پاکستانکالم

زنجیرِ قید اپنے لئے خود اُٹھا کے چل

نوید مغل


ان دنوں پاکستان کی شہرت کا ڈنکا چہار سُو بج رہا ہے۔ دنیا بھر میں میڈیا پر پاکستان کی خبریں جگہ پا رہی ہیں اور یہ سب کسی کارنامے اور نیک نامی کی وجہ سے نہیں بلکہ ملک میں شدید سیاسی اور آئینی بحران، معاشی ابتری، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، کرپشن، ایوان اقتدار اور غیر رجسٹرڈ اپوزیشن میں جاری چوہے بلی کے کھیل اور عوامی کی بدحالی کی خبریں ہیں جس سے پاکستان کا منفی تأثر پختہ ہوتا جا رہا ہے۔
غرض دنیا کا کون سا ایسا خطہ ہے جہاں پاکستان کے سنگین حالات کا ذکر نہ ہو رہا ہو۔ افسوسناک صورتحال یہ ہے کہ جو لوگ پاکستان کو ایشین ٹائیگر، ریاست مدینہ، خود مختار اور خودکفیل ملک بنانے کے دعوے کرتے نہیں تھکتے آج ان ہی کے اعمال اور افکار کے باعث دنیا پاکستان کے حالات کو ایتھوپیا، یوگنڈا، سری لنکا جیسی صورتحال کے ساتھ جوڑ رہی ہے۔
اس وقت ملک کا سب سے بڑا مسئلہ غربت، مہنگائی، بے روزگاری کے باعث سسکتی اور دم توڑتی انسانیت ہے لیکن کسی سیاستدان کو سن لیں‌ یا کسی ٹی وی چینل پر نظر ڈالیں تو ملک کا سب سے بڑا مسئلہ یہ نظر آتا ہے کہ کرسی حاصل کیسے کرنا ہے، حاصل کرکے کرسی مضبوط کیسے رکھنی ہے یا پھر اقتدار کی کرسی کی ” ٹانگیں“ کیسے توڑنی ہیں؟یا پھر اقتدار میں ہوتے ہوئے ملکی خزانے کو شیرِ مادر سمجھ کر ”چونا “ کیسے لگانا ہے۔سنتے تھے کہ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا لیکن ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال دیکھ کر تو لگتا ہے کہ ہماری سیاست دل کے ساتھ دماغی صلاحیتیں بھی کھوچکی ہے۔جس عوام کے ووٹوں کے کاندھوں پر چڑھ کر اقتدار حاصل کرنے کی یہ ساری تگ و دو ہوتی ہے ان کی کسی کو کوئی پروا نہیں ہے۔
سچ پوچھیں تو میرے اور آپ کے ملک پر پہلے دن سے ہی جمہوریت کے نام پر اپنی راجدھانی کا چورن بیچنے والے ” گماشتوں “ کا راج ہے جو کسی نہ کسی صورت میں ہم پر مسلط رہتا ہے۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ پاگل کیا لکھ رہا ہے جی ہاں میں پاگل ہورہا ہوں میرے ملک کے 24 کروڑ سے زائد عوام پر حکمرانی کرنے والے سیاسی رسہ گیروں میں سے ایک بھی ایسا نہیں ہے جوکے میرے ملک کے اندر عدل اور انصاف کی بات کرے، غریب کو روٹی دینے کی بات کرے ؟عام آدمی کو سستی اور خالص دوائی دینے کی بات کرے؟ چھوٹے چھوٹے گائوں میں تعلیم عام کرے ؟ہم کب سد ھرے گے ؟ہمارے اندر کا انسان کب حیوانیت چھوڑے گا؟ جھوٹ کیسے ختم ہوگا؟ آفیسر ز ماتحت کی عزت کب کریں گے ؟ماتحت افسر کی تعر یف کب کرے گا؟ مزدور کام ایمانداری سے کب کرے گا ؟ ہر شخص اپنی باری کے انتظار میں قطار بنانا کب سیکھے گا ؟ہم لوگ کسی کی کامیابی پر کب خوش ہوں گے ؟کسی کے نقصا ن پر غمگین کب ہوں گے ؟ کسی غریب کے بچے کی پوزیشن آنے پر اسے مبارک باد دینے کی ہمت کب پیدا ہوگی ہم میں ؟سرکا ری کمیشن مافیاء کب ختم ہوگا ؟ چور کو چور کب کہا جائے گا ؟مظلوم کو ظلم سے نجا ت کب ملے گی ؟ جمہوریت کے نام پر عوام کو بیو قوف کب تک بنایا جا تا رہے گا ؟سیاست کا کاروبار کب بند ہوگا ؟ چور دروازے کب بند ہوں گے ؟ جعلی دوائیا ں کھا کھا کر میرے ملک کے لوگ کیسے ٹھیک ہوں گے؟ جعلی ٹیسٹ رپورٹو ں کی بنیاد پر میرے ملک میں خطر ناک بیماریاں کب تک پھیلائی جاتی رہیں گی ؟ ہماری نیتوں میں فتور کب ختم ہوگا ؟ آنکھ میں حیا ء کب واپس آئے گی ؟ عورت کا تقد س کب بحال ہوگا ؟زنا ، جوا ، شراب کب ختم ہوگی ؟ اعلیٰ پوشاک پہن کر ہم اپنی گندگی کب تک چھپائیں گے ؟ حلا ل اور حرام کی تمیز ہم کب کرنا سیکھیں گے ؟ پیٹرول میں ملاوٹ تجارت میں دھوکا ،جھوٹ کا بازار یوں ہی کب تک چلتا رہے گا ؟ اند ر کی لالچ اور کمینگی کب تک ختم ہوگی ؟ دین کے نام پر دکانداری کب ختم ہوگی ؟ میرے پیا رے نبی ؐ کا فرمان کب مانا جائے گا ؟ آ پ نے کبھی غور کیا ، کیا ہمارا پورا معا شرہ جو کہ پاکستان کے نام سے جانا جاتا ہے اور جس کو اسلام کے نام پر بنے 76 برس ہونے کو آئیں ہیں ہم نے اور ہمارے سیاسی قائدین نے اس ملک کے ساتھ کیا کیا دھوکا نہیں دیا نہ صر ف دھرتی کے ساتھ بلکہ پوری پاکستا نی قوم کے ساتھ کبھی جمہوریت کے نام پر کبھی اسلام کے نام پر ، کبھی روٹی کپڑا اور مکان کے نام پر، کبھی لاشوں پر ، کبھی دولت کے زور پر، کبھی طاقت کے زور پر ، کون کون سا ہربہ استعال نہیں کیا گیا اس ملک کو تباہ و بر باد کرنے کے لئے جو بھی آیا اس نے ایک مداری کا کام کیا اور پوری قوم کو تماشا دکھانا شروع کر دیا کبھی فیلڈ مارشل بن کر کبھی قائد عوام بن کر کبھی مرد مومن بن کر کبھی روشن فکر بن کر کبھی ایشین ٹائیگر بن کر اس سارے کھیل تماشے میں پاکستان کو دشمن نے دو حصے میں کاٹ دیا مگر پھر بھی میرے سادہ دل عوام کو سمجھ نہ آسکی اور وہ مداری کا تماشا دیکھنے میں مشغول رہے اور ابھی تک مشغول ہیں میرے ملک میں کسی بھی سچے کی کوئی عزت نہیں ہے جو سب سے زیادہ جھوٹا ہے وہی قابل عزت اور احترام ہے میرے ملک میں قانون کا احترام کرنا صرف غریب آدمی پر لازم ہے امیر قابل عزت آ ئین اور قانون سے بالاتر ہے میرے صاحب اقتدار ، صاحب عدل اور صاحب طاقت کے لئے اس کے الفاظ ہی قانون کی حیثیت رکھتے ہیں میرے ملک کا حاکم وقت جدید کا فر عون اور نمرود ہے جو کہ شاید قدیم دور کہ نمرود اور فرعو ن سے بھی زیادہ ظالم اور سفاک ہے ہم جس نبی ؐ کی امت میں سے ہیں اس نے تو ہمیں در گزر اور معاف کرنا سیکھایا ہے غریب کا ساتھ دینا اور حق دار کو اس کا حق پہنچا نا سیکھایا ہے اس نے تو اپنی ساری زندگی میں پورے عالم عرب کو خاص طور پر اور پوری انسانیت کو صادق اور امین ہونے کا درس دیا ہے مگر ہم کتنے بد قسمت ہیں کہ ہم اپنے پیارے نبی ؐ کی تعلیمات کو چھوڑ کر ابلیس کے پیروکار بن چکے ہیں اور ہر اس کام کو کرنا فخر محسوس کرتے ہیں جس میں دوسروں کو تکلیف دینا مقصود ہو ۔ہم کیسے مسلمان ہیں پورے عالم اسلام پر نظر دورائیں تو آپ کو محسوس ہوگا کہ ہم نے اپنے پیارے نبی ؐ کی تعلیمات کو چھوڑ کر یہود اور نصارا کو اپنا دوست بنا لیا ہے جو کہ ہر گز ہمارے دوست نہیں ہوسکتے میری اپنے عوام اور تمام سیاسی عمائد ین سے درخواست ہے کہ ہم سب صرف ایک دفعہ اپنے گریبانوں میں جھانک کر دیکھیں اور اپنے آپ سے یہ سوال پوچھیں کیا ہم صادق اور امین ہیں ؟ یا بقول شاعر ساغر صدیقی ۔۔۔۔
بہ امر مجبوری جمہوریہ پاکستان میں ” زندگی جبرِ مسلسل “ کی طرح کاٹ کر زندگی کے دن پورے کر رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Diyarbakır koltuk yıkama hindi sex