کالم

سعودی ایران تعلقات ،پاکستان اور بھارت کیلئے سبق آموز

طلعت نسیم

حال ہی میں ایران اور سعودی عرب نے اپنی سات سالہ کشیدگی اور قطع تعلقی کے بعد اپنے سفارتی تعلقات بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دونوں ممالک نے سیکیورٹی اور تجارت سمیت دو طرفہ سفارت خانے دوبارہ سے کھولنے کا بھی اعادہ کیا ہے۔ ایران اور سعودی عرب کا تنازعہ مشرق وسطی کا سب سے بڑا تنازعہ رہا ہے۔ دونوں مملک لبنان اور یمن میں اپنا اثرورسوخ بڑھانے کے لئے کوشاں رہے ہیں۔ مگر دونوں ممالک مذاکرات کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے سال 2022 میں پانچ مرتبہ طویل مذاکرات کے لئے مل کر بیٹھے اور بلا آخر چین کی تعاون سے تناؤ میں کمی آئی اور خطے میں امن بڑھانے کا سلسلہ شروع ہوا۔ بلاشبہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی دو طرفہ تجارت اور معاشی ترقی کے فروغ کے لئے ناگزیر ہے۔ سعودی ایران تعلقات میں بہتری نہ صرف مشرق وسطی کے لئے اہم ہے بلکہ دوسرے ممالک خاص طور پر پاکستان اور بھارت بشمول جنوبی ایشیا کے لیے سبق آموز ہے۔ پاک بھارت کے طویل تاریخی تنازعہ اور باہمی کشیدگی سے خطے کا امن اور ترقی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ مختلف ادوار میں مسلہ کشمیر سمیت دیگر مسائل پر مذاکرات کی کوشش کی گئی مگر آج تک یہ کوشش بے سود ثابت ہوئی۔ آج
بھی دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ جنوبی ایشیا اپنے جغرافیائی اعتبار سے بہت اہمیت کا حامل ہے۔ دونوں ممالک کے مابین وسیع انسانی وسائل اور معاشی ترقی کی صلاحیت موجود ہے جس کے مثبت استعمال سے جنوبی ایشیا دنیا میں ایک ترقی یافتہ خطے کی صورت میں ابھر سکتا ہے۔ ورلڈ بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک کے مابین 37 بلین ڈالر کی تجارتی صلاحیت موجود ہے۔ اقوام متحدہ کے سال 2023 کے اندازے کے مطابق جنوبی ایشیا کی آبادی دنیا کی آبادی کا 25 فیصد ہے۔ مزید برآں دونوں ممالک آبادی کے اعتبار سے ایک موثر عالمی منڈی ہیں جہاں کھپت اور پیداواری صلاحیت دنیا کی معاشی سرگرمی کا رخ جنوبی ایشیا کے خطے کی طرف موڑ سکتی ہیں۔ اس سے دونوں ممالک میں غربت کے خاتمے اور انسانی ترقی کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ مگر دونوں ممالک کی طرف سے مذاکرت کی عدم موجودگی اور سفارتی کشیدگی خطے کے مسائل میں اضافہ کر رہی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان 2300 کلو میٹر کی سرحد ہونے کے باوجود میلوں کی دوریاں اور اور تجارتی تعلقات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ پڑوسی ممالک کے ساتھ کشیدہ تعلقات نہ صرف معاشی ترقی کا سفر متاثر کرتے ہیں بلکہ دفاعی اخراجات کے بوجھ سے معاشی ڈھانچہ بھی عدم توازن کا شکار رہتا ہے۔ افریقہ کے بعد جنوبی ایشیا کا خطہ غربت کے اعتبار سے دوسرے نمبر پر ہے۔ جنوبی اشیا کی 29 فیصد آبادی شدید غربت کا شکار ہے جس میں زیادہ تر لوگ بھارت اور پاکستان میں موجود ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ دونوں ممالک سعودی عرب اور ایران کے تعلقات میں ہونے والی نئی پیش رفت سے سبق سیکھیں اور سنجیدہ اور فیصلہ کن مذاکرات کا سلسلہ شروع کریں۔ دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات ہی خطے کے امن اور خوشحالی کے ضامن ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Diyarbakır koltuk yıkama hindi sex