کالم

زکوٰۃ کیوں فرض ہے؟

راناشفیق خان

اﷲ رب العزت نے قرآنِ مجیدمیں 82 مقامات پر نماز کے ساتھ زکوٰۃ کا بھی تذکرہ فرمایا ہے جس سے بدیہی طور پر یہ عیاں ہوتا ہے کہ نماز اور زکوٰۃ لازم و ملزوم ہیں اور ان دونوں کے درمیان انتہائی اتصال وارتباط ہے۔
تمام علمائے اسلام کا اجماع واتفاق ہے کہ زکوٰۃ ارکانِ اسلام میں سے اہم ترین رکن ہے۔ جس نے اس کی فر ضیت کا انکار کیا، وہ کافر اور دائرئہ اسلام سے خارج ہے، اور جس نے اسے ادا نہ کیا، وہ فاسق ٹھہرا اور اس سے جنگ کرنا حاکم وقت پر واجب ہے۔(بدایۃ المجتھد والفقہ الاسلامی وأدلتہ)
1۔ترجمہ: ’’اور جو لوگ سونے چاندی کا خزانہ رکھتے ہیں اور اللہ کی راہ میں خرچ ( زکوٰۃ ادا ) نہیں کرتے، انہیں دردناک عذاب کی خبردے دو کہ جس دن اس خزانے کو آتشِ دوزخ میں تپایا جائے گا پھر اس سے ان کی پیشانیاں اور پہلو اور پیٹھیں داغی جائیں گی( اور ان سے کہا جائے گا) یہ ہے جسے تم نے اپنے لئے خزانہ بنا رکھا تھا۔ پس اپنے خزانوں کا مزہ چکھو‘‘۔(سورۃ التوبہ 34، 35)
2۔ترجمہ: ’’جو آدمی اپنے مال کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتا اللہ تعالیٰ قیامت کے روز اس کی گردن میں (اس کے مال کو) سانپ بنا دیں گے پھر آپؐ نے ہم پر کتاب اللہ سے اس کا مصداق تلاوت کیا کہ ’’جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے کچھ دے رکھا ہے وہ اس میں کنجوسی کو (اپنے لئے بہتر ) ہر گز خیال نہ کریں‘‘۔(سنن الترمذی /کتاب تفسیر القرآن و ابن ماجہ/کتاب الزکاۃ)
زکوٰۃ اس شخص پر واجب ہے، جس میں درجِ ذیل پانچ شروط ہوں:
1۔مسلمان ہو کیونکہ کافر احکام اسلام کا مکلف نہیں۔ (صحیح البخاری/کتاب الزکاۃ ومصنف ابن ابی شیبہ)
2۔آزاد ہو کیونکہ غلام خود کسی دوسرے کی ملکیت ہوتا ہے۔(بدایۃ المجتھد والمحلی لابن حزم)
3۔ مال مقررہ نصاب کے مطابق ہو(صحیح البخاری/کتاب الزکاۃ) جس کی تفصیل آئندہ سطور میں بیان ہوگی۔
4۔ صاحبِ ملکیت تام ہو۔ (سورہ التوبہ: 103) کیونکہ بعض اوقات آدمی مالک تو ہوتا ہے مگر یہ اس کی ملکیت تام نہیں بلکہ ناقص ہوتی ہے۔ جیسے کسی کو قرضہ دیا ہو تو درحقیت مالک تو یہی ہے مگر رقم اس کے ہاتھ میں نہیں بلکہ کسی دوسرے کے ہاتھ میں ہے۔ تو ایسی صورت میں زکوٰۃ واجب نہ ہو گی۔ الاکہ واپس اس کے ہاتھ میں آجائے تو پھر زکوٰۃ ادا کرے گا۔ اگر مقروض نے ادا نہ کی تھی۔
5۔جب کہ مال پر مکمل ایک سال گزر چکا ہو۔ (سنن ابی دائود/کتاب الزکاۃ)
زکوٰۃ جن چیزوں پر واجب ہے
پانچ عدد اونٹ ہوں، تو نصاب مکمل ہو جاتا ہے۔ 5اونٹوں سے لے کر 42اونٹوں تک ہر پانچ پر ایک بکری کے حساب سے زکوٰۃ دینی چاہئے۔ 25سے لے کر 35اونٹوں تک ایک سال کی اونٹنی بطور، زکوٰۃ دینی چاہئے۔ 36سے لے کر 45 اونٹوں تک دوبرس کی اونٹنی زکوٰۃ کے طور پر دینی چاہیے۔ 46سے لے کر 60اونٹ تک تین برس کی اونٹنی دینی چاہئے۔ 61سے لے کر 75اونٹوں تک زکوٰۃ میں چار سال کی اونٹنی دینی چاہئے۔ 76سے لے کر 90اونٹوں پر 2برس کی ایک اونٹنی کے حساب سے یا ہر 50اونٹوں پر 3سال کی ایک اونٹنی کے حساب سے زکوٰۃ ادا کرنی چاہئے۔(صحیح البخاری /کتاب الزکاۃ)
گایوں ، بھینسوں کی تعداد جب 30ہو، تو نصابِ زکوٰۃ مکمل ہو جاتا ہے۔ لہٰذا 30عدد گایوں یا بھینسوں پر ایک سال کا بچہ بطورِ زکوٰۃ ادا کیا جائے گا۔ 40کی تعداد میں 2بچے، جن کی عمر 2 سال ہو، بطور زکوٰۃ دیئے جائیں گے۔ 60سے زائد کی صورت میں ہر 30پر ایک سال کے بچے کے حساب سے یا ہر 40کے اعتبار سے 2سال کا ایک بچہ ادا کیا جائے گا۔ (سنن ابی دائود/کتاب الزکاۃ)
جب بکریوں، بھیڑوں یا دنبوں کی تعداد 40 ہو جائے، تو نصاب مکمل ہو جاتا ہے۔ لہٰذا 40سے لے کر 120بکریوں تک ایک بکری بطورِ زکوٰۃ ادا کی جائے گی۔ 121سے لے کر 200تک دو بکریاں زکوٰۃ میں دی جائیں گی۔201سے لے کر 300تک تین بکریاں دی جائیں گی۔ 300 سے زائد کی صورت میں ہر 100پر ایک بکری کے حساب سے زکوٰۃ ادا کی جائے گی۔ (صحیح البخاری)
نوٹ: زکوٰۃ ان مویشیوں پر واجب ہوتی ہے، جو(سال بھر میں) نصف سے زائد عرصہ قدرتی وسائل پر گزارہ کرتے ہوں، نیز وہ ایسے جانور ہوں جو کام کاج کے لئے مستعمل نہ ہوں۔
گندم، چاول، مکئی، باجرا، فروٹ اور خشک میوہ جات جب 5وسق، یعنی 20من ہوں، تو نصابِ زکوٰۃ مکمل ہو جاتا ہے اور اس میں زکوٰۃ واجب ہو جاتی ہے، جسے شرعی اصطلاح میں عشر کہا جاتا ہے۔
بارش سے سیراب ہونے والی زمیں سے جیسے بارانی زمینیں، یا قدرتی چشموں سے جیسے پہاڑی علاقہ جات یا خودبخود نمی سے سیراب ہونے والی زمینیں تو اس میں سے پورا عشر یعنی 1/10حصہ بطورِ زکوٰۃ ادا کیا جائے گا اور اگر یہ اجناس ذاتی اخراجات مثلاً ٹیوب ویل، نہریوں، جھلاروں کے پانی اور دیگر کھادوادویات سے کاشت کی گئی ہوں، تو اس میں سے نصف عشر، یعنی 1/20حصہ زکوٰۃ میں دیا جائے گا۔ (صحیح مسلم)
نوٹ: اجناس میں زکوٰۃ اس وقت واجب ہوتی ہے جب یہ برداشت(حاصل) کی جاتی ہیں لہٰذا اگر کوئی فصل سال میں دومرتبہ برداشت کی جاتی ہو تو اس میں زکوٰۃ یعنی عشر بھی دومرتبہ ادا کیا جائے گا۔ (سورۃ الانعام:141)
وہ شہد، جو قدرتی وسائل سے حاصل ہوا ہو اس کا نصاب 75کلو گرام ہے۔ اس میں سے بطور زکوٰۃ عشر، یعنی 1/10حصہ ہی ادا کیا جائے گا۔ (سنن الترمذی)
معدنیات کے نصاب اور زکوٰۃ کی ادائیگی کے وقت میں شدید فقہی اختلاف پایا جاتا ہے۔ راجح بات یہی ہے کہ ان کو عروضِ تجاریہ ( تجارتی سامان) میں شامل کرتے ہوئے اس کی آمدنی پر زکوٰۃ ادا کی جائے گی بشرطیکہ وہ نصاب کو پہنچ جائے اور اس پر سال بھی گزرجائے ۔ (سنن ابی دائود)
دفینہ جات میں راجح بات یہ ہے کہ یہ جتنے بھی اور جب بھی حاصل ہوں، ان کا پانچواں حصہ 1/5 بطور زکوٰۃ ادا کیا جائے گا۔(صحیح البخاری )
سونا جب 20دینار ہو جو کہ موجودہ اوزان کے مطابق ساڑھے سات تولے یعنی 87گرام بنتا ہے۔ تو اس کا نصابِ زکوٰۃ مکمل ہو جاتا ہے۔ پس اس کا چالیسواں حصہ 1/40بطورِ زکوٰۃ ادا کیا جائے گا۔(سنن أبی دائود)
چاندی جب 200درہم ہو جوکہ موجودہ اوزان کے مطابق ساڑھے باون تولے ، یعنی 612 گرام بنتی ہے، تو اس کا نصاب مکمل ہوگا اور اس میں سے چالیسواں حصہ 1/40 بطور زکوٰۃ ادا کیا جائے گا۔(صحیح البخاری)
نوٹ: اس میں وہ سونا اور چاندی بھی شامل ہے جو خواتین بطور زیورات استعمال کرتی ہیں بشرطیکہ وہ نصابِ زکوٰۃ کے مطابق ہو جیسا کہ یہ صحیح احادیث سے ثابت ہے اور سلف صالحین کا بھی یہی موقف ہے۔
ہرقسم کی کرنسی(ڈالر، پائونڈ، یور، دینار، ریال) کیونکہ یہ کرنسی دراصل سونے چاندی کا ہی بدل ہوتی ہے۔ لہٰذا نصاب پورا ہونے کی صورت میںاور سال گزرنے پر اس میں سے اڑھائی فیصد کے حساب سے زکوٰۃ دی جائے۔
عروضِ تجاریہ(تجارتی سامان وغیرہ)
عروضِ تجاریہ سے مراد وہ کاروباری سامان ہے، جو خرید و فروخت کے لئے رکھا گیا ہو۔ مثلاً ہر قسم کے کپڑے، جوتے، برتن، ادویات، معدنیات، سونا، چاندی، آلات، مشینری، سامان لکڑی، گاڑیاں، پلاٹ، دوکانیں، مکانات الغرض جو بھی سامان خرید و فروخت کے لئے رکھا گیا ہو وہ عروضِ تجاریہ ہی کہلاتا ہے۔ حتیٰ کہ کمپنی حصص (شیئر) بھی اگر تجارتی مقصد کے لئے خریدے گئے ہوں تو اسے بھی تجارتی سامان ہی تصور کیا جائے گا۔ (الواعدالنورانیۃ الفقھیۃ لابن تیمیۃ) اگر اس کی قیمت ساڑھے باون تولے چاندی کے برابر ہو، تو نصاب مکمل ہو جاتا ہے۔(سنن ابی دائود) چنانچہ اس میں سے بھی زکوٰۃ کی جائے گی۔ جیسا کہ حدیث پاک میںہے۔
ترجمہ: ’’پس رسول اللہ کریمؐ ہمیں اس مال سے زکوٰۃ ادا کرنے کا حکم دیا کرتے تھے جسے ہم خرید و فروخت (تجارت ) کے لئے رکھا کرتے تھے۔ (سنن أبی دائود)
ہر سال جتنا تجارتی مال دکان یا مکان یا گودام وغیرہ میں ہو، اس کی قیمت کا اندازہ لگا لیا جائے۔ علاوہ ازیں جتنی رقم گردش میں ہو اورجو رقم موجود ہو، اسے بھی اس میں شامل کر لیا جائے۔
(الف) نقدرقم،(ب) کاروبار میں لگا ہوا سرمایہ ، یعنی زیرِ گردش رقم، (ج) سامانِ تجارت کی تخمیناً قیمت سب کو ملا کر ٹوٹل جتنی رقم بنے ، اس پر ڈھائی فیصد کے حساب سے زکوٰۃ ادا کی جائے۔ وہ تمام اشیاء جو بطور آلات و ذرائع آمدن استعمال کی جاتی ہیں زکوٰۃ سے مستثنیٰ ہوں گی۔ مثلاً آلات و مشینری برائے تجارت، کرائے کے مکانات، کرائے کی دوکانیں، کرائے کی گاڑیاں وغیرہ، اسی طرح فیکٹریوں، کارخانوں اور ملوں کی زمیں، عمارت، فرنیچر اور مشینر ی وغیرہ پر بھی زکوٰۃ نہ ہو گی جیسا کہ حدیث پاک میں ہے: کہ کام کرنے والے جانوروں (عواملہ) پر زکوٰۃ نہیں ہے۔ (سنن ابی دائود ) اس دور میں مشہور آلات و ذرائع برائے آمدن یہی تھے۔ ہاں ان کی آمدنی پر زکوٰۃ ضرور ادا کی جائے گی، اگر سال گزر جائے اور نصاب بھی مکمل ہو جائے۔
زکوٰۃکے مستحقین
1۔فقراء، جن کے پاس گزراوقات کے لئے کچھ نہ ہو ۔
2۔ مساکین(وہ لوگ، جن کی حالت فقرا سے قدرے بہتر ہوتی ہے، لیکن پھر بھی تنگ دست ہوتے ہیں اور زندگی کی ضروریات احسن طریقے سے پوری نہیں کر سکتے)۔
3۔ عاملین ِ زکوٰۃ (وہ لوگ، جن کے ذمے زکوٰۃ کی وصولی اور تقسیم ہوتی ہے یا وہ زکوٰۃ کی حفاظت وغیرہ کا بندوبست کرتے ہیں)۔
4۔ تالیف ِ قلب ( ان لوگوں کو زکوٰۃ دینا ، جو کافرہوں، اس امید پر کہ وہ مسلمان ہو جائین یا کسی نو مسلم کو دینا ، تاکہ وہ راسخ الایمان ہو جائے)۔
5۔غلاموں اور قیدیوں کی آزادی کے لئے۔
6۔ مقروض لوگو ں کے لئے تاکہ انہیں قرضے کے بوجھ سے نجات دلائی جائے۔
7۔ مجاہدین (جو اللہ کے راستے میں جہاد کے لئے نکلے ہوں۔ خواہ وہ مالدار ہوں)۔
8۔ مسافرین ، یعنی اسیے لوگ ، جو زادِراہ کے محتاج ہوجائیں۔
اللہ تعالیٰ نے ذیل کی آیتِ مبارکہ میں درج بلا تمام مستحقین کا تذکرہ فرمایا ہے:(انما الصدقات للفقراء والمساکین)،(سورۃ التوبہ مع التفسیر: 60)
جنہیں زکوٰۃ نہیں دی جا سکتی
1۔ کافر و مرتد کو زکوٰۃ دینا حرام ہے(صحیح البخاری) مگر وہ کفار جنہیں تالیفِ قلب کے لئے زکوٰۃ دینی جائز ہے ، وہ اس حکم سے مستثنیٰ ہیں۔ (تفسیر سورۃ التوبہ: 60)
2۔ آل رسولؐ ( بنو ہاشم و بنومطلب)کو بھی زکوٰۃ نہیں دی جا سکتی۔ ( صحیح مسلم)۔
3۔ والدین، اولاد اور بیوی کو بھی زکوٰۃ نہیں دی جاسکتی۔ (القرآن الکریم وسنن ابن ماجہ)
کیونکہ اولادکا مال درحقیقت والدین کا ہی مال ہے جبکہ بیوی کا نان و نفقہ خاوند پر اور اولاد کاباپ پر واجب ہے۔
4۔ جمہور علما کے نزدیک مسجد پر بھی زکوٰۃ استعمال نہیں کی جاسکتی ۔(مجموع الفتاوی/لابن باز 14/294)
علامہ یوسف القرضاوی کتاب ’’ فقہ الزکوٰۃ ‘‘ میں لکھتے ہیں:
ترجمہ: ’’ اگر کوئی شخص علم نافع کی طلب میں لگا ہوا ہے اور حصولِ علم کے ساتھ وہ کسبِ حلال نہ کر سکتا ہو، تو اسے بقدرِ ضرورت زکوٰۃ دی جا سکتی ہے اور اس کے فریضہ حصول علم کی تکمیل کے لئے اور کتابوں کے لئے بھی زکوٰۃ دی جا سکتی ہے، اس لئے کہ طلبِ علم دیں فرضِ کفایہ ہے اور اس کے علم کا فائدہ خود اس کی ذات تک محدود نہیں ہے، بلکہ تمام امت کے لئے ہے اور یہ اس کا حق بنتا ہے کہ مالِ زکوٰۃ میں سے اس کی مدد کی جائے، کیونکہ زکوٰۃ کے مصارف کے دو پہلو ہیں کہ یا تو مسلمانوں میں جو محتاج ہو، اسے دی جائے یا جس سے مسلمانوں کی ضرورت وابستہ ہو، اسے دی جائے اور یہاں (طالب علم میں) دونوں باتیں جمع ہیں‘‘۔(فقہ الزکاۃ: 2/560۔561)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *