کالم

زندگی ،کیسے گزاریں…؟

راناشفیق خان

انسان اپنے مقصدِ حیات کو یکسر بھول بیٹھا اور وسائل کو مقاصد کا درجہ دے کر اس کے پیچھے زندگی کھپا رہا ہے، آج کسی فردِ بشر کا ذہن اس بات کی طرف نہیں جاتا کہ آخر دنیا میں اس کا وجود کیوں ہوا، خالق نے اسے کیوں پیدا کیا؟ کیااس کی تخلیق کا صرف یہی مقصدہے کہ وہ دنیا میں کمائے کھائے، پْرعیش زندگی گزارے، بیوی بچوں کے ساتھ موج ومستی کرے، شاندار بنگلوں میں رہے، نئی نئی ماڈل کی گاڑیوں میں گھومے، بینکوں میں اس کا بھاری بیلنس(Balance) ہو، روز نئی نئی پارٹیوں اور محفلوں میں شرکت کرے اور خوب خوب مزے اڑائے۔
آج اتنی بے فکری سے زندگی بسر کی جارہی ہے، جیسے اس کا یقین ہو کہ مرنا ہی نہیں ہے، قیامت تک عالمِ برزخ میں اپنے اچھے بْرے اعمال کے مطابق رہنا نہیں ہے، یا قیامت نہیں آئے گی، حساب وکتاب کے مراحل نہیں آئیں گے؛جبکہ حضرت عبد اللہ ابن مسعودؓبیان کرتے ہیں کہ نبی کریمؐ نے ارشاد فرمایا : ’’قیامت کے دن جب بارگاہِ خداوندی میں حساب کے لئے پیشی ہوگی، توانسان کے پاؤں اس وقت تک اپنی جگہ سے ہٹ نہ سکیں گے؛ جب تک اس سے پانچ باتیں نہ پوچھ لی جائیں: (1) زندگی کے بارے میں کہ کن کاموں میں گزاری؟ (2) جوانی کے بارے میں کہ کن مشاغل میں فنا کی؟(3) مال ودولت کے بارے میں کہ کہاں سے کمایا؟ (4)اور کہاں خرچ کیا؟ (5) اور جو کچھ جانتا تھا اس پر کتنا عمل کیا؟‘‘۔(سنن الدارمی )
آخرت میں صرف دو ہی ٹھکانے ہوں گے ’’جنت یا جہنم‘‘، پہلی منزل اللہ کے صالح اور متقی بندوں کے لئے ہے اور دوسری نافرمانوں، گنہ گاروں اور غفلت میں زندگی میں بسر کرنے والے بد نصیب لوگوں کے لئے ہے،اس کے باوجود ہمیں اس حوالے سے کوئی فکر نہیں ،اگر فکر ہے، تو صرف دولت اکٹھی کرنے کی اور شہرت حاصل کرنے کی اور اپنی دولت وثروت کے ذریعہ معاشرہ میں مصنوعی عزت حاصل کرنے کی؛ جب کہ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ مال ودولت کی فراوانی اکثر وبیشتر انسان کو بغاوت وسرکشی، بہت سی برائیوں نیز گناہوں پر ابھارتی ہے اور اصل مقصدِ زندگی سے غافل اور لا پرواہ کردیتی ہے، حضو رپاک ؐ کو اپنی امت کے بارے میں اس کا بہت زیادہ ڈر اور خطرہ تھا؛ اس لئے آنحضرتؐ نے امت کو اس خوشنما فتنہ سے آگاہ فرمایا؛ تاکہ امت اس کے برے اثرات اور خطرات سے بچنے کی کوشش کرے اور مال ودولت کی ہوس میں اصل مقصد زندگی کو فراموش نہ کربیٹھے، حضرت عمرو بن عوف بیان کرتے ہیں کہ رسول خداؐکا ارشادِ گرامی ہے: ’’خدائے پاک کی قسم مجھے تمہارے بارے میں فقر وناداری کا اندیشہ نہیں ہے، ہاں مجھے تمہارے بارے میں یہ ڈر ضرور ہے کہ تم پر دنیا وسیع کردی جائے، جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر وسیع کی گئی تھی پھر تم اس کو بہت زیادہ چاہنے لگو، جس طرح انھوں نے اس کو بہت زیادہ چاہا تھا پھر وہ تم کو برباد کرے، جس طرح ان کو برباد کردیا۔
(صحیح البخاری، باب الجزیۃ والموادعۃ)
ہمیں اسلامی طرزِ معاشرت اختیار کرنے میں عار محسوس ہوتی ہے، اپنے بچوں کو دین کا داعی اوراسلامی سرحدوں کا سپاہی بنانے میں نہ جانے کونسا خوف ستاتا ہے، آخر وہ کون سے عوامل ہیں جن کی وجہ سے ہم علمِ دین سیکھنے سے گریز کرتے ہیں، اپنے بچوں اور بچیوں میں دینی تعلیم کو فروغ نہیں دیتے؛ کیوں ہم صرف عصری تعلیم کے اعلیٰ کورسیز اور ممتاز ڈگریوں کے پیچھے دوڑرہے ہیں؟ جب کہ ان کالجز اوریونیورسٹیز میں صرف تعلیم ہے ، تربیت اور اخلاقیات کا کوئی پہلو ہی نہیں:
انسانیت کی فلاح صرف اسلامی تعلیم وتربیت میں مضمر ہے، اگر اسلامی تعلیمات کی مکمل اتباع کی جائے، تو دنیا میں بھی کامیابی ہے اور آخرت میں بھی کامرانی ہوگی ، اللہ پاک کا ا رشاد ہے:
ترجمہ: جو شخص کوئی نیک کام کرے گا، خواہ وہ مرد ہو یا عورت ہو، بشرطیکہ صاحبِ ایمان ہو، تو ہم اس شخص کو (دنیا میں تو) بالطف زندگی دیں گے اور (آخرت میں) ان کے اچھے کاموں کے عوض میں، ان کا اجر دیں گے۔(سورہ نحل)
ترجمہ: روئے زمین پر چلنے والا کوئی جاندار ایسا نہیں جس کی روزی اللہ کے ذمہ نہ ہواور اللہ ان کے زیادہ رہنے کی جگہ اور چند روزہ رہنے کی جگہ کو جانتا ہے اورہر چیز کتاب میں لکھی ہوئی ہے۔(سورہ ہود)
اسی طرح حضرت عبد اللہ بن عمروؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوقات کی تقدیریں آسمان اور زمین کی پیدائش سے بھی پچاس ہزار سال پہلے لکھ دی تھی‘‘
اور حضور نے ایک طویل حدیث میں فرمایا جس کا خلاصہ یہ ہے کہ انسان اپنی پیدائش سے پہلے مختلف ادوا ر سے گزرتا ہے، جب اس کے اعضاء کی تکمیل ہوجاتی تو اللہ تعالیٰ ایک فرشتہ کو حکم فرماتے ہیں جو اس کے مطابق چار چیزیں لکھ دیتا ہے:
( 1) اس کا عمل جو کچھ وہ کرے گا(2) اس کی عمر کے سال ،مہینے،دن اور منٹ حتی کہ سانس تک لکھ لئے جاتے ہیں(3) اس کو کہاں مرنا ہے اور کہاں دفن ہونا ہے (4) اس کا رزق کتنا ہے اور کس طریقہ سے پہنچنا ہے‘‘۔
جب یہ بات طے ہوچکی کہ کتنا رزق ملے گا، تو اب اس کے لئے بے جا دوڑ دھوپ ،اتنی کہ فرائض وواجبات میں خلل ہو، حلال وحرام کی حدود باقی نہ رہیں، نہ احکامِ خداوندی کا پاس ولحاظ رہے اور نہ حقوقِ عبادہی ادا ہوں، یہ کونسی عقل کی بات ہے، حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ؐ نے فرمایا:
ترجمہ : دنیا کا پجاری خدا کی رحمت سے دور کیا جائے اور درہم کا پجاری خدا کی رحمت سے دور کیا جائے، اس کے باوجود آج تحصیلِ دولت کی راہ میں حلال وحرام کا کوئی فرق باقی نہ رہا، دورِ حاضر کا انسان اس تحقیق کی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتا کہ جو مال وہ کما رہا ہے ،جو روزی وہ کھارہا ہے اور جس پیسے سے وہ اپنے بچوں کی پرورش کررہا ہے، وہ حلال ہے یا حرام؟ اس طرح کے سنگین حالات کی حضورِ اکرم ؐ نے ایک حدیث میں پیشین گوئی فرمائی ہے: آپ ؐ فرماتے ہیں:
ترجمہ: لوگوں پر ایسا زمانہ آنے والا ہے کہ آدمی کو اس کی پرواہ نہیں ہوگی کہ اس کی آمدنی کیسی ہے:حلال ہے یا حرام؟
حرام مال ہی کا ایک اہم شعبہ سود ہے، حضرت جابرؓ بیان کرتے ہیں:
ترجمہ: رسول اکرم ؐ نے سود کھانے والے پر سود کھلانے والے پر اور سودی معاملہ لکھنے والے پر اور سودی معاملہ کے دو گواہوں پر لعنت فرمائی اور آپ نے یہ بھی فرمایا: وہ سب گناہ میں برابر ہیں،آج کے لادینی نظامِ معیشت میں ایسی صورتِ حال لوگوں کو در پیش ہے کہ سود کی لعنت سے بچنا انتہائی مشکل ہوچکا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *