کالم

سیرت نبوی ؐ

مسلم رسول چیمہ

سنت نبویہ مطہرہ جو ایک تجدد پزیر عطیہ اور تا قیامت باقی رہنے والا توشہ ہے۔اور جس کو بیان کرنے اور جس کے مختلف عنوانات پر کتابیں اور صحیفے لکھنے کے لیے لوگوں میں نبی کریمؐ کی بعثت کے وقت سے مقابلہ اور تنافس جاری ہے ،اور قیامت تک جاری رہے گا ۔یہ سنت مطہرہ مسلمانوں کے سامنے وہ عملی نمونہ اور واقعاتی پروگرام رکھتی ہے جس کے سانچے میں ڈھل کر مسلمانوں کی رفتار و گفتار اور کردار و اطوار کوبننا چاہیے ۔اور اپنے پرودگار سے ان کا تعلق اور اپنے کنبہ و قبیلہ ،برادران و اخوان اور افراد امت سے ان کا ربط اس کے عین مطابق ہونا چاہیے ۔اللہ عزوجل کا ارشاد ہے۔” یقیناً تمہارے ہر اس شخص کے لیے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں بہترین اسوہ ہے جو اللہ اور روز آ خرت کی امید رکھتا ہو اور اللہ کو بکثرت یاد کرتا ہو”اور جب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا گیا کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے
اخلاق کیسے تھے انہوں نے فرمایا ۔بس قرآن ہی آ پ کا اخلاق تھا ۔لہٰذا جو شخص اپنی دنیا اور آخرت کے جملہ معاملات میں ربانی شاہراہ پر چل کر اس دنیا سے نجات چاہتا ہو اس کے لیے اس کے سواہ کوئی چارہ کار نہیں کہ وہ رسول اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ کی پیروی کرے اور خوب اچھی طرح سمجھ بوجھ کر اس یقین کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کو اپنائے کہ یہی پروردگار کا سیدھا راستہ ہے ۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا :’’یعنی اے پیغمبر کہہ دو! اگر تمہیں اللہ سے محبت ہے تو میری پیروی کرو ۔اللہ تمہیں محبوب رکھے گا ۔اور تمہارے گناہوں کو تمہارے لیے بخش دے گا ۔ ‘‘ اس لیے یہ بھی ایک سبب ہے جو دلوں کو آ پ کا گرویدہ و وارفتہ بناکر کر ان اسباب و ذرائع کی جستجو میں ڈال دیتا ہے جو آ پ کے ساتھ تعلق خاطر کو پختہ تر کردیں ۔ آ پ کی سیرت طیبہ نام ہے آ پ کے اقوال و افعال اور اخلاق کریمانہ کا۔لہٰذا جس ذات گرامی کا یہ وصف ہے وہ یقیناً سارے انسانوں سے بہتر اور کامل ہے۔اور ساری خلق خدا کی محبت کی سب سے زیادہ حقدار ہےآ ج جبکہ مسلمان اس ربانی منہج سے دور ہٹ کر جہل و پسماندگی کے کھڈ میں جاگرے ہیں ،ان کے کیا ہی بہتر ہوگا کہ وہ ہوش کے ناخن لیں ۔اور اپنے تعلیمی نصابوں اور مختلف اجتماعات و مجالس میں اس بنا پر سیرت نبوی کو سر فہرست رکھیں کہ یہ محض ایک فکری متاع ہی نہیں ہے۔بلکہ یہی اللہ کی طرف واپسی کی راہ ہے۔اور اسی میں لوگوں کی اصلاح وفلاح ہے ۔کیونکہ یہی اخلاق و عمل کے میدان میں اللہ عزوجل کی کتاب قرآن مجید کی ترجمانی کا علمی اسلوب ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *