کالم

صحافت، صحافیوں کیلئے آزادی ایک خواب

رخسانہ اسد

صحافت ایک مقدس پیشہ ہے صحافتی اہمیت کے پیش نظر صحافت کو ملک و قوم کا ہمیشہ چوتھا ستون سمجھا جاتا ہے۔ صحافت کے شعبہ سے وابستہ افراد نے اپنی نجی لائف سیاسی سماجی اور مذہبی وابستگی سے بالاتر ہو کر ہمیشہ حقائق پر مبنی رپورٹنگ کرتے ہوئے صحافتی ذمہ داریاں بطریق احسن انجام دی ہیں۔ با اثر افراد کے خلاف مظلوم کے ساتھ ڈٹے ہوئے ظلم و ستم کے خلاف آواز بلند کیا،صحافیوں نے ہمیشہ ملک کی سلامتی کیلئے مثبت کردار ادا کرتے ہوئے دہشتگردی اور ملک دشمن قوتوں کا نشانہ بن کر جام شہادت نوش کیا۔سال2010 میں پاکستان آزادی صحافت کے معاملے میں دنیا کے178 ممالک میں 151 ویں نمبر پر تھا اور صحافتی سلامتی کے حوالے سے بھی پاکستان دنیا کا ایک خطرناک ملک تصور کیا جاتا ہے۔ سال 2010 میں 16 صحافی دوران فرائض اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ صحافیوں کو وسائل سے زیادہ مسائل سے دوچار کیاجاتاہے ۔پاکستان میں ہر حکومت نے زبانی حد تک تو میڈیا کی آزادی کی باتیں بہت کی ہیں لیکن صحافیوں پر حملوں میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچانے میں کبھی زیادہ سنجیدگی نہیں دکھائی۔مسلم لیگ (ن) کی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ صحافیوں کے تحفظ کے لیے نیا قانون جلد
پارلیمان میں لے کر آئے گی جس سے حالات میں بہتری آئے گی۔ آسٹریلین ہائی کمشنر مارگریٹ ایڈمسن نے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ ’ہم حال ہی میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل میں منتخب ہونے والے پاکستان اور اقوام متحدہ کی تمام اراکین ریاستوں کی توجہ صحافیوں کے لیے محفوظ اور قابل اطمینان ماحول کی فراہمی کی طرف دلانا چاہتے ہیں، تاکہ وہ اخلاقی اور آزادانہ طور پر کام کرسکیں۔ اب تک مارے جانے والے سو سے زائد پاکستانی صحافیوں کے مجرموں تک قانون کا ہاتھ آج تک نہیں پہنچ سکا ہے۔ رپورٹ کے مطابق گذشتہ ایک سال میں بھی اس بابت صورتحال تبدیل نہیں ہوئی ہے۔محمد جان سلیمانی، رپورٹر – نشانہ بنا کر قتل – قلات، بلوچستان۔ 13 جنوری 2017مور عباس، ٹی وی کیمرہ مین۔ نشانہ بنا کر قتل۔ کراچی (سندھ)۔ 15 فروری 2017لال سحر، رپورٹر۔ منکیرا (بھکر)۔ نشانہ بنا کر قتل۔ تین مارچ 2017بدالرزاق، نامہ نگار۔ نشانہ بنا کر قتل۔ قصور (پنجاب)۔17 مئی 2017بخشیش الہی، بیورو چیف۔ نشانہ بنا کر قتل۔ ہری پور (کے پی)۔ 11 جون 2017رانا تنویر۔ رپورٹر۔ اقدام قتل۔ لاہور (پنجاب)۔ نو جون 2017اگران واقعات کی ایف آئی آر جو درج ہونے کی بات کریں توقارئین پڑھ کرحیران ہوجائیں گے کہ 100 فیصد ایف آئی آر درج ہوئیں مگرسزاکی بات کریں تو صفر اورفالواپ بھی نہیں ہوا۔اگرچہ یہ حملے اور ہلاکتیں ان کے صحافتی کام کی وجہ سے ہوئے لیکن ان چھ واقعات میں سے کسی ایک میں بھی میڈیا ہائوس یا ریاست نے انصاف کی جانب پہلا قدم یعنی ایف آئی درج نہیں کروائی۔اس سے یہ بات واضع ہوتی ہے کہ ادارے صرف مال کمانا جانتے ہیں مگراپنے نمائندے کو پروٹیکشن دینی کی باری آئے توسب سے پہلے اعلان لاتعلقی لگا دیتے ہیں حالانکہ اس نمائندے کو سب سے زیادہ اپنے ادارے کی اسی وقت ضرورت ہوتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Diyarbakır koltuk yıkama hindi sex