کالم

سیرت ِحضرت محمد مصطفیٰ ﷺ

ارفع رشید عاربی

جس وقت رسالت مآب حضرت محمدرسول اللہ ؐ دنیامیں تشریف لائے دنیا سےطاغوتی قوتوں کے تخت اُلٹ گئے ۔ صنم کدوں کے بُت پاش پاش ہو گئےکہ آج مسالک ابراہیمیؑ کی تکمیل کا دن آگیا۔ اُس آفتاب عالمتاب کا طلوع ہوا جس کے بھیجنے والے نے خود اُنھیں جگمگاتا چراغ کہہ کر پُکارا۔ انسانیت کُش نسلی، جغرافیائی ، وطنی اور غیر فطری معیار سب ایک ایک کرکے ٹوٹتےچلے گئے۔یہ آنے والے رسولؐ رحمتہ الالعٰلمین بن کر آئےاور اپنے ساتھ نظام عدل و حریت لائے۔ صداقت جہاں کہیں بھی تھی اسی کتاب مبین کا کوئی نہ کوئی ورق تھی جو حضرت محمدؐ کی وساطت سے دنیا کو ملی۔ روشنی جس مقام پر بھی تھی وہ اسی قندیل آسمانی کی کوئی نا کوئی کرن تھی جو قلب نبویؐ میں اُتاری گئی۔
حضرت عبد المطلب اپنے قبیلہ کے نامور سردار تھے انھوں نے اپنے بیٹے حضرت عبداللہ کی شادی قبیلہ زہرہ میں وہب بن عبد مناف کی صاحبزادی حضرت آمنہ سے کی جو قریش کے گھرانے میں ممتاز تھیں۔ اسی مکرم و ممتاز گھرانے میں موسم ِ بہار میں دو شنبہ کے روز 9 ربیع الاوّل مطابق 20 اپریل سنہ561 بوقت صبح اِس نیّر عالمتاب کا طلوع ہوا۔ دادا نے اپنے مرحوم لخت ِجگر کی یادگار کو اپنی گود میں لیااور خانہ کعبہ میں جا کر دعا مانگی۔ بچے کا نام محمد رکھا اور اہل قبیلہ سے کہا میں چاہتا ہوں کہ میرا بچہ دنیا بھر کی ستائش و تعریف کا شایاں قرار پائے۔ والدہ نے نام احمد رکھا۔ قریب چھے برس کی عمر تھی کہ والدہ کا بھی انتقال ہو گیا اور آپؐ کی کفالت کا ذمہ آپ ؐکے دادا نے لیا۔آپؐ کی پیدائش و پرورش اُس ماحول میں ہوئی جہاں شرک اور بُت پرستی عام تھی۔ کعبہ ایک بُت کدہ تھااور آپ کا خاندان اس بُت کدہ کا کلید بردار۔ اس کے باوجود آپؐ نے ہمیشہ مراسم شرک سے اجتناب برتا۔ معاشرہ عرب کی تمام معیوب باتیں بھی حضورؐ کے حُسن ِ سیرت کو آلودہ نہ کر سکیں۔ عربوں کی سفّاکی اور خون آشامی کی داستانیں مشہور تھیں لیکن امن و سلامتی کے شہزادے کے دامن کو خون ِنا حق کے ایک قطرہ نے بھی داغدار نہ کیا۔ حضورؐ کے حُسن ِتدبُّر سے قریش کی خون آشام تلواریں پھر سے زیر نیام ہوجاتیں ۔ جس کی ایک مثال بوقت تعمیر کعبہ حجر اسود کو نصب کرنے کا واقعہ ہے۔
قریش کا ذریعہ معاش تجارت تھا۔ چنانچہ آپؐ جب سن ِ رُشدکو پہنچےتو تجارت کو ہی اپنایا۔ کُچھ ہی عرصہ میں آپؐ کے حُسنِ معاملہ و دیانتداری کی شہرت ہر طرف پھیل گئی ۔ ہر شخص چاہتا تھا وہ آپؐ کو اپنے کاروبار میں شریک کر لے۔ آپؐ راستبازی اور دیانتداری سے تمام امور سر انجام دیتے تھے۔ اسی پاکیزگی ء اخلاق ، حُسن معاملہ ، راست بازی اور دیانتداری کی بناء پر قوم نے متفقہ طور پرآپؐ کو امین کا لقب دیا۔
قریش کی نہایت ممتاز خاتون حضرت خدیجہ الکبریٰ جو اپنی شرافت او رپاکیزگی ء اخلاق کی بناء پر ایّامِ جاہلیت میں طاہرہ کے نام سے پُکاری جاتی تھیں نے حضورؐکو پیغامِ نکاح بھیجا اور حضورؐ نے شرافت و نجابت کے پیشِ نظر اس پیغام ِ رفاقت کو قبول فرمایا۔
حضرت محمدؐکے دعویٰ رسالت کے بعد عرب کے ہر گوشے سے مخالفت کا ہجوم اُمڈ آیاتھا۔ لوگ آتے اور حضورؐ کے دعوےٰ کا ثبوت طلب کرتے تو آپؐ فرماتےکہ میں کہیں باہر سے نہیں آیا۔ تم لوگوں کے اندر ایک پوری عُمر بسر کر چکا ہوں کیا تم اس سے اندزہ نہیں لگا سکتے کہ میں ایک جھوٹا انسان ہوں یا سچّا، کیا تم ذرا بھی سوچ سمجھ سے کام نہیں لیتے۔
حضورؐ کی عُمر کا چالیسواں سال تھا ، رمضان کا مہینہ تھا اور رات کا وقت تھا جب لیلۃٍمُّبارکہ میں آپؐ پر وحی نازل ہوئی ۔ دنیا کو ایک آئین عطا ہوا جس میں تکمیل انسانیت کی تمام راہیں واضح طور پر سامنے آ گئیں۔ آپؐ نے وحی کا ذکر سب سے پہلے اپنی بیوی حضرت خدیجہ الکبریٰ سے کیا اور وہ حضورؐ کی صداقت پر فوراً ایمان لے آئیں۔ پھر آپؐ کے آزاد کردہ غلام حضرت زید ، پھر حضرت علی ابنِ ابی طالب فوراً نگہء عقیدت جھکا کر ایمان لےآئے۔ گھر کے باہر آپؐ کے قلبی دوست حضرت ابو بکر صدیق نے سب سے پہلے آپؐ کی صداقت کا اعلان کیا۔ آپ کی ترغیب سے ہی حضرت عثمان اور چند اور حضرات اس جماعت ِحق میں شامل ہوئے۔ کس قدر ثُریّا بخت اور فرخندہ اختر تھے یہ حضرات جنھیں قدوسیوں کی اس جماعت میں شرکت کی اوّلیت بلکہ اس جماعت کے منبیٰ و اساس ہونے کا شرف حاصل ہوا۔ جس نےدنیائے انسانیت میں عظیم انقلاب پیدا کرنا تھا۔
وحی ملنے کے بعد آپؐ پر انسانی دنیا میں انقلاب پیدا کرنے کا عظیم فریضہ عائد ہو گیا۔ چنانچہ ندائے خداوندی نے آپؐ کو پکارا اور کہا ” اے چادر میں لِپٹنے والے اُٹھیے اور لوگوں کو ڈرائیے( خبردار کیجیے) اور اپنے پروردگار کی بڑائی بیان کیجیے”ذمہ داریوں کی اس دنیا کو اپنے کندھوں پر اُٹھائے حضورؐ نے اپنی قوم کو مخاطب کیااور صفا کی پہاڑی پر چڑھ کر کھُلے عام دعوتِ نبوت اور دعوتِ انقلاب کی ابتداء کی۔ لوگوں نے اس دعوت کو سُنا اور مضحکہ خیز ہنسی سے استقبال کر کے واپس چلے گئے۔ اس کے بعد یہ سلسلہ دعوت و تبلیغ ایک نظام کی شکل میں آگے بڑھنا شروع ہوا جس کی ابتداآپؐ نے اپنے خاندان سے کی اور پھر مکہ مکرمہ اور حرمِ کعبہ سے ہوتی ہوئی چاروں اطراف میں پھیلی۔ آپؐ کو ہر طرح سے مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ یہاں تک کہ (اہل ِ کتاب ) یہود و نصاریٰ نے بھی مخالفت کی جو کہ آپؐ کو اچھی طرح پہچانتے تھے۔کیونکہ ان کے پاس آنے والے نبی کی بشارت اور ان کی تمام علامات موجود تھیں وہ دانستہ سچائی کو چھپاتےتھے۔ جو لوگ حضور ؐ پر ایمان لائے ان پر ہر طرح سے ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے گئے۔ آپؐ نے ان کو حبش کی طرف ہجرت کرنے کی ہدایت کی۔ لہٰذا ماہ رجب 5 نبوی میں 11 مرد اور 4 خواتین نے ہجرت کی۔ اس پہلی ہجرت کا مقصد مظلومین کی حفاظت گاہ تلاش کرنے کے ساتھ ساتھ پیغامِ اسلام کو عرب کی چار دیواری سے باہر پہنچانا بھی تھا۔ حبش کے بادشاہ نجاشی نے ان کو پناہ دی لیکن قریش کے جذبہء انتقام نے انھیں چین سے بیٹھنے نہ دیا اور اپنے سفیر عمرو بن العاص کو نجاشی کے دربار میں بھیجا جس نے بتایا کہ جو لوگ یہاں آئے ہیں اُنھوں نے نیا فتنہ پھیلایا ہوا ہے۔ نجاشی کے سوال پر حضرت جعفر طیار آگے بڑھے اور سورۃ مریم کی تلاوت شروع کر دی۔ نجاشی پر اس کا ایسا اثر ہوا کہ اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اُس نے سر اُٹھاکر کہایہ کلام اور انجیل دونوں ایک ہی شمع کی کرنیں ہیں۔ ” پھر اہل قریش سے کہا کہ جاؤ میں ان مظلومین کو واپس نہیں کروں گا۔”
خود حضور ؐ کی ذاتِ اقدس کو بھی کئی مظالم کا نشانہ بنایا گیا۔ آپؐ کے راستے میں کانٹے بچھائے جاتے، نماز پڑھتے ہوئے ہنسی اُڑاتے، سجدہ میں جاتے تو نجاست کا ڈھیر اوپر ڈال دیتے، دعوت اسلام دیتے تو ابو لہب برابر چِلّاتا کہ یہ (نعوذ باللہ ) جھوٹا ہے۔ جب حضورؐ کے پائے استقلال میں کمی نظر نہ آئی تو قریش آپؐ کے چچا حضرت ابو طالب کے پاس جا پہنچے اور دھمکی دی کہ آپ اپنے بھتیجے کو روکیں ۔ مگر آپؐ نے جواب دیا ” خُدا کی قسم! اگر یہ لوگ میرے ایک ہاتھ میں سورج اور دوسرے میں چاند لا کر رکھ دیں تب بھی میں اپنے فریضہ کی انجام دہی سے باز نہ آؤں گا۔ یا تو اللہ میرے اس مشن کو کامیاب کرے گا اور یا می اس پر قربان ہو جاؤں گا۔”
جب قریش ناکام ہو گئے تو انھوں نے سنہ 7 نبوی میں بنی ہاشم کا مکمل مقاطعہ اور محاصرہ کر دیا جو کہ تین برس تک جاری رہا۔ سنہ 10 نبوی میں آپؐ کے چچا حضرت ابو طالب کا انتقال ہو گیا اور کُچھ ہی دن بعد حضرت خدیجہ الکبریٰ نے بھی وفات پائی ۔ جس سے قریش کے حوصلے بڑھے اور اُنھوں نے ایذا رسانی و تکلیف دہی میں شدّت اختیار کر لی۔اہل مکہ سے نا امید ہونے کے بعد آپؐ طائف تشریف لے گئے اور وہاں کے رؤساء کو دعوت ِ اسلام دی۔ جنھوں نے نہایت حقارت سےگفتگو کی اور واپسی پر اوباش لوگوں نے آپؐ پر پتھر برسانا شروع کر دیے۔ یہاں تک کہ آپؐ کے جوتے لہو سے بھر گئے۔ آپؐ نے نگاہ اوپر اُٹھائی اور اللہ سے دعا کی۔
حضورؐپر جو وحی نازل کی گئی اس کی غرض و غایت “قیامِ دین” تھی۔ یعنی اس نظامِ دین کا قیام جس میں انسانیت اپنی منزل مقصود تک جا پہنچے۔ وہ عرب جو خود پسندی ،دعویٰ افضلیت اور کعبہ کے کلید بردار تھے ، سینکڑوں غلاموں اور کنیزوں کے مالک تھے کس طرح اس بات کو آسانی سے قبول کر لیتے کہ سب انسان برابر ہیں۔آپؐ نےشدیدمخالفت کے باوجود نہایت دلکش انداز و دل آویز اسلوب سے اسلام کی دعوتِ تبلیغ کی اور لوگ جوق در جوق دائرہ اسلام میں داخل ہوتے چلے گئے۔ آپؐ نے اہل ِ قریش کوغلط روش ِزندگی کے انجام و عواقب سے آگاہ کیا ساتھ یہ بھی بتایا کہ صحیح اسلوبِ حیات اُنھیں کامیابی و کامرانی کی جنّت کی طرف لے جائے گی۔ذمہ داری اور مہم پیش نظر کا یہی احساس تھا جو آپؐ کو راتوں کو سونے نہیں دیتا تھا۔ آپؐ دن بھر جدوجہد میں مصروفِ عمل رہتے اور رات کی تنہائیوں میں غور و فکر اور سوچ بچار سے اپنی مہم کی کامیابی کی تدابیر کرتے۔ اور یہ دیکھتے کہ قوانین خُداوندی کے تقاضے کیا ہیں۔ آپؐ یہ سب کُچھ اس قدر جذب و انہماک سے کرتے کہ آرام کا خیال بھی نہ رہتا۔ اس لیے سورۃ المزمل کے ذریعے آپؐ کی توجہ اس طرف مبذول کروائی گئی۔
آپؐ کی تمام سعی و جدوجہد بے غرض و بے لوث تھی۔ جس کا مقصد صرف یہ تھا کہ انسانیت کسی طرح صحیح رستے پر لگ جائے۔ نبی اکرمؐ کی زندگی کا آخری سال مدینہ میں گزرا۔ آپؐ نے اپنےآخری ایّام نمایاں سکونِ خاطراوراطمینانِ قلب سے گزارے جس کی بدولت آپؐ وصال سے تین دن قبل تک نماز کی امامت کرتے رہے۔ علالت کے دوران قیام کے لیے حضرت عائشہ کا مکان منتخب کیا جو مسجد سے متصل تھا۔ آخری مرتبہ مسجد تشریف لے گئے۔ حمد و ثنائے الہٰی کے بعد آپؐ نےمجمع سے خطاب فر مایا:’’میں نے تم میں سے کسی پر کوئی زیادتی کی ہے تو میں اس کے قصاص کے لیے حاضر ہوں۔ اگر مجھے کسی کا کچھ دینا ہے تو میرا جو کچھ ہے وہ سب تمھارا ہے۔”اس کے بعد آپؐ کبھی مسجد تشریف نہ لے جا سکے۔ آپؐ کی نقاہت سرعت سے بڑھتی چلی گئی ۔ دو شنبے کو دوپہر کے وقت 12 ربیع الاوّل 11 ہجری کو خشوع وخضوع سے زیر لب دعا مانگنے کے عالم میں اس پیغمبرِ اعظمؐ کی روح عالم قُدس میں “الرفیق الاعلیٰ مِن الجنّتہ” کے پاس پہنچ گئی۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو آپؐ کے اسوہء حسنہ پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *