کالم

سزا وار کون؟

روبینہ شاہین لاہور

صبح کاذب جب آنکھ کلی تو کچھ عجیب سی آوازیں کان میں سنائی دیں۔نس نس نس نس یااللہ خیر! دعائے خیر پڑھتے ہوئے جاگے تو سڑک پر بھاگتے قدموں کی آوازیں سنائی دینے لگیں۔ خوف سے دروازے بند کر لیے، مسجد میں اعلان ہوا کہ اس بلاک کے فلاں نمبر گھر میں ڈکیتی کی واردات ہوئی ہے اور 6ڈاکو موقع پر پولیس فائرنگ سے ہلاک کر دیئے گئے اور کچھ ڈاکو مفرور ہیں لہٰذا تمام علاقہ ریڈ الرٹ قرار دیا گیا ہے تمام لوگ اپنے اپنے گھروں کے دروازے بند کر لیں اور کوئی بھی کسی قسم کی حرکت ہو تو پولیس کو اطلاع کریں گے۔
یہ سن کر علاقہ کے دل دہل گئے اور سب نے اپنے گھروں کے دروازے بند کر لیے۔ باہر سڑکوں پر پولیس کا ناکہ تھا اور ڈاکٹر صاحب کے گھر میں چھے ڈاکوؤں کی لاشیں پڑی تھیں جو پولیس مقابلے میں مارے گئے۔ اب سب گھروں سے پولیس کی پوچھ گچھ جاری تھی کہ کہیں کوئی ڈاکو کسی گھر میں تو نہیں گھس آیا اور کسی کو یرغمال بنا کر کوئی بلیک میل نہکر رہا ہو۔ دیکھتے دیکھتے ہی تمام میڈیا کی گاڑیاں پورے بلاک میں اکٹھی ہو گئیں۔ آن ایئر نیوز چل رہی تھی اب دہشت زدہ لوگ اپنے اپنے گھروں میں محصور تھے ایسے محسوس ہو رہا تھا کہ لاہور کا یہ خوبصورت اور پُررونق علاقہ پرانی فلموں کی کہانی پیش کر رہا تھا جس میں دن دہاڑے ڈاکو گھس جاتے ہیں اور پولیس مقابلہ شروع ہو جاتا ہے۔ اللہ سب کی حفاظت کرنے والا ہے ہم نے صرف یہی سوچنا ہے اور دعا کرنی ہے کہ اللہ ہر چیز کا حامی و ناصر ہے۔ سارا دن گزرا خدا خدا کرکے کہ دوبارہ کسی گھر سے کوئی خوفناک واقعہ جنم نہ لیلے۔ پولیس کے پہرے، میڈیا کی کوریج اور ڈی آئی جی کی آمد سب ایک عجب سے مناظر پیش کر رہے تھے۔ تقریباً رات کے دس بجے یہ واقعہ اختتام پذیر ہوا اور ضروری تفتیش کرنے کے بعد ان چھے ڈاکوؤں کی لاشوں کو ایمبولینس میں رکھ کر علاقے سے لے جایا گیا اور اہل علاقہ کو تسلی ہوئی کہ اب رات وہ سکون سے سو سکیں گے۔
یہ ایک دل دہلا دینے والا واقعہ تھا جس نیت مام اہل علاقہ کو پریشان اور خوفزدہ کیا ہوا تھا۔ اتنے پُررونق اور محفوظ علاقے میں ایسا دل دہلا دینے والا واقعہ حقیقتاً لمحہ فکریہ ہے۔ ملک کی بگڑتی ہوئی صورت حال کو دیکھ کر اور ایسے جرم کو سرعام ہوتا دیکھ کر یہ احساس ہوتا ہے کہ عوام کے حالات کیسے ہیں۔ مہنگائی کا طوفان، انصاف کا فقدان، تعلیم کا بحران، تربیت کا نقصان اور بدلتے ہوئے حکمران مل کر ایسے حالات پیدا کر چکے ہیں کہ اب یہاں گناہ اور ثواب جرم اور نیکی سب کا تاثر ذہنوں میں بدل گیا ہے۔ دو وقت کی روٹی حاصل کرنا انتہائی مشکل ہو چکا ہے۔ پیسے میں برکت نہیں، محنت میں عظمت نہیں، اب لوگ چھپ کر نہیں بلکہ دیدہ دلیری سے غلط اور گناہ کرتے ہیں اور اس کو مجبوریوں کا نام دیتے ہیں اور کچھ مجبوریاں انسان کو گناہوں کی دلدل میں دھکیل دیتی ہیں۔ اب جو چھے ڈاکو مارے گئے وہ کن حالات میں ڈاکو بنے ہوں گے اور ان کے جانے کے بعد ان کے گھر والوں پر کیا کیا بیتی ہو گی یہ تو صرف ان کے گھر والیا ور خدا ہی جانتا ہے۔ زندگی کتنی غیر محفوظ ہو چکی ہے راہ جاتے جو وارداتیں ڈالی جاتی ہیں وہ ایک الگ مسئلہ ہے۔ یہ ملک دن بدن کن غلط اور خوفناک صورت حال کا شکار ہو رہا ہے خدا اس ملک پاکستان کی حفاظت کرے اور اس کے حالات بہتر کرے آمین۔ یہ تو صرف ایک واقعہ کی روداد اور خوف کی کہانی ہے، روزانہ کئی سڑکوں پر مختلف حادثات اور ایسے دل دہلا دینے والے واقعات ہوتے ہیں اور ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا۔ اللہ ہمیں اچھے حکمران نصیب کرے جو ہمارے ملک پاکستان کو ترقی کی راہ کی طرف لے کر چلیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Diyarbakır koltuk yıkama hindi sex