کالم

شہرلاہور تیری رونقیں دائم آباد

ارفع رشید عاربی

ہمارا پیارا وطن قلعہ اسلام ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی خوبصورتی اور تہذیب و ثقافت کے لحاظ سے بھی اپنی مثال آپ ہے ۔ اس کے تمام شہر اپنی خوبصورتی، تاریخی ورثہ اور الگ ثقافت کی بدولت اپنا منفرد مقام رکھتے ہیں اور ہمیں دل و جان سے عزیز ہیں ۔ اس لئے مشہور شاعر منیر نیازی نے کہا ہے:
پاکستان کے سارے شہرو، زندہ رہو پائندہ رہو
روشنیوں رنگوں کی لہرو، زندہ رہو پائندہ رہو
ان تمام شہروں میں سے شہر لاہو ر اپنی روایات ، کھانوں ،زندہ دلی اور تاریخی عمارات کے باعث اپنا ایک خاص مقام رکھتا ہے اس لئے یہ پاکستان کا دل کہلاتا ہے۔ یہ آبادی کے لحاظ سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب کا دارالحکومت ہے۔ مغل بادشاہ بابر و ہمایوں کے عہد میں اسے پنجاب کا دارالحکومت بنایا گیا تھا اور تب سے اب تک یہ شہر پنجاب کا دارالحکومت ہے اور دریائے راوی سے دو میل کے فاصلے پر آباد ہے۔ پرانی تاریخوں میں کہیں اس کا نام لہاور اور نہاور، کہیں لوہ پور اور کہیں لاہور تحریر ہے ۔ برس ہا برس گزرنے کے بعد اس شہر کا نام صرف لاہوررہ گیا اور آج اسی نام سے مشہور و معروف ہے ۔ یہاں کے بسنے والے کئی اقسام کے لوگوں میں سیاستدان، فنکار، اداکار، کھلاڑی ، وکیل ، سنجیدہ اور لطافت کے میدان میں بڑے شہرت یافتہ نام شامل ہیں ۔ یہاں ہر طبقے نے اپنی صلاحیتوں کے نکھار میں ایک نئی طرز پیدا کی ۔ اندرون شہر لاہور بڑی خصوصیات، تہذیب اور کلچر سے بھر پور ہے اور یہاں کے لوگ بہت ملنسار اور دوسروں کا خیال رکھنے والے ہیں ۔ یہاں فنی زندگی سے بھی بہت سے لوگ وابستہ ہیں۔ کشیدہ کاری ، سلائی کڑھائی ، کھانے پکانے اور کھانے سے لطف اندوز ہونا یہاں کا اثاثہ ہے ۔ لاہور کے چٹ پٹے کھانوں اور فوڈ سٹریٹس کی دھوم پورے ملک میں ہے لیکن ان فوڈ سٹریٹس اور فوڈ بازاروں نے شہر کے قدیم تھڑا کلچر کو کسی حد تک ختم کر دیا ہے ۔ جہاں تھڑوں پر دن میں عورتیں اور بچے بیٹھ کر سماجی روابط کے تانے بانے بنتے تھے تو وہاں رات گئے نو جوان مل بیٹھتے اور بوڑھے قصے کہانیاں سناتے ، ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک ہوتے اور یوں اپنائیت اور شناسائی کے رشتے مضبوط تر ہوتے تھے ۔ اندرون لاہور میں خوبصورتی بہت زیادہ ہے ۔ اونچے اونچے مکانات ہیں ، گلیاں تنگ اور چھوٹی ہیں جس کی وجہ سے دھوپ کم آتی ہے۔ اندرون لاہور مکانوں کی ثقافت میں نقش و نگار ، بالکونیاں ، کھڑکیاں ، محرابیں اور دروازےخاص اہمیت کے حامل ہیں ۔
شہر لاہور کی وجہ شہرت یہاں کی 144 تاریخی عمارات بھی ہیں جو ہمارے ملک کا بیش قیمت اثاثہ ہیں ۔ جن میں مینار پاکستان بہت مشہور ہے، جو اقبال پارک میں 23 مارچ 1940 ء میں مسلم لیگ کی یادگار اور قرارداد لاہور کے حوالے سے تعمیر ہوا۔مزید اہم ترین تاریخی عمارات میں بادشاہی مسجد ، شاہی قلعہ، مسجد وزیر خان ، مقبرہ جہانگیر ، مسجد کہنہ حمام والی ، سنہری مسجد ، شالا مار باغ ، مقبرہ علی مردان خان ، کامران کی بارہ دری ، داتا دربار اور لاہور میوزیم وغیرہ شامل ہیں جن کی بناوٹ ایک خاص آرٹ اور فکر کا نمونہ پیش کرتی ہیں ۔ اس کے علاوہ لاہور کے بارہ دروازے اور ایک چھوٹا دروازہ بھی بہت اہمیت کے حامل ہیں جو اپنی اپنی تاریخ رکھتے ہیں۔ یہ تاریخی عمارات لاہور شہر کے حسن میں اضافہ کا موجب بننے کے ساتھ ساتھ لاہور میں سیاحوں کی تعداد میں اضافہ کا باعث بھی ہیں ۔ لاہور کے مختلف دروازوں کے سامنے سبزیوں پھلوں کی ریڑھیاں ، سرمہ اور منجن بیچنے والے، مالش کرنے والے اور ہڈی جوڑنے والے ڈاکٹر ( یعنی نیم حکیم ) موجود ہوتے ہیں ۔ انہی دروازوں پر کہیں کھو یا بیچنے والے مشہور ہیں تو کہیں چٹنیاں بیچنے والے ۔
اس شہر کے باسیوں کے شوق بھی بڑے نرالے ہیں مثلا پتنگ بازی اور کبوتر بازی وغیرہ جن کے یہاں با قاعدہ ٹورنامنٹ ہوتے ہیں ۔ یہ دین و مذہب کے معاملہ میں بھی کسی سے پیچھے نہیں رہے اور نہ ہی سیاست میں کوئی ان کا ہم پلہ ہے۔ لاہور میں بزرگوں کے بے شمار مزارات ہیں جہاں غریب اور نادار افراد کے لئے کھانا تقسیم کیا جاتا ہے۔
زائرین یہاں دعائیں مانگنے آتے ہیں ، کھانا کھاتے بھی ہیں اور تقسیم بھی کرتے ہیں ۔ ان مزارات پر عرس کی تقریبات اور محفل سماع بھی منعقد ہوتی ہیں ،جن میں ہر سال ہزاروں کی تعداد میں لوگ شرکت کرتے ہیں ۔ لاہور میں تعلیمی درسگاہیں بھی بہت ہیں ۔ سارے شمال مغربی ہندوستان میں سب سے پہلی لاہور یونیورسٹی 1860 ء میں بنائی گئی جو بعد میں 1883 ء میں پنجاب یونیورسٹی بنی ۔ اس کے ساتھ گورنمنٹ کالج ، ایف سی کالج ، ایچی سن کالج ، آرٹ کالج اور اسلامیہ کالج کو پر روڈ انیسویں صدی کے آخر میں بنے ۔
پھر لاہور کالج اور مزید نئے کالجز بنائے گئے جہاں پر ہر سال لاکھوں طالبعلم علم کی دولت سے مالا مال ہوتے ہیں ۔ کھیل میں بھی لاہور کا اپنا منفرد مقام ہے لیکن آرٹ کی دنیا میں چغتائی صاحب ، خورشید صاحب ، گوہر قلم اور دیگر کئی لوگوں نے بڑا مقام حاصل کیا ہے۔ لاہور میں ریڈیو کی آمد 1950ء میں ٹرانسمیٹر نصب کئے جانے سے ہوئی ۔ اس سے پہلے صرف پشاور میں ریڈیو اسٹیشن قائم تھا ۔ لاہور اور راولپنڈی کے بعد کئی جگہوں پر ریڈیو متعارف ہوا جس نے بہت سے فنکاروں کو ایک اعلیٰ مقام دیا کہ آج وہ لوگ بین الاقوامی شہرت رکھتے ہیں ۔ 1964ء میں پاکستان ٹیلیویژن لاہور آیا ۔ شاہ نواب ، آغا ناصر ، نثار حسین اور ذکاء درانی وغیرہ ٹی وی کے سیٹ اپ کے لئے لاہور آئے اور لاہور کے ٹرانسمیٹر ریڈیو اسٹیشن کے ایک کمرہ میں ٹی وی نشریات کا آغاز کیا۔ تب محترم اشفاق احمد ، قوی خان ، طارق عزیز اور دیگر نے اہم کردار ادا کیا۔ اُس وقت تمام پروگرام یعنی خبریں اور سٹیج ڈرامے وغیرہ براہ راست نشر کیے جاتے تھے ۔ لاہور کے بعد مختلف جگہوں پر الیکٹرانک میڈیا نے مقبولیت حاصل کی ۔ آج بھی الیکٹرانک میڈیا کے حوالے سے لاہور میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔ دوسری طرف بے شمار اخبارات اور میگزین بھی شہر لاہور کی نمائندگی اور لاہور کی تصویر پیش کر رہے ہیں ۔ جن سے یہ پتہ چلتا ہے کہ آج لاہور کے اندرونی کلچر میں بھی کچھ تبدیلیاں آئی ہیں ۔ شہر میں خود غرضی بڑھ گئی ہے اور جرائم پیشہ افراد چوری، ڈاکہ زنی اور قتل و غارت میں ذرا دیر نہیں کرتے ، یوں اخلاقی اقدار میں بھی تبدیلیاں آ رہی ہیں ۔ موجودہ لاہور میں افراتفری ہے، بے چینی ، بد امنی، مہنگائی اور عدم تحفظ ہے جسکی وجہ سے لوگ عدم برداشت کا شکار ہیں ۔ لیکن دولت کی ہوس پھر بھی ختم نہیں ہو رہی جس نے امن و محبت کو غارت کر دیا ہے۔ ان تمام بیکٹیریاز کے باوجود لاہور شہر کے لوگ اپنے ثقافتی ورثہ ، روایات اور تاریخ کو نہیں بھولے تبھی تو ان کی زندہ دلی مشہور ہے کہ لاہوری یہاں آنے والے افراد کی خوب مہمان نوازی کرتے ہیں اور مہمان کبھی لاہور کو بھلا نہیں پاتا۔ شاعر ناصر کاظمی نے کیا خوب کہا ہے
شہر لاہور تیری رونقیں دائم آباد
تیری گلیوں کی ہوا کھینچ کے لائی مجھ کو

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Diyarbakır koltuk yıkama hindi sex