کالم

شبلی کی حیاتِ معاشقہ منیر ابنِ رزمی

ڈاکٹر محمد الیاس الاعظمی

شبلی چوں بہ خلوت می رودفسانہ یا حقیقت ؟ڈاکٹر محمد الیاس الاعظمی رفیق اعزازی دارالمصنفین ، اعظم گڑھ ( بھارت ) کی 2022 کی ” نقوشِ شبلی ” میں کل 18 مضامین و مقالات شامل ہیں اور ایک کے سوائے تمام مقالات علامہ شبلی نعمانی کی جامع و کمال شخصیت کے کسی نئے پہلو یا نئے گوشے کے مطالعہ سے متعلق ہیں اور ان میں متعدد جدید مطالعات و تحقیقات بھی شامل ہیں ۔ترتیب میں دیباچہ کے علاوہ ۔۔1… علامہ شبلی کا بچپن اور تعلیم ۔2….. علامہ شبلی کا علمی ،ادبی اور فکری سرمایہ ۔۔3…… علامہ شبلی اور غالب۔4…. علامہ شبلی ، ڈپٹی نذیر احمد اور اعظم گڑھ ۔۔۔علامہ شبلی نعمانی اور نواب محسن الملک ۔۔۔6….. علامہ اقبال شبلی کی انجمن میں۔۔7….. علامہ شبلی اور عطیہ فیضی : چند حقائق ۔8…… علامہ شبلی : شیخ الحدیث مولانا محمد یونس جونپوریؒ کی نظر میں ۔9….. شبلی نیشنل اسکول اعظم گڑھ کی تاریخ کا ایک ورق۔10…… علامہ شبلی اور انجمن حمایت الاسلام لاہور۔۔11…… علامہ شبلی اور کلکتہ ۔۔12…… تصانیف شبلی کے دو دہلوی ناشرین۔۔13….. جہان شبلی ۔۔14….. علامہ شبلی سے متعلق سید سخی احمد ہاشمی کے نام چند غیر مطبوعہ خطوط ۔15……. علامہ شبلی کی چند غیر مدون تحریریں۔۔16…… علامہ شبلی کے نو دریافت خطوط ۔۔۔17…… علامہ شبلی کے متعلق دو مراسلے۔18……. مطالعہ شبلی کے چند زاویے ۔۔ یہاں مقطعے میں ایک سخن گسترانہ بات کرنے کو جی چاہتا ہے ۔
اس مجموعہ کا ایک مقالہ ” علامہ شبلی اور عطیہ فیضی کے تعلقات کے جائزے ” پر مشتمل ہے ۔صاحب کتاب کے بقول اس فرسودہ موضوع پر متعدد اہل قلم نے خامہ فرسائی کی ہے ، مگر اس کتاب میں تاریخی حقائق کی روشنی میں غالباً پہلی بار دونوں کے تعلقات اور خیالات کا محققانہ جائزہ پیش کیا گیا ہے ۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ جو داستان گھڑی گئی اور جسے بار بار دہرایا گیا ہے اور جسے آج بھی کم نظر دہرا دیتے ہیں ، وہ ایک فرضی داستان ہے ۔ اس کا حقیقت سے کوئی واسطہ نہیں اور اس میں بعض اہلِ قلم اور خود عطیہ فیضی کی کسی قدر ملمع سازی شامل تھی ۔۔ اس مقالہ سے بابائے اردو مولوی عبد الحق اور منشی امین زبیری کی پھیلائی ہوئی بعض غلط فہمیوں کا بھی ازالہ ہو جاتا ہے۔واقعہ یہ ہے کہ ” شبلی و عطیہ کے تعلقات ” کا معاملہ محض اس قدر تھا کہ عطیہ فیضی ، علامہ شبلی نعمانی کے دوست حسن علی آفندی کی چھوٹی بیٹی زہین اور تیز طرار خاتون تھیں ۔ جدید تعلیم یافتہ خواتین میں اپنے عہد میں نہایت ممتاز تھیں ۔علامہ شبلی نعمانی نے ” ملی مفاد کے پیش نظر ان کی
تربیت کرنی چاہی اور ان کی صلاحیتوں سے ملت کو فائدہ پہنچانا چاہا ” ۔ ۔۔۔۔۔۔ بس اس ذرا سی بات کو کم نظر مخالفین نے افسانہ کر دیا ، لیکن یہ افسانہ تاریخی حقائق کی میزان نقد پر کھرا نہیں اترتا ، بلکہ اس کی حیثیت محض افسانہ ہی ثابت ہوتی ہے ۔ 1922…23 میں علامہ شبلی کے وہ خطوط جو زہرا و فیضی کے نام تھے ، حاصل کر لئے اور 1925 ء میں بابائے اردو مولوی عبد الحق کے مقدمے کے ساتھ خطوط شبلی ” کے نام سے شائع کیا ۔ کئی ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں۔1950 میں نامور محقق استادِ گرامی ڈاکٹر وحید قریشی ( 1925….2009ء ) نے ” شبلی کی حیات معاشقہ ” سپردِ قلم فرمائی اور نفسیاتی تنقید کے حوالے سے شبلی کو ایک عاشق مزاج شخص ثابت کیا ۔شیخ محمد اکرام ( 1908…..1973 ) نے ” شبلی نامہ ” میں وادی گل رنگ میں رنگ بھرے ۔ممتاز ادبی مورّخ اور نقاد ڈاکٹر جمیل جالبی ( 1929….2019 ) جیسے نامور اہل قلم نے بھی ” تاریخ ادب اردو ” میں شبلی کےذکر میں پہلے عطیہ کا ذکر کیا ہے۔ معروف ادبی مجلہ ” فاران ” کے سخن سنج ،ادیب ،شاعر اور نعتیہ شاعری میں فیضانِ اِسم اعظم محمد ؐ ” ماہرِ القادری ” میں بہ اندازِ دگر اپنی کتاب ” یاد رفتگاں ” میں عطیہ فیضی پر دفیاتی مضمون میں ذکر برگ ریز کیا ہے۔نصراللہ خان ( 1920…..2002 ) کی زندگی صحافت ، تدریس اور ریڈیو کے شعبے میں گزری ۔ ان کو نثر نگاری کا خاص سلیقہ تھا ۔انھیں خاکہ نگاری میں مہارت حاصل تھی ۔ ان کی کتاب ” کیا قافلہ جاتا ہے ” 52 خاکوں کا مجموعہ ہے جو دوسری بار راشد اشرف نے 2017 میں بزمِ ادب کراچی سے شائع ہوا ۔( ڈاکٹر محمد الیاس الاعظمی ) ۔نقوش شبلی کے مصنف کے مطابق نصر اللہ خان نے اپنے دلفریب انداز نگارش میں انٹرویوز عطیہ فیضی ( 1877….1967 ) کے خاکہ میں خاص طور پر علامہ شبلی کےذکر میں بے حد مبالغہ سے کام لیا ہے ۔ خطوط شبلی سے اندازہ ہوتا ہے کہ آگ برابر لگی ہوئی تھی ۔ نقوشِ شبلی کے مطابق عطیہ بیگم کے خاکے میں اقبال کے دلی لگائو کا زکر سرے سے نظر انداز کیا ہے ( عزرگناہ بدتر از گنہ ۔۔۔شاید ) ۔چونکہ علامہ شبلی اپنے عہد کی کانگریس کے حامی اور مسلم لیگ کے مخالف تھے ۔اس لئے ” دو قومی نظریہ ” کے مخالف کے لئے اس کی داستان معاشقہ بیان کرنے سے زیادہ لطف و لذت کی اور چیز ہو سکتی تھی ۔ مولوی عبد الحق ، علامہ شبلی کی جا و بےجا تنقید نہیں تنقیص کرتے رہتے تھے ۔اس کا آغاز گلشنِ ہند ” کے مقدمے میں علامہ شبلی پر سخت تنقید سے ہوا ۔ پھر حافظ محمود شیرانی ” سے تنقید شعر العجم لکھوائی اور اسے 5…6 برس تک مسلسل اپنے رسالہ ” اُردو ” میں شائع کرتے رہے ۔۔۔۔۔۔۔ ایسے ماحول میں زبیری "نے۔ خطوط شبلی۔۔ گویا خوان سجا کر پیش کر دیا اور ایسا طوفان کھڑا کر دیا کہ یہ اہلِ قلم کا ایک محبوب موضوع قرار دیا ۔ڈاکٹر ابنِ فرید ( 1925….2007 ) نے جواب میں ” شبلی چوں بہ خلوت می رود ” لکھا ۔القصہ نصر اللہ خان نے یہ بات قطعی طور پر سچ لکھی ہے کہ ” عطیہ کی شخصیت انتہائی پر اسرار تھی ۔ ” اپنی دوست سر وجنی نائیڈو ” کی بات ٹھکرا کر قائد اعظم محمد علی جناح کی بہن مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کی خواہش پر پاکستان میں ہجرت کی ۔قلم فاؤنڈیشن انٹرنیشنل ، لاہور کی شائع کردہ کتاب اسلام آباد سے میرے ادبی جاگیر دار ، ” محمد سجاد امین ثم تلمبوی ” نے دیگر کتب کے ساتھ ڈاک روانہ کی تھی ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے