کالم

سول بیوروکریسی اور اینٹی کرپشن

محسن گورایہ

وفاقی بیوروکریسی کی ایک اہم شاخ ، پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس سے تعلق رکھنے والے پنجاب میں تعینات دو انتہائی نیک نام ،محنتی اور اپ رائٹ افسروں محمد مسعود مختار اور ڈاکٹر آصف طفیل کے خلاف اینٹی کرپشن کے پرچے نے بیوروکریسی میں سراسیمگی پیدا کر دی ہے ،سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الہیٰ اور ان کے پرنسپل سیکرٹری محمد خان بھٹی کے خلاف ایک کے بعد ایک نئے مقدے ،ایک مقدمے میں ضمانت کے بعد کسی دوسرے مقدمے میں انکی گرفتاری کے چکر میں ان دو اچھے افسروں کے خلاف بھی اینٹی کرپشن نے ایف آئی آر درج کر لی ہے ،حیرت کی بات ہے کہ اس طرح بغیر کہے سنے تو کسی عام محکمے کے گریڈ سترہ کے افسر کے خلاف بھی مقدمہ درج نہیں کیا جاتا جبکہ یہ دونوں گریڈ بیس میں صوبائی سیکرٹری ہیں،ماضی میں چودھری پرویز الہیٰ کی وزارت اعلیٰ کے دور میں مسعود مختار سیکرٹری سروسز اور ڈاکٹر آصف طفیل سیکرٹری کوآرڈینیشن برائے وزیر اعلیٰ تھے۔
کچھ افسر تو اس ایف آئی آر کو پولیس سروس کی طرف سے ایڈمنسٹریٹو سروس پر حملہ جبکہ کچھ اسے اینٹی کرپشن کی طرف سے اپنے اختیارات سے تجاوز قرار دے رہے ہیں،ایک انتہائی سینئر ریٹائرڈ افسر نے کہا کہ اگر سمریاں بنانے اور پیش کرنے کی بنیاد پر اس طرح اعلیٰ افسروں کے خلاف ایف آئی آرز درج ہونا شروع ہو گئیں تو پھر سول سروس کے لئے فاتحہ پڑھ لیں،انکی یہ بات درست ہے اس طرح تو سول افسران کام کرنا ہی بند کر دیں گے ،وہ کوئی سمری پٹ اپ کرنے، کوئی نوٹ لکھنے یا کسی فائل کی منظوری دینے سے ہچکچائیں گے ۔یادش بخیر جن دنوں نیب کی انتقامی کاروائیاں عروج پر تھیں ،فواد حسن فواد ، احد چیمہ اور ان جیسے کئی اچھے افسروں کو انتقام کی آڑ میں گرفتار اور ہراساں کیا گیا تو ان دنوں بھی افسروں نے عملی طور پر کوئی فیصلہ لینا ہی بند کر دیا تھا جس کی وجہ سے ملکی انتظامی معاملات خراب ہونا شروع ہو گئے تھے ۔اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پر چیک اینڈ بیلینس اور ایسے واقعات روکنے کے لئے ماضی میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری پنجاب اینٹی کرپشن کے حوالے سے بااختیار تھے اور گزیٹیڈ افسروں کے خلاف ایسے کسی ایکشن یا ایف آئی آر کے اندراج سے پہلے اینٹی کرپشن کو ان سے اجازت لینا پڑتی تھی مگر بعد ازاں ہمارے ایک چیف جسٹس ثاقب نثار نے اینٹی کرپشن کو کلی اختیارات دے کر ہر قسم کی اجازت سے بالا کر دیا جس کے بعد سے وہ جس کی چاہیں عزت اچھالیں اور جسے چاہیں کلین چٹ دے دیں، پنجاب کے سابقہ ادوار میں بھی اینٹی کرپشن اپنے ایسے کاموں کی وجہ سے بدنام ہوگئی تھی اور اسے احتساب کے ایک ادارے کی بجائے انتقامی کاروائیوں کا ادارہ کہا جاتا تھا، اس معاملے پر حکومت کو اینٹی کرپشن کے سامنے بند باندھنا پڑے گا ورنہ آج اگر گریڈ بیس کے دو افسروں کے خلاف ایسا ایکشن ہو سکتا ہے تو کل کلاں کو چیف سیکرٹری عہدہ کے افسر اپنا تحفظ کس طرح کر سکیں گے،عملی طور پر یہ ایف آئی آر چیف سیکرٹری آفس کے خلاف ہے اور کیا اس سے چیف سیکرٹری آفس کا تقدس مجروح نہیں ہوا ؟اور اگر کسی صوبے کے سب سے بڑے آفس کا ہی کوئی تقدس اور عزت نہیں تو پھر کیا گورننس اور کیا گڈ گورننس۔
مجھے نہیں پتہ کہ سمریوں اور مفروضوں کی بنیاد پر حالیہ نشانہ بننے والے دو اچھے افسروں کے خلاف اس ایف آئی آر کے بعد پنجاب کے باقی اعلیٰ افسران اس پر کسی رد عمل کا اظہار کریں گے یا وہ ایسا کبوتر بن جائیں گے جو بلی کو سامنے دیکھ کر آنکھیں بند کر لیتا ہے کہ اب بلی اسے کچھ نہیں کہے گی یا اس کی باری نہیں آئے گی، مذکورہ ایف آئی آر میں اینٹی کرپشن نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ پرنسپل سیکرٹری برائے وزیر اعلیٰ کی پوسٹ ایک کیڈر سیٹ ہے اور اس پر کسی خصوصی ادارے کا ملازم محمد خان بھٹی ڈیپوٹیشن پر تعینات نہیں ہو سکتا ،دوسری طرف جب یہ تقرری ہوئی تو اس وقت پنجاب کے چیف سیکرٹری کی حیثیت سے موجودہ سیکرٹری کابینہ کامران علی افضل تعینات تھے ،جو ایک انتہائی ایماندار اور قانون ضابطے پر چلنے والے افسر ہیں ، یہ نوٹیفیکیشن ان کے نام سے ہی جاری ہوا ، اگر یہ تعیناتی غلط ہوتی تو وہ کبھی اس کی اجازت نہ دیتے ،اس طرح تو اینٹی کرپشن پنجاب نے ان پر بھی عدم اعتماد کیا ہے ۔اسی طرح اگر کیڈر اور نان کیڈر پوسٹنگز کا کٹا کھل گیا تو بڑے بڑے اس کی زد میں آئیں گے اور کل کلاں کو اینٹی کرپشن کے موجودہ سربراہ بھی اپنی پوسٹنگ کو جسٹی فائی نہیں کر سکیں گے۔ایک اور بات قابل ذکر یہ بھی ہے کہ محمد خان بھٹی تو دو ہزار دو سے دو ہزار سات تک بھی ایوان وزیر اعلیٰ میں ایڈیشنل سیکرٹری کے طور پر کام کر چکے ہیں۔
سول بیوروکریسی کاکسی بھی حکومت کی کامیابی اور ناکامی میں اہم کردار مانا جاتا ہے مگر اس قسم کے پرچوں کے بعد ہماری بیوروکریسی کیسے ڈیلیور کر سکے گی جب اس کی اپنی ہی ناؤ ڈانواں ڈول ہو اور اس کے سینئیر ارکان کے خلاف ناجائز مقدمات درج ہو رہے ہوں ، مجھے لگتا ہے کہ اس وقت ہماری بیوروکریسی کا پنجاب میں کوئی پرسان حال نہیں حالانکہ ہم بہترین افسروں کی ایک لاٹ رکھتے ہیں،مرکز اور پنجاب کی بیوروکریسی کو باقی صوبوں کی نسبت بہت ہی اچھے الفاظ میں یاد کیا جاتا ہے کہ یہ بد ترین حالات میں بھی معاملات کو سنبھال لیتی ہے۔مگر ان دنوں پنجاب کی بڑی پوسٹیں خالی ہیں،ایک ایک افسرکے پاس کئی کئی چارج ہیں ،ان کو چند اچھے افسر چلا ضرور رہے ہیں مگر اکثر جگہوں پر پسند نا پسند کی بنیاد پر بندر بانٹ ہو رہی ہے، پچھلے ہی دنوں پنجاب میں سیکرٹری خوراک کی حیثیت سے کام کرنے والے اپ رائٹ اور ڈٹ جانے والے زمان وٹو کو ایک مافیا کے دباو پر ہٹا دیا گیا ،اس طرح اگر افسروں کا مورال ڈاون کیا گیا تو کیا وزیر اعلیٰ اور چیف سیکرٹری کام کرنے کے لئے افسر چائینہ سے ساتھ لے کر آئیں گے۔
ہماری پرابلم یہ ہے کہ ہم ڈنگ ٹپاو کام کرتے ہیں ، اگر سپریم کورٹ کے نومبر2012میں جسٹس خواجہ جواد کے فیصلہ پر عمل کیا جاتا تو آج معاملات میں بہت حد تک بہتری آگئی ہوتی اور ہمیں یہ نہ سننا پڑتا کہ ،کیڈر اور نان کیڈرکا فرق ختم کر کے افسروں کو ایک ہی صف میں کھڑا کر دیا گیا ہے ۔جسٹس جواد ایس خواجہ کا تصنیف شدہ تاریخی فیصلہ حکم دیتا ہے کہ تقرریاں، برطرفیاں اور ترقیاں اصولوں کے مطابق ہوں اوراگر صوابدیدی اختیار کا استعمال کیا جائے تو شفاف انداز میں کیا جائے، عہدے کی معیاد،تقرری اورتبادلے اصولوں کے عین مطابق ہوں،سول ملازم کسی افسربالا کے غیر قانونی حکم کو نہ مانیں اور کسی بھی عہدیدار کی بحیثیت او ایس ڈی تقرری نہیں ہونی چاہئے حتٰی کہ کوئی ناگزیر وجہ نہ ہو،یہ فیصلہ جس پٹیشن پر دیا گیا اس کے جمع کرانے والے کو دوہری شکایت تھی،پہلی یہ کہ سول سروس کی حیثیت کو ریاست کی ملازمت کے طور پر بحال کیا جائےتاکہ وہ سکون اور قانون کے ساتھ اپنے فرائض سر انجام دے سکیں،ملک میں ایک نیک نام چیف جسٹس کا عدالتی دور شروع ہوا ہے ،عوام کے ساتھ ساتھ اداروں کی نظریں بھی ان پر لگی ہیں،دیکھتے ہیں نظام میں کتنی بہتری آتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے