برف پگھلنے اور ہیٹ ویوز جیسے واقعات کی شدت میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔ عالمی ادارے کی رپورٹ میں کہا گیا کہ پیرس معاہدے کے مقاصد کے حصول میں ناکامی کے حوالے سے ایک اور معاہدہ کرنا ضروری ہے، ورنہ موسمیاتی تبدیلیوں کے بدترین اثرات سے بچنا مشکل ہوگا۔ رپورٹ کے اجراء سے قبل ڈبلیو ایم او کے سیکرٹری جنرل نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ دنیا 2.5 سے تین ڈگری سینٹی گریڈ اضافے کی جانب بڑھ رہی ہے جس کا مطلب ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات مزید سنگین ہو جائیں گے، 2015ء سے 2023ء تک تمام برس انسانی تاریخ کے گرم ترین سال رہے ہیں، 2023ء کا ڈیٹا اکتوبر تک کا ہے تاہم عالمی ادارے کے مطابق آخری دو ماہ میں ایسی کسی تبدیلی کا امکان نہیں جو رواں سال کو گرم ترین ہونے سے بچا سکے۔ یاد رہے کہ 2015ء کے پیرس معاہدے میں طے کیا گیا تھا کہ عالمی درجہ حرارت کو 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز نہیں کرنے دیا جائے گا۔یہ عالمی کانفرنس دبئی میں ہوئی جس میںموسمیاتی تبدیلیوں سے نبٹنے کے لئے 30 ارب ڈالر کا فنڈ قائم کر دیا گیا ہے۔ اِس کا اعلان متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے صدر شیخ محمد زاید النہیان نے کیا۔ کانفرنس میں بتایا گیا کہ 2030ء تک تمام ترقی پذیر معیشتوں کو موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے بچانے کے لئے سالانہ 2.4 کھرب ڈالر کی ضرورت ہو گی۔ کاپ28 میں اب تک یو اے ای نے 100 ملین ڈالر،برطانیہ نے 60ملین پاونڈ،امریکہ نے 17 ملین ڈالر،جاپان نے 10 ملین ڈالرز اور یورپی یونین نے جرمنی کے 10 ملین سمیت مجموعی طور پر 225 ملین ڈالرز دینے کا اعلان کیا ہے۔ یاد رہے کہ فنڈ کا معاہدہ ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کے نمائندوں نے مل کر تیار کیا تھا تاکہ معاشی طور پر غیر مستحکم ممالک موسمیاتی تبدیلیوں کے نقصانات سے نبٹ سکیں۔ کانفرنس کے صدر جابر السلطان نے افتتاحی خطاب میں کہا کہ اِس کانفرنس نے تیل و گیس کمپنیوں کو شریک کر کے دلیری کا مظاہرہ کیا ہے، فوسل فیول پیدا کرنے والی کمپنیوں سے ڈائیلاگ ضروری ہے کیونکہ اِس کے بغیر صحت مند ماحول کے اہداف حاصل کرنا ناممکن ہے۔اُن کا کہنا تھا کہ تیل پیدا کرنے والی کمپنیاں ہی نقصان دہ گیسوں کے اخراج کو کم کر سکتی ہیں، دنیا مل کر ہی 2050ء تک ’’خالص زیرو کاربن‘‘ کا ہدف حاصل کرسکتی ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس کا کہنا تھا کہ پیرس موسمیاتی معاہدے کے مقاصد سے میلوں دور ہے تاہم ابھی بھی دیر نہیں ہوئی۔اُنہوں نے کہا کہ فوسل ایندھن کو جلانا بند کرنا چاہیے،متعلقہ کمپنیاں فرسودہ کاروباری ماڈل کو دُگنا نہ کریں اور حکومتیں فوسل فیول سبسڈی ختم کریں۔ نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے لاس اینڈ ڈیمیج فنڈ کو فوری طور پر فعال بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی سے متعلق امیر اور ترقی یافتہ ممالک کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہئے، یو اے ای اور سعودی عرب سمیت خلیجی اور مغربی ممالک موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے کے لئے پاکستان میں متبادل توانائی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کر سکتے ہیں۔ کاپ28 کے موقع پر ایک امریکی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے اْنہوں نے کہا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں کا ذمہ دار نہیں ہے لیکن موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث پاکستان میں تباہ کن سیلاب سے سندھ اور بلوچستان بری طرح متاثر ہوئے۔ اْن کا کہنا تھا کہ پاکستان یہ یقین دلانے میں کامیاب رہا کہ لاس اینڈ ڈیمیج فنڈ کو ترقیاتی فنڈز اور بڑے مالیاتی اداروں کے قرضوں سے الگ ہونا چاہئے۔ وزیراعظم نے کہا کہ سب جانتے ہیں کہ گذشتہ صدی کے دوران ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات کا ذمہ دار کون ہے، ممالک اور معیشتوں پر فیصلہ تھوپنے کی بجائے ایماندار مباحثہ اہم ہے، امیر ممالک کو خود ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہئے،لاس اینڈ ڈیمیج فنڈ سے متعلق اقوام متحدہ کے فریم ورک پر زیادہ عرصہ لگ سکتا ہے اِس لئے ورلڈ بینک جیسے بڑے عالمی مالیاتی اداروں کے ذریعے اِسے فعال بنایا جا سکتا ہے۔یاد رہے کہ گزشتہ عالمی کانفرنس (کاپ27) میں پاکستان دنیا کو یہ باور کرانے میں کامیاب رہا تھا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث مون سون کی بارشوں کے نتیجے میں تباہ کن سیلاب آیا تھا جو ملکی معیشت کو 10 سال پیچھے لے گیا تھا۔ وہ سیلاب جس نے تین کروڑ سے زائد افراد کو متاثر کیا، 4400 ملین ایکڑ سے زائد زرعی رقبے کو نقصان پہنچایا اورجس کی وجہ سے اس وقت 40 لاکھ بچوں اور لاکھوں حاملہ خواتین کو بنیادی صحت کی سہولیات میسر نہیں آ سکی تھیں۔ ملکی معیشت نے جی ڈی پی کا نو فیصد سے زائد موسمیاتی نقصانات کا بوجھ برداشت کیا،26 لاکھ سے زائد سیلاب متاثرین کی فوری نقد امداد کے لئے حکومت نے اپنے وسائل سے اربوں روپے کی ادائیگیاں کیں جو ملکی بجٹ پر بہت بھاری پڑا اور معیشت پر اِس کے شدید اثرات مرتب ہوئے۔ پاکستان کا موقف تھا کہ موسمیاتی تبدیلی کا بوجھ برابری کی بنیاد پر نہیں منصفانہ طور پر بانٹا جانا چاہیے، یہ موسمیاتی انصاف کا معاملہ ہے، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سب سے زیادہ کمزور طبقے پر پڑتے ہیں، موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لئے اقدامات نہ کئے گئے تو دنیا میں 2050ء تک 216 ملین افراد بے گھر ہو جائیں گے۔ایک جریدے نے اس بارے درست تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ دنیا پاکستان کو کیس سٹڈی کے طور پر لے کیونکہ پاکستان کی کوششوں ہی سے موسمیاتی تبدیلیوں کا سب سے زیادہ نشانہ بننے والے ممالک کے لئے فوری فنڈ کے قیام کی منظوری دی گئی تھی۔
انتخابی شیڈول2024ء
چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کا کہنا ہے کہ انتخابی شیڈول الیکشن سے 54 روز پہلے جاری ہو گا۔اسلام آباد میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کا کہنا تھا حلقہ بندیاں شائع ہو چکیں باقی سب کچھ بھی اپنے وقت پر ہو گا۔انہوں نے کہا کہ ہم سب کچھ اپنے وقت سے پہلے کر رہے ہیں، الیکشن شیڈول، آر آوز اور ڈی آر آوز کی تعیناتی بھی وقت پر ہو گی۔انتخابی شیڈول سے متعلق سوال پر چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کا کہنا تھا8 فروری سے پیچھے 54دن کا حساب لگا لیں۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے 2024ء کے انتخابات کے لیے بھرپور تیاریاںجاری ہیںاور انتخابی فہرستوں کا کام بھی مکمل کر لیاگیاہے۔ذرائع نے بتایا ہے کہ الیکشن کمیشن کو حتمی ووٹر فہرستیں نادرا سے موصول ہو گئی ہیں، الیکشن کمیشن کو بغیر تصاویر کے ووٹر فہرستیں موصول ہوئیں۔الیکشن کمیشن نے 90 فیصد اضلاع میں ووٹر فہرستیں مہیا کر دی ہیں، باقی اضلاع میں ایک دو دن تک فہرستیں پہنچ جائیں گی، ووٹرز 8300 پر اپنے ووٹ کا تجدید شدہ اندراج چیک کر سکتے ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ الیکشن کمیشن شفاف انتخابات کی جانب بھرپورتوجہ دے تاکہ الیکشن کے بعد کسی بھی سیاسی جماعت کو دھاندلی دھاندلی کا شور مچانے کا کوئی بہانہ ہاتھ نہ آسکے اور پرامن انداز میں انتقال اقتدار ممکن ہو سکے۔
ایل پی جی صارفین
نگران حکومت کی جانب سے پٹرول کی موجودہ قیمت برقرار رکھنے کا فیصلہ سامنے آیا ہے۔ دوسری جانب اوگرا نوٹیفکیشن کے ذریعے ایل پی جی گھریلواور کمرشل صارفین کیلئے مہنگے کئے جانے کے اعلان سے جہاں گرانی کے بوجھ تلے دبے عام لوگوں کی تشویش بڑھی وہاں کمرشل صارفین کی جانب سے بھی احتجاجی آوازیں آرہی ہیں۔ وزارت خزانہ کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، جو یکم دسمبر سے نافذ العمل ہو گیا، آئندہ 15روز کیلئے پٹرول کی قیمت میں اضافہ یا کمی نہیں کی گئی جبکہ دیگر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کیا گیا ہے۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 7روپے فی لیٹر، مٹی کے تیل کی قیمت میں 3روپے 82پیسے فی لیٹر اور لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت میں 4روپے 52پیسے فی لیٹر کمی کی گئی ہے۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمت 296.71روپے سے کم ہو کر 289روپے 71پیسے، مٹی کے تیل کی قیمت 204.98روپے سے کم ہو کر 201روپے 16پیسے اور لائٹ ڈیزل کی قیمت 180.45 روپے سے کم ہو کر 175روپے 93پیسے فی لیٹر ہو گئی۔ مائع پٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی قیمت میں 4روپے کلو گرام اضافے کا نوٹیفکیشن اوگرا کی طرف سے جاری کیا گیا ہے، جس کے تحت گھریلو سلنڈر کے نرخ 45روپے اور کمرشل سلنڈر 147روپے بڑھ گئے ہیں۔ ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے عوام میں بے چینی پائی جا رہی ہے اور صنعت کار بھی سراپا احتجاج ہیں۔نگران حکومت کو ایل پی جی کی قیمتوں میں بھی کمی کافیصلہ کرناچاہیے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے