کالم

دھندلا معاشی منظر نامہ

مصطفیٰ کمال پاشا

پاکستان کا معاشی بحران شدید ہے اور شدید تر ہوتا نظر آ رہا ہے۔ حکومت کے ذرائع آمدن محدود نظر آتے ہیں لیکن اخراجات لامحدود ہیں۔ قرض پر قرض لینے کی پالیسی بحران میں اضافہ کررہی ہے اب تو صورت حال یہ ہو چکی ہے کہ قرض پر سود کی ادائیگی کے لئے بھی قرض لینا پڑ رہا ہے جبکہ سود کا حجم بھی اس قدر بڑھ چکا ہے کہ الامان الحفیظ۔ اس مسئلے سے نمٹنے کے لئے دوحکمت عملیاں ممکن ہو سکتی ہیں۔
اولاً: اخراجات کو کم از کم اس سطح تک لایا جائے جو موجودہ وسائل کے مطابق ہوں یعنی دستیاب آمدنی کے مطابق اخراجات کئے جائیں۔
دوم: وسائل / آمدن کو بڑھایا جائے اور بڑھائی گئی آمدن کے پیش نظر ہی اخراجات کا تخمینہ رکھا جائے۔
یہ دونوں حکمت عملیاں مروجہ نظام ہائے معیشت کے عین مطابق ہیں یہ کوئی انہونی حکمت عملی نہیں ہے اور ہر لحاظ سے قابلِ عمل اور نتیجہ خیز ہونے والی ہیں شرط صرف ان پر عمل درآمد کی ہے جس کے لئے عزم صمیم کی ضرورت ہے لیکن سیاسی عدم استحکام کے باعث معاملات نے کبھی کوئی مثبت سمت اختیار نہیں کی۔ 2018ء میں ہونے والے انتخابات کے نتیجے میں قائم ہونے والی پی ٹی آئی کی حکومت 44ماہ ہی چل سکی، اس کی کارکردگی ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے، اس حکومت نے نہ صرف سیاسی عدم استحکام کو فروغ دیا بلکہ معاشی طور پر ملک کو دیوالیہ پن کے کنارے پہنچا دیا پھر 16ماہ پی ڈی ایم کی اتحادی حکومت نے گو قومی معیشت کو دیوالیہ ہونے سے تو بچا لیا لیکن عام آدمی کی معیشت کا حقیقی معنوں میں دیوالیہ نکال دیا۔ ویسے تو کووڈ 19کے وقت سے عالمی معیشت مسلسل گھاٹے میں چل رہی ہے کچھ بہتری کے آثار پیدا ہونے لگے تو یوکرائن میں جنگ شروع ہوگئی عالمی منڈی کی سپلائی چین بُری طرح متاثر ہوئی اور ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے جس کے باعث اشیاء صرف و ضرورت کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھیں۔ بار برداری کی لاگت بڑھنی شروع ہوئی، مصارف پیداوار بڑھنے لگے،مہنگائی بڑھنے لگی، اس کے زیر اثر عوام بُری طرح متاثر ہونے لگے۔ برطانیہ، فرانس اور یورپی ممالک میں بھی ہڑتالیں ہو رہی ہیں۔ فیکٹری ورکر ہوں یا ٹرینوں کا عملہ، پائلٹس ہوں یا ڈاکٹر سب یکساں طور پر مہنگائی سے بُری طرح متاثر نظر آرہے ہیں۔ معاملات سنبھلتے ہوئے نظر نہیں آ رہے۔
ہمارے ہاں قدر زر کی گراوٹ وہ بنیادی مسئلہ ہے جس نے عوامی معاملات کو مشکل سے مشکل تر بنا دیا ہے ڈالر کی بڑھتی ہوئی قیمت، عام اشیاء کی قیمتوں پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ہوں یا بجلی او ر گیس کے بل، ہر شے کی قیمت بڑھنے لگتی ہے۔ دوسری طرف پیداواری عمل میں سکڑاؤ کے باعث، عام آدمی کے ذرائع آمدن بھی محدود ہونے لگے ہیں اس سے قوت خرید بھی کم ہو رہی ہے بلکہ حکومتی ٹیکس آمدنیاں بھی گھٹتی چلی جا رہی ہیں۔
حال ہی میں وزارت خزانہ نے مالی سال 2022-23ء کا میزانیہ جاری کیا ہے گزرے مالی سال کے آمدن و اخراجات کا ایک اجمالی جائزہ جاری کیا ہے۔جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2022-23ء کے دوران حکومت کو تمام ذرائع بشمول ٹیکس و نان ٹیکس مدات سے 9630 ارب روپے وصول ہوئے یعنی حکومت کی مجموعی آمدنی 9.63ٹریلین روپے تھی جبکہ اس کے مجموعی اخراجات 16150ارب روپے تھے گویا آمدنی سے 6520ارب روپے کے زائد اخراجات کئے گئے۔6.52ٹریلین روپے کے زائد اخراجات کے لئے قرض لیا گیا۔
ہمارے ہاں جی ڈی پی کے مطابق ٹیکس وصولیوں کی شرح میں تیزی سے کمی آ رہی ہے یعنی ہمارے دستیاب وسائل دن بدن گھٹتے چلے جا رہے ہیں۔ گزرے مالی سال 2022-23ء کے دوران ٹیکس وصولی کی یہ شرح 9.2فیصد تھی اور تمام محصولات ، ٹیکس اور نان ٹیکس کی شرح 11.4فیصد تھی دوسری طرف وفاق اور صوبوں کا کل خرچ جی ڈی پی کا 19.1فیصد تھا۔ یہ ہے اصل وجہ ہماری مالی مشکلات کی۔ ہم خرچ بہت زیادہ کرتے ہیں جبکہ ہماری آمدنی اس کے مقابلے میں کم ہوتی ہے۔ ہم زائد وسائل کے لئے قرض لیتے ہیں جو ایک عرصے سے بڑھتے بڑھتے اس قدر زیادہ ہو چکا ہے کہ اب اسے اتارنے یا کم کرنے کے لئے بھی ہمیں مزید قرض لینا پڑ رہا ہے ہر آنے والا دن اس حوالے سے ہماری مشکلات میں اضافہ کرتا چلا جا رہا ہے جبکہ حیران کن بلکہ پریشان کن بات یہ ہے کہ ہماری کوئی بھی حکومت چاہے وہ پی ٹی آئی کی ہو یا پی ڈی ایم اتحادی حکومت، حتیٰ کہ نگران حکومت بھی اس حوالے سے بالکل لاپرواہی بلکہ مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کرتی دکھائی دیتی ہے۔ ہمارے خوبصورت نگران وزیراعظم نیویارک میں سیلفیاں بناتے دکھائی دیتے ہیں ویسے سیلفیاں بنانا تو کوئی بُری بات نہیں ہے لیکن حکومتی اخراجات پر ٹھنڈے ممالک کے سیرسپاٹے اور واپسی پر سعودی عرب یاترامقروض ملک کے ڈنگ ٹپاؤ وزیراعظم کو قطعاً زیبا نہیں ہے ایسی ہی صورتحال صوبائی سطح پر نگران حکمرانوں کی ہے پنجاب کے نگران وزیرعلیٰ بھی غیر ملکی دوروں سے لطف اندوز ہو رہے ہیں، مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط بھی کرتے نظر آتے ہیں، معاہدے بھی کررہے ہیں حالانکہ ایسا کچھ بھی ان کے مینڈیٹ میں شامل نہیں ہے لیکن وہ دھڑلے سے کروڑوں روپے نئی گاڑیاں خریدنے پر بھی خرچ کر رہے ہیں۔ پلوں اور انڈرپاسز کا افتتاح بھی کررہے ہیں۔ نئے تعمیراتی منصوبوں کا افتتاح بھی کررہے ہیں،سنگ بنیادبھی رکھ رہے ہیں،خزانہ خالی ہے، ٹیکس جمع نہیں ہو رہا ہے، قرض کی ادائیگی بھی کرنا ہے اصل زر کی واپسی کی بات چھوڑیئے سہ ماہی سود کی ادائیگی کا بندوبست کرنا ممکن نظرنہیں آ رہا ہے ایسے میں غیر ملکی سیرسپاٹے اور تعمیراتی ترقیاتی کاموں پر بے دریغ خرچ کرنا کہاں کی دانش مندی ہے۔ ہمارے حکمرانوں کی ایسی ہی دانش مندیوں نے ہمیں اس مقام تک پہنچا دیا ہے کہ جہاں عوام دو وقت کی نہیں بلکہ ایک وقت کی روٹی کے لئے بھی ترس رہے ہیں صورتحال سنبھلتی نظر نہیں آ رہی ہے۔ معاشی بحران مزید گہرا ہوتا نظر آ رہا ہے۔ سیاسی افق بھی دھندلا دھندلا ہی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *