کالم

ریڈ لائن

محسن گورایہ

میک ملن ڈکشنری میں ریڈ لائن کی تعریف کے بارے میں ہمیں جو آگاہی دی گئی ہے اس کے مطابق ،، حکومت کی جانب سے ان اعمال اور افعال کے بارے میں بیانات ، جنہیں حکومت نا قابلِ قبول سمجھتی ہو اور جو کرنے پر حکومت کی جانب سے ردِ عمل ظاہر ہونا یقینی ہو۔ دوسرے لفظوں میں ریڈ لائن ایک حد کی نشان دہی کرتی ہے جسے عبور کرنا سنگین نتائج کا حامل ہو سکتا ہو،،اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ کوئی نہ کوئی ریڈ لائن ہر کسی کے لئے ہوتی ہے،تو میری نظر میں ہر کسی کی کوئی نہ کوئی ریڈ لائن ہوتی ہے ، تمام چرند پرند ، حیوانات، نباتات حتیٰ کہ جمادات کے لئے بھی ریڈ لائن ہے اور اشرف المخلوقات ہونے کی نسبت سے انسانوں کے لئے ریڈ لائن سب سے زیادہ ہے ۔ یہ بھی حقیقت ہےکہ چرند پرند اور دوسرے حیوانات کو علم ہوتا ہے کہ کون سا اور کتنا علاقہ ان کے لئے ٹھیک ہے اور کتنا ٹھیک نہیں ، یہی وجہ ہے کہ وہ قدرت کی ودیعت کردہ صلاحیت کو بروئے کار لا کر اس ریڈ لائن کو عبور کرنے سے باز رہتے ہیں لیکن جب کبھی اس ریڈ لائن کو عبور کرتے ہیں تو نقصان اٹھاتے ہیں شکار کر لئے جاتے ہیں کسی مصیبت میں پھنس جاتے ہیں یا قید کر لئے جاتے ہیں،درخت بھی جانتے ہیں کہ انہیں کس سمت میں کتنا پھیلنا ہے اور کتنا اونچا جانا ہے یعنی وہ بھی اپنی ریڈ لائنز کو پہچانتے ہوتے ہیں۔،جمادات اگرچہ حرکت نہیں کر سکتے لیکن کچھ ارضی عوامل کی وجہ سے ان سے اگر کوئی ریڈ لائن عبور ہو جائے تو انہیں بھی اس کا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے، ایک پتھر اگر کسی چٹان کے کنارے پر پڑا ہے تو یہی اس کی ریڈ لائن ہو گی، وہ اگر ہوا یا کسی دوسرے عمل کی وجہ سے چٹان سے نیچے گرتا ہے تو ٹوٹناپھوٹنا اور ٹوٹ کر ریت کی شکل اختیار کر جانا اس کا مقدر بن جاتا ہے۔ہم انسان ہیں،اپنی مرضی سے چل پھر سکتے ہیں، ایک سے دوسری جگہ جا سکتے ہیں، اپنی پسند سے آزادانہ زندگی بسر کر سکتے ہیں حتیٰ کہ اظہارِ رائے کی آزادی کا بھی پھرپور استعمال کر سکتے ہیں لیکن یہ آزادی لا محدود نہیں ہے، اس آزادی کی کچھ حدود یا محدودات ہیں، اس حاصل آزادی کا ایک حد تک ہی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ہم مسلمان ہیں اور ہم پر کچھ مذہبی پابندیاں عائد ہیں ، عالمی برادری کی جانب سے بھی کچھ قدغنیں ہیں جو اقوام متحدہ کا چارٹر عائد کرتا ہے، کچھ محدودات سماج یعنی معاشرے کی جانب سے ہیں انہیں آپ اخلاقی حدود کا نام بھی دے سکتے ہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ ہے کہ ہمارے ملک کے کچھ قوانین ہیں ،ہر ملک کے کچھ قوانین ہوتے ہیںجن کے تحت ہی زندگی گزاری جا سکتی ہے اور جن کی خلاف ورزی نہ صرف خلاف ورزی کرنے والے کے لئے بلکہ ملک اور معاشرے کے لئے بھی سنگین نتائج کی حامل ہو سکتی ہے، یہ ساری دراصل ریڈ لائنز ہیں،جب بھی کوئی ریڈ لائن عبورکرتا ہے اسے اس کے ردِ عمل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ہمارے ملک میں ایک فقرہ اکثر بولا جاتا ہے کہ ہر شعبے اور ہر ادارے کو آئینی حدود کے اندر رہ کر کام کرنا چاہئے تو اس سے مراد یہی ہوتی ہے کہ کسی کو بھی اپنی ریڈ لائنز عبور
نہیں کرنی چاہئے۔نو مئی کا واقعہ سب پاکستانیوں کے لئے ایک سبق ہے کہ کسی بھی نوعیت کی ریڈ لائن عبور کرنا کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہو سکتا نہ ریاست اور حکومت کے لئے اور نہ ہی معاشرے اور افراد کے لئےاور ملکی سلامتی کے اداروں کے حوالے سے تو کسی ریڈ لائن تک پہنچنے کے بارے میں سوچا بھی نہیں جا سکتا اس لائن کو عبور کرنا تو بہت دور کی بات ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ نو مئی کو ایک نہیں کئی ریڈ لائنز عبور کی گئیں، ریاست کے خلاف اقدامات کئے گئے قومی املاک کو نقصان پہنچایا گیامتعدد قوانین کی خلاف ورزیاں کی گئیں،معاشرتی امن اور سکون کو تباہ کرنے کی کوشش کی گئی حتیٰ کہ قومی سلامتی کے اداروں کو نشانہ بنایا گیا۔ پنجاب کے نگران وزیر اعلیٰ محسن نقوی نے 14 مئی یعنی نو مئی کے واقعات کے پانچ روز بعد خبر دی تھی کہ پُر تشدد مظاہروں میں اب تک( 14 مئی تک) تقریباً چھ سو کروڑ کا نقصان ہو چکا ہے، یہ بھی خبر ہے کہ نو مئی کے واقعات میں دس ارب روپے کا نقصان ہوا۔ میرے خیال میں سارے نقصانات کا مکمل تخمینہ لگانے میں ابھی وقت لگے گا، اور جو نقصانات ہوئے ان میں سے کچھ کا ازالہ ممکن ہے لیکن کچھ نقصانات ایسے ہوئے جن کو بحال کرنا مشکل بلکہ نا ممکن ہو گا۔ ریاست اور اس کے اداروں کو نشانہ بنانے میں جو ملوث ہیں ان کو گرفتار کر کے انصاف کے کٹہرے میں لانے کا سلسلہ جاری ہے،میرے خیال میں یہاں کچھ احتیاط روا رکھنے کی ضرورت ہے کہ جن لوگوں نے ریڈ لائن عبور کی انہیں تو سبق ملنا چاہئے مگر اس حوالے سے اقدامات اس طرح کرنے کی ضرورت ہے کہ عام لوگوں کو کسی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ پاک فوج ہم سب کی ہے اور یہ تو سبھی جانتے ہیں کہ پاک فوج ہے تو پاکستان ہےفوج اور پاکستان لازم و ملزوم ہیں، عوام اپنی افواج کے ہر طرح سے حامی ہیں اور ہر طرح کے حالات میں ان کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، یہ فوج ہی ہے جو ملک کے دشمنوں کے خلاف سینہ سپر رہتی ہے۔ حا لت ِ جنگ ہو یا امن کا زمانہ پاک فوج ہر لمحہ سرگرم نظر آتی ہے،اس نے کئی بار بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا، دہشت گردی کے خلاف کامیاب جنگ لڑی اور جب بھی ملک پر کوئی قدرتی آفت (سیلاب زلزلہ) آئی پاک فوج نے ہنگامی حالات میں بحالی کے کاموں میں بڑھ چڑھ کرحصہ لیا۔ انہی خوبیوں کی وجہ سے پاکستانی عوام فوج کو اپنی پہلی اور آخری ریڈ لائن قرار دیتے ہیں،کسی نے انسٹی ٹیوشنز کی کارکردگی پر تنقید کرنی ہے تو ضرور کرے سیاست میں بیان بازی کرنی ہے تو ضرور کرے لیکن کسی کو یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ شہدا کی بے حرمتی کرے شہدا کی یادگاروں کو پامال کرےغازیوں کو برا بھلا کہے دفاعی املاک کو نشانہ بنائےفوجی گاڑیوں پر پتھراؤ کرے، شہید اپنا آج قوم کے کل پر قربان کرتا ہے۔ ان کی قربانی کی قدر کی جانی چاہئے ان کی یادگاروں کی تکریم کی جانی چاہئے ہر دم یہ باور کرانا چاہئے کہ ان کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔نو مئی کو ریڈ لائن عبور کرنے والے جلد کیفرِ کردار کو پہنچ جائیں گے، ضرورت اس امر کی ہے کہ آئندہ ملک میں مکمل امن قائم ہو قوم کو مالی استحکام ملے اور مستقبل میں نو مئی جیسے واقعات سے بچا جا سکے؟ جب تک ہم سیاسی لحاظ سے واضع سمت حاصل نہیں کرتے تب تک اس بارے میں وثوق کے ساتھ کچھ کہنا ممکن نہیںمگر ایک بات دو ٹوک اور واضح ہے کہ جو نو مئی کو ہوا وہ دوبارہ نہیں ہونا چاہئے،نہ ہونے دینا چاہیے، اس بارے ہم سب کو مل جل کر اقدامات کرنا ہوں گے کہ ریاست اور اس کے اداروں کی حفاظت ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Diyarbakır koltuk yıkama hindi sex