کالم

سی آئی اے گوجرانوالہ کی کارکردگی

چوہدری عمران الٰہی

اندرونی خلفشار اور برائیوں پر قابو پانا ایک اچھے حکمران کی ضرورت ہوا کرتا ہے ۔ سیدنا فاروق اعظم نے اس مسئلہ کے حل کیلئے پولیس کے محکمہ کی بنیاد رکھی اور لوگوں کو فوری اور آسان انصاف کی فراہمی اور جرائم کی روک تھام کیلئے اس محکمہ کو منظم کیا۔ حضرت عمر فاروق نے لوگوں کی فلاح اور بہتری کیلئے کئی ایسے قوانین نافذ کئے جن کا تقاضا انسانی اخلاقیات کرتی ہے ۔ حضرت عمر فاروق نے قیام امن کی خاطر محکمہ پولیس کی بنیاد رکھی اس سے قبل شہروں اور قصبوں کی اندرونی حفاظت کا انتظام لوگ خود ہی کرتے تھے ۔ آپ نے پہرے داروں کا تقرر کیا جنکا کام راتوں کو گشت کرنا اور تاریکی کے اوقات میں حفظ امن تھا۔ اس محکمہ کیساتھ جیل آپ نے قائم کی ۔ حضرت عمر کے قائم کردہ محکمہ پولیس کے آفیسر کو’’صاحب الاحداث‘‘کہتے تھے ۔ آپ نے حضرت ابوہریرہ کو بحرین میں پولیس کے اختیارات دیئے تاکہ دوکاندار ناپ تول میں دھوکا نہ دیں‘کوئی آدمی سڑک پر مکان نہ بنالے جانوروں پر زیادہ بوجھ نہ لادا جائے‘علانیہ شراب نہ بکے ۔اسی طرح حضرت عمر نے حضرت عبداللہ بن عتبہ کو بازار کی نگرانی کیلئے مقرر کیا۔ مغل دور میں مختلف علاقوں کے زمینداروں کو اپنی اپنی جاگیر میں امن عامہ کو کنٹرول کرنے کیلئے اختیار دیئے گئے ۔ صدیوں پر محیط معلوم انسانی تاریخ کے دوران مختلف ناموں سے پولیس ہی معاشرے سے جرائم کے خاتمے ،امن کے قیام اور قانون کی بالادستی کیلئے اپنا متعین کردار ادا کرتی چلی آ رہی ہے ۔ کوئی بھی معاشرہ امن و امان کے بغیر پروان نہیں چڑھ سکتا اور امن و امان کے قیام میں پولیس کا کردار کلیدی ہوتا ہے ۔ پولسنگ در حقیقت ایک مسلسل عمل ہے تاکہ معاشرے میں کسی بھی قسم کا کوئی بگاڑ نہ پیدا ہونے دیا جائے ۔ کسی بھی ملک اور معاشرے سے 100فیصد تک جرائم کا خاتمہ ممکن نہیں مگر ان کی روک تھام کیلئے قائم کردہ ادارے اور ان میں تعینات افسران و عملہ اپنے
فرائض ذمہ داری سے ادا کرے تو جرائم کی شرح میں واضح کمی ضرور لائی جا سکتی ہے ۔ امن و امان کی صورتحال کو بحال رکھنے میں پولیس کا کردار کسی سے بھی مخفی نہیں ۔ جس معاشرے میں پولیس اپنے فرائض ایمانداری سے بہتر طور سے انجام دیتے ہیں ۔ وہاں پر جرائم کی شرح نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے ۔ قانون نے معاشرتی امن کیلئے پولیس کو اختیارات جبکہ ریاست نے وسائل دیئے ہیں ۔ وسائل اور اختیارات کی موجودگی میں جرائم کی شرح کو کم ہونا چاہیے ۔سائنس و ٹیکنالوجی کے اس دور میں پولیس کی جانب سے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال امن و امان کی فضا بہتر بنانے میں معاون ثابت ہو رہا ہے ۔ پولیس نے کمپیوٹر و موبائل کے استعمال سے کافی کامیابیاں سمیٹی ہیں ۔ گوجرانوالہ پولیس‘سٹی پولیس آفیسر محمد ایاز سلیم کی زیر قیادت جرائم کے خاتمہ کیلئے سرگرم عمل ہے ۔ سی آئی اے جرائم کیخلاف جنگ میں ہراول دستے کا کردار ادا کر رہی ہے۔انچارج سی آئی اے عنصر موہل نے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف جہاد جاری رکھنے کا عزم کر رکھا ہے۔جرائم پیشہ عناصر کی سرکوبی کے لئے سخت اقدامات اپنائے جا رہے ہیں۔ بلا امتیاز کارروائیاں جاری ہیں۔ سٹی پولیس آفیسرمحمد ایاز سلیم نے ضلع بھر میں ڈکیتوں،چوروں اور جرائم پیشہ عناصر کیخلاف سخت کارروائیاں کرنے کے احکامات جاری کر رکھے ہیں۔انہی احکامات کے پیش نظرڈی ایس پی سی آئی اے اعجاز احمد کی زیرِنگرانی انچارج سی آئی اے انسپکٹر عنصر موہل و دیگران پرمشتمل پولیس ٹیم نے اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ڈکیتی کی متعدد وارداتوں میں ملوث تین ڈکیت گینگز کے نو ارکان کو گرفتار کر کے دوران تفتیش ان کے قبضہ سے پانچ لاکھ تیس ہزار روپے نقدی برآمد کر لی۔گرفتار کیے گئے ملزمان میں جمشید عرف بلی، فائق، علی رضا، علی اکبر، ابوبکر، عابد، اسد علی، نبیل اور سمن شامل ہیں۔ ابتدائی تفتیش میں گینگ کے ملزمان نے انکشاف کیا کہ انہوں نے گوجرانوالہ اور اسکے مضافات میں ڈکیتی اور چوری کی متعدد وارداتیں کی ہیں۔ ملزمان نے مزید انکشاف کیا کہ وہ رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھا کر شہریوں اور موٹر سائیکل سواروں سے اسلحہ کے زور پر نقدی اور موبائل فون چھین کر فرار ہو جاتے۔ ڈکیتوں اور چوروں کیخلاف بھر پور کارروائیاں کرنے پر علاقہ مکینوں نے پولیس کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے ۔ ہم شاندار کارکردگی پر سی پی او گوجرانوالہ رانا ایاز سلیم ‘ڈی ایس پی اعجاز احمد ‘انچارج سی آئی اے عنصر موہل اور انکی تمام ٹیم کو مبارکباد پیش کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ وہ اپنی اعلیٰ کارکردگی سے پولیس کا امیج بہتر اور معاشرے کو امن و امان کا گہوارہ بنانے میں کامیاب ہونگے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Diyarbakır koltuk yıkama hindi sex