کالم

ریسکیو 1122۔۔خدمت انسانیت کے 19سال

مِس دیبا شہناز اختر

ایک خواب سے حقیقت کا سفر19سال قبل ایمرجنسی سروس ریسکیو 1122کا آغاز پنجاب کے دل شہرلاہور سے ایمبولینس سروس کے طور پر کیا گیا اور وقت کے ساتھ ساتھ یہ ایمبولینس سروس جنوبی ایشیاء کیلئے ایک منظم اور مربوط نظام بن گئی۔بلا شبہ ریسکیو1122سروس کا آغاز حادثات کے شکار متاثرین کو بلا تفریق اور بروقت مدد کے نظام کی طرف پہلا قدم تھا۔ ایمبولینس، فائر و ریسکیو، ڈیزاسٹر اور کمیونٹی ایمرجنسی ریسپانس ٹیمز کا اس جامع اور مربوط نظام کی بنیاد پنجاب ایمرجنسی سروس ایکٹ 2006کے تحت رکھی گئی تھی آج ریسکیو1122پنجاب کے تمام اضلاع اور تحصیلوں میں موجود ہے اور باقی صوبوں میں بھی اسی طرز پر سروس شروع کی جارہی ہے۔اس کی کامیابی جدید خطوط پر بین الاقوامی معیار کی ایمرجنسی سروسز اکیڈمی کا قیام ہے۔ جس میں حادثات و سانحات سے نبرد آزما ہونے کی تربیت کے لیے مختلف قسم کے ٹریننگ سیمولیٹرز موجود ہیں جس میں فرضی مشقیں کی جا سکتی ہیں۔اب تک اس اکیڈمی میں 24ہزار سے زائد ایمرجنسی سروسز کے ریسکیور ز کی تربیت ہو چکی ہے جبکہ اس اکیڈمی میں 12نیشنل ریسکیو چیلنج،7کمیونٹی ایمرجنسی ریسپانس ٹیمز چیلنج اور ایک سارک ریسکیو چیلنج کا انعقاد کیا جا چکا ہے۔ ریسکیو سروس سرچ اینڈ ریسکیو کے شعبے میں اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے انسراگ سے عالمی معیار کی سرٹیفکیشن حاصل کر نے کے بعد جنوبی ایشیاء کی صف اول کی ایمرجنسی سروس بن چکی ہے۔
وزات پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ حکومت پاکستان نے ایمرجنسی سروس کو دوایوارڈ پیش کیے جس میں ایک سیکرٹر ی ایمرجنسی سروسز ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر رضوان نصیر کوپاکستان میں ایمرجنسی سروسز کے قیام اور اسے بہترین ادارہ بنانے اور دوسرا ایمرجنسی سروس کی کارکردگی اور ایمرجنسی اور سانحات میں لاکھوں لوگوں کی زندگیا ں بچانے کے اعتراف میں ڈویلپمنٹ لیڈرشپ ایوارڈزدیے گئے۔ایمرجنسی سروسز اکیڈمی کی پاکستان ریسکیو ٹیم اقوام متحدہ سے جنوبی ایشیاء میں پہلی سرٹیفائیڈ سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم بن چکی ہے جو نہ صرف ایمرجنسی سروس بلکہ پاکستان کے لیے بہت بڑا اعزاز ہے۔ ریسکیو سروس کے کامیاب ماڈل کو 16ویں ریجنل کمیٹی میں ایشیا Pacificریجن کی استعداد کار میں اضافے کے پروگرام کے لیے ساؤتھ کوریا اور ADPCکی خواہش پر پیش کیا گیا۔ ریسکیو 1122نے اکیڈمی کے ذریعے ریجنل تعاون کی فراہمی کی یقین دہانی کروائی تاکہ ریجن میں موجود باقی ممالک کیلئے بھی ایمرجنسی اور ریسپانس مینجمنٹ کا بہتر نظام بنایا جا سکے۔ اسی طرح ایمرجنسی میڈیکل ریسکیو سروس کا ماڈل شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن ممبر اسٹیٹ کے لیے بھی پیش کیا گیا۔ SCOممبر اسٹیٹ میں سے روس، چین اور پاکستان کی ریسکیو ٹیمیں اقوام متحدہ سے سند یافتہ ہیں۔ اس لیے ایمرجنسی سروسز اکیڈمی تمام ممبر اسٹیٹ کے ساتھ باہمی تعاون سے جنوبی ایشیامیں ایمرجنسی میڈیکل اور ریسکیو ریسپانس کو بہتر بنانے کے لیے تیارہیں اور ریسکیو کی طرف سے مکمل تعاون کی یقین دہانی بھی کروائی گئی۔ آج سروس کو بنے ہوئے 19سال مکمل ہوئے جس میں ایک کروڑ37لاکھ سے زائد حادثات کے شکار کو ریسکیو کیا گیا۔ پہلی جدید فائر سروس سے دو لاکھ18ہزار سے زائد آگ کے سانحات میں 634ارب کے ممکنہ نقصانات کو بروقت ریسپانس اور پیشہ وارانہ فائر فائٹنگ سے بچایا، موٹر بائیک ریسکیو سروس نے 4منٹ کے اوسط ریسپانس ٹائم سے پنجاب کے 9ڈویژنل ہیڈکوارٹر میں 17لاکھ ایمرجنسیز میں مدد فراہم کی۔ پیشنٹ ٹرانسفر سروس کے ذریعے 13لاکھ سے زائد مریضوں کو کم سہولت والے ہسپتال سے بہتر سہولت والے ہسپتال میں منتقل کیا۔ پنجاب کی تمام یونین کونسلز میں کمیونٹی ایمرجنسی ریسپانس ٹیمز قائم کی گئیں اور اب کالجز اور یونیورسٹیز کے طلباء و طالبات کے لیے ریسکیو سکاؤٹ کورس کا آغاز کیا۔ اس کے علاوہ پاکستان لائف سیور سی پی آر ٹریننگ شروع کی گئی تاکہ ہر شہری کو زندگی بچانے کی بنیادی مہارتوں جس میں دل بحال کرنا، خون کے بچاؤ کو کنٹرول کرنا سیکھایا جا تا ہے اس کا مقصد ہر گھر میں ایک فرسٹ ایڈر تیار کرنا ہے۔ تمام تحصیلوں میں ایمرجنسی سروس کی توسیع اور مو بائیک ریسکیو سروس کوتمام اضلاع تک پھیلانے کا مقصدشہریوں کی دہلیزپر ایمرجنسی سروسز فراہم کرنا ہے۔ سروس کے تمام افسران اور اہلکارحکومتی عہدیوداروں، عالمی اداروں خصوصاً ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن،UNOCHA،یو ایس ایڈ،انٹر نیشنل ایمرجنسی ریسپانس ٹیم برطانیہ، سکاٹش فائر سروس، سٹریتھ کلائیڈ فائر سروس،ریپبلک آف ترکیہ، والنٹری سروسز اوورسیز اور انٹرنیشنل کمیٹی ریڈ کراس، اورآغا خان یونیورسٹی کراچی کے تعاون کا بھی شکریہ جنہوں نے گاہے بگاہے ایمرجنسی سروسز کے مختلف شعبہ ہائے کو بین الاقوامی معیار پرکھنے کیلئے تربیتی اور تکنیکی معاونت فراہم کی۔ ریسکیو سروس کی تاریخ شہدائے ریسکیورزکے بغیر نامکمل ہے جنکی انتھک محنت اور لازوال قربانیاں ریسکیورز کے لیے مشعل راہ ہیں۔حکومت پاکستان کا شکریہ کہ شہداگھکھڑ پلازہ کو تمغہ شجاعت جبکہ بانی ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹررضوان نصیر کو ستارہ امتیازاور ان کے زیر سایہ کام کرنے والے افسران کو تمغہ امتیاز اور گورنر ایوراڈ سے نوازا گیا۔ اللہ ہمیں اسی لگن کے ساتھ عوام کی خدمت کی توفیق دے۔آمین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے