اداریہ

عالمی برادری اور بھارتی دہشت گردی

نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کشمیر کو پاکستان اور بھارت کے درمیان امن کی کلید قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ترقی کا دارومدار امن پر ہے، بھارت سمیت تمام پڑوسیوں کے ساتھ پرامن اور تعمیری تعلقات کے خواہاں ہیں، بھارت سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد سے گریزاں ہے، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کشمیر پر اپنی قراردادوں پر عملدرآمد یقینی بنائے۔ پاکستان معاشی طور پر دنیا کے سب سے کم مربوط خطوں میں واقع ہے، پاکستان اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ خطے مل کر ترقی کرتے ہیں، اس لئے پاکستان بھارت سمیت اپنے تمام پڑوسیوں کے ساتھ پرامن اور تعمیری تعلقات کا خواہاں ہے۔ انہوں نے تنازعہ کشمیر کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان امن کی کلید ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کا تنازعہ سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر دیرینہ تنازعات میں سے ایک ہے، جموں و کشمیر کے حتمی تصفیہ کا فیصلہ اس کے عوام اقوام متحدہ کی زیر نگرانی رائے شماری کے ذریعے کرنے کا متقاضی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہندوستان نے پانچ اگست 2019 سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں اپنے غیر قانونی تسلط کو برقرار رکھنے کیلئے نو لاکھ فوجی تعینات کئے ہیں، اس مقصد کے لئے بھارت نے توسیع شدہ لاک ڈاون اور کرفیو نافذ کر رکھا ہے، کشمیر کے تمام حقیقی لیڈروں کو جیلوں میں ڈال دیا،پرامن احتجاج کو پرتشدد طریقے سے دبانا، جعلی ’’مقابلوں‘‘ اور نام نہاد ’’گھیراواور تلاشی کی کارروائیوں‘‘ میں معصوم کشمیریوں کے ماورائے عدالت قتل کا سہارا لیا گیا اور اجتماعی سزائیں دی گئیں، پورے کے پورے دیہات کو تباہ کر دیا گیا۔
وزیراعظم نے اپنی گفتگو میں بھارتی ریشہ دوانیوں سے خوب پردہ اٹھایا ہے۔کینیڈا جیسے مہذب ملک میں جس طرح بھارت دن دیہاڑے سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجر کا قاتل نکلا اس سے بھارت کا مکروہ چہرہ بری طرح بے نقاب ہوچکا اور مغربی دنیا کو بھی پتا چل چکا ہے کہ بھارت سیکولرازم کا نام لے کر کیا گل کھلا رہا ہے۔ دنیا کے سامنے اب یہ بات واضح ہ ہوچکی ہے کہ اس خطے میں جتنی بھی بدنظمی، فساد اور انتشار ہے اس کے پیچھے بھارت ہے مودی سرکار کا یہ وتیرہ بن چکا ہے کہ جو بھی اپنے حق کی بات کرے اسے موت کے گھاٹ اتار دو چاہے بھارت میں ہو یا کسی اور ملک۔ہردیپ سنگھ نجر کے قتل میں بھارتی خفیہ ایجنسی را کا ملوث ہونا اب پوری دنیا دیکھ چکی ہے، اس وقت عالمی برادری کو سمجھنا چاہیے پاکستان نے ہمیشہ بھارت کا اصل چہرہ دکھانے کی کوشش ہے۔ ہردیپ کا قتل یہ ثابت کرتا ہے کہ بھارت ایک سیکولر ریاست نہیں ہے بلکہ انتہا پسند اور اقلیتوں کے خون کی پیاسی ہے۔ ہردیپ سنگھ جی کا قتل دنیا کو دکھا رہا ہے کہ امن کا دشمن مودی کہتا ہے کہ انڈیا سیکولر اور پرامن ریاست ہے مگر حقیقت ایسی نہیں ہے۔
پاک سعودیہ تعلقات
سعودی عرب کا 93وان قومی دن کی تقریبا ت ابھی تک جاری ہیں۔سعودی حکومت اور عوام ہرسال 23ستمبر کو قومی دن مناتے ہیں۔سعودی عرب ایک ایسا ملک ہے، جس کا دستور قرآن وسنت ہے اور سعودی عرب کے حکمرانوں کا مقصد نظام اسلام کا قیام اور مسلمانان عالم کے لیے ملی تشخص کا جذبہ ہے۔خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعیزیز نے امت مسلمہ کے لیے جو خدمات انجام دی ہیں وہ تاریخ کا سنہرا باب ہے۔ اسلام اور امت مسلمہ کے لیے سعودی حکومت کی مخلصانہ و ہمدردانہ خدمات کو امت مسلمہ کبھی فراموش نہیں کرے گی۔ تمام دنیا کے مسلمانوں کی مملکت سعودی عرب اور اسکے حکمران اللہ تعالیٰ کا ایک تحفہ ہے۔ آج یہ مملکت اسلام اور مسلمانوں کا قلعہ ہے جس کی مقدس سر زمین پر قبلہ اور حرمین شریفین موجود ہیں، سعودی حکمرانوں کے اخلاص کی بدولت ملک میں قانون الٰہی کی عملداری اور امن و سکون کا دور دورہ ہے اور اس کے باشندے اپنی مقبول قیادت سے محبت اور وفاداری کے باعث خوشحال اور پرمسرت زندگی گزار رہے ہیں۔سعودی حکمرانوں کی پاکستان اور عالم اسلام سے ایک مضبوط عنایات ہیں چاہے وہ معیشت کی بہتری کیلئے تعاون ہو یا مسئلہ کشمیر سعودی حکمرانوںنے ہمیشہ پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔ ساتھ ہی سعودی حکومت نے ہمیشہ اپنے عوام کو اسلامی طرز حیات، جدید علوم وفنون کی خدمات اور مختلف شعبوں میں تعمیر و ترقی کے ہر ممکن مواقع فراہم کئے ہیں۔اسی طرح خدمت خلق کے لئے بھی آل سعود نے نیم سرکاری وغیر سرکاری تنظیم قائم کی جن میں رابطہ عالم اسلامی مسلمانوں کی بین الاقوامی تنظیم کا درجہ رکھتی ہے جس کا مقصد مسلمانوں میں یکجہتی پیدا کرنا،اسلام کی دعوت و تبلیغ اور اسلامی تعلیمات کو فروغ دینا اور اسلام کے بارے میں شکوک و شبہات کو دور کرنا اور گمراہ کن عقائد و نظریات کی نفی کرنا ہے۔ جبکہ بحیثیت پاکستانی ہم پر سعودی عرب کا اکرام یوں بھی لازم ہے کہ پوری دنیا میں مملکتِ خداداد پاکستان سے مخلصانہ دوستی جس طرح سعودی عرب نے نبھائی ہے اور نبھا رہا ہے، وہ کہیں اور دکھائی نہیں دیتی۔پاکستان اور سعودی عرب کی عوام دوقالب اوریکجان ہیں۔دونوں اقوام کلمہ اسلام کے مضبوط رشتے سے بندھے ہوئے ہیں اور ان کایہ تعلق رہتی دنیا تک قائم و دائم رہے گا۔
چیف جسٹس کا قابل تحسین اقدام
ایک رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ میں زیرالتواء کیسوں کی تعداد تقریباً 57ہزار تک جاپہنچی ہے۔ تاہم نئے چیف جسٹس نے منصب سنبھالنے کے فوراً بعد زیر التواء مقدمات کے انبار کو تیز رفتاری سے نمٹانے کی حکمت عملی تشکیل دینے کیلئے عملی اقدامات شروع کردیے۔دوروز قبل چیف جسٹس نے پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے نمائندوں سے ملاقات کی تاکہ اعلیٰ عدلیہ میں زیر التوا ہزاروں مقدمات کی تعداد میں کمی لانے کیلئے حکمت عملی مرتب کی جاسکے۔ ماضی میں ’لا اینڈ جسٹس کمیشن‘ زیر التوا مقدمات کے اعدادوشمار کو باقاعدگی سے اپ ڈیٹ کرتا تھا لیکن سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے دور میں جو لاء اینڈ جسٹس کمیشن کے چیئرمین بھی تھے، زیرالتوا کیسز سے متعلق اعدادوشمار ویب سائٹ سے ہٹا دیئے گئے تھے۔ تاہم عدالت عظمیٰ کے نئے دور میں زیر التواء کیسوں کو نمٹانے پر بھرپور توجہ دی جارہی ہے۔ سپریم کورٹ کے ذرائع کے مطابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے پہلے تین دنوں میں سماعت کیلئے مقرر کئے جانیوالے 56فیصد کیس نمٹا دیے گئے۔ 19سے 21ستمبر تک 313 کیس سماعت کیلئے مقرر ہوئے اورپانچ بنچوں نے 313 میں سے 174 کیس نمٹادیے۔ توقع کی جاسکتی ہے کہ اس دور میں عدالتی نظام میں وہ تمام ضروری اصلاحات عمل میں لے آنے کی ہر ممکن تدبیر کی جائیگی جن سے انصاف میں تاخیر کا مستقل بنیادوں پر خاتمہ ہوجائے۔یہ حقیقت ہے کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو عدالت عظمیٰ کی سربراہی اس حال میں ملی ہے کہ ہزاروں زیر التواء مقدمات کا انبار لگا ہے لیکن انہوںنے صرف پہلے تین دنوں میں56فیصد کیس نمٹا کرایک اعلی روایت قائم کر دی ہے۔اگر یہی صورتحال رہی تو وہ دن دور نہیں جب سپریم کورٹ میں زیر التواء تمام کیسوں کو نمٹا دیاجائے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *