کالم

دوسری جنگ عظیم کے بعدبڑاالمیہ

ایم زیڈ مغل

اگر انصاف کے پلڑے برابر رکھ کر پرکھا جائے تو شک کی قطعا کوئی گنجائش نہیں رہتی کہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد سے ابتک کا سب زیادہ خطرناک انسانی المیہ غزہ میں رونما ہورہا ہے۔ اسرائیلی لڑاکا طیاروں کی دن رات بے رحم بمباری اسرائیلی فاشزم کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ سینکڑوں بلکہ ہزاروں بم برسائے جا چکے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق اسرائیلی طیاروں نے لگ بھگ چھ ہزار ٹن سے زائد بارود غزہ کی 365 مربع کلومیٹر کی حدود میں جھونک دیا ہے اور یہ ستم ظریفی تاحال جاری ہے۔
اس موقع پر دنیا میں سپر پاور ہونے کا دعویدار امریکہ بہادر اسرائیلی بربریت کی مکمل حمائیت میں بیک وقت اپنی بزدلی ثابت کر رہا ہے اور ساتھ ہی ایک ظالم ریاست ہونے کا ثبوت بھی پیش کر رہا ہے جبکہ دوسری طرف ہمیں سوشل میڈیا اور یورپین چینلز ایسی ڈاکومنٹریوں سے بھرے ملتے ہیں جو انسانی حقوق بلکہ جانوروں کے حقوق کی ذمہ دار تنظیموں کے اقدامات نمایاں کر تے ہوئے ایک سافٹ کارنر عیاں کرنے پہ لگی ہیں۔ ان ویڈیوز سے متاثر ہو کر ایک طرف عوام بھی ان این جی اوز کو بھرپور فنڈنگ کرتی ہے جبکہ حکومتی سطح پر بھی معاونت حاصل کی جاتی ہے۔ یا ایسے کہہ لیں کہ دنیا کو یہ بتانا مقصود ہوتا ہے کہ عیسائی قوم انسانوں اور جانوروں کے حقوق کی علم بردار ہے۔ ایک بلی کا بچہ کسی سوراخ میں پھنس جائے تو بڑی سے بڑی مشینری پہنچا دی جاتی ہے تاکہ اسے ذندہ درگور ہونے سے بچایا جاسکے۔ ڈاکومنٹریوں کی صورت میں ایسی سینکڑوں ویڈیوز سوشل میڈیا اور بڑے بڑے چینلز پر آج بھی موجود ہیں۔ لیکن تصویر کا دوسرا رُخ امریکہ و اسرائیل دونوں کو بزدل اقوام کے طور پر پیش کرتا ہے۔ یہودیوں کی حفاظت و بے جا حمایت میں معصوم نہتے فلسطینیوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں۔ امریکہ اور برطانیہ جیسی ریاستیں بجائے اسکے کہ اسرائیل کو غزہ میں موجود ہسپتالوں ، چرچ، سکولوں میں نہتے شہریوں اور عام آبادی پر بمباری سے روک کر مذاکرات کے زریعے معاملہ کا حل کروانے کی کوشش کرتیں وہ انسانی المیہ کا حصہ بن گئیں ہیں۔ سب سے پہلے غزہ کا غیر انسانی محاصرہ ختم کروانے میں کردار ادا کیا جاتا۔ وہاں دوائیں ، کھانے پینے کی اشیاء اور دیگر روز مرہ ضرورت کی چیزیں پہنچائی جاتیں لیکن اِنہوں نے چوبیس گھنٹے کے اندر چوبیس لاکھ شہریوں کے انخلاء کا غیر انسانی و غیرقانونی اسرائیلی آرڈر کا ساتھ دیتے ہوئے غاضب اسرائیل کی پشت پناہی میں عافیت جانی اور انسانیت کو تڑپتا چھوڑ دیا۔ امریکی صدر آج بھی اسرائیل کے ہر اقدام کی کھل کر حمایت کررہے ہیں۔
حقائق بہت واضع ہیں، ایک طرف اہم یورپی ممالک اسرائیلی پلڑے میں بیٹھ چکے ہیں اور دوسری طرف پورا عالمِ اسلام زبانی مذمتوں اور آہ بیاری کے علاوہ کوئی عملی اقدام نہ کر سکا۔ او آئی سی اجلاس بھی بلا لیا گیا، سعودی عرب ملاقاتوں میں مصروف ہے۔ پاکستان کیجانب سے بھی مذمتی بیان جاری کیا ہے جبکہ ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ مسلم برادری یقینی بناتی کہ اسرائیلی محاصرہ ہٹا کر فلسطینی عوام کیلئے امداد پہنچائی جاتی۔ پاکستان نے جو ایک ہزار خیمے، چار ہزار کمبل اور دو ٹن ادویات تو بھیج دیں لیکن کیا معلوم یہ فلسطینی عوام کو نصیب ہو بھی سکیں گی یا نہیں۔ ایران کے علاوہ کسی اسلامی ملک نے کھل کرفلسطین کی حمایت کی نہ ہی اس بلاک کا باقاعدہ حصہ بن سکا۔ کیا ہم یہ تصور کر سکتے ہیں کہ فلسطینی عوام حالات بہتر ہونے کے بعد مسلم اُمہ کو اپنا خیر خواہ تصور کرینگے۔ ہر اس معصوم بچ جانے والے بچے کے سوالوں کا جواب کس کے پاس ہوگا جس کے اہل خانہ اسرائیلی بمباری کا شکار ہوگئے۔کیا آنے والی نسل پوچھے گی نہیں کہ جب یہودی اور صیہونی طاقتیں کھل کر ایک دوسرے کی مدد کو آسکتی تھیں تو مسلم امہ کو کس قوت نے روک رکھا تھا۔
میری نظر میں پچھلے کچھ دنوں میں عالمِ اسلام سے بہتر انداز میں ردعمل روس اور چائنہ کی جانب سے سامنے آیا ہے۔ روسی صدر پیوٹن نے کم از کم کھل کر امریکہ و اسرائیل گٹھ جوڑ کو للکارنے کی جرات تو کی۔ اور ظاہر ہے کسی بڑے ملک کیجانب سے حوصلہ مندی حماس جیسی عسکری تنظیم کیلئے لائف لائن سے کم تصور نہیں کی جاسکتی۔
دوسری طرف امریکی حمایت کا نتیجہ یہ نکلا کہ اسرائیل نے فلسطین سے ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے اردن اور شام کے ہوائی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ حال یہ ہے کہ شامی صدر کیجانب سےبھی پراسرار خاموشی اختیار کرنے پر ہی اکتفا کیا جا رہا ہے کیونکہ کئی دن گزرنے کے باوجود بے بس فلسطینی سرحدوں کے اندر محصور ہیں۔اوپر سے اسرائیلی جنگی طیاروں کی بے رحم بمباری کا نشانہ بن رہے ہیں ۔ بظاہر ایسا محسوس ہورہا ہے جیسے فلسطینیوں کی باقاعدہ نسل کشی کا ارادہ ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ حق و باطل کی اس جنگ میں مسلمان قوتوں کو اپنے لاچار بھائیوں کا مضبوط سہارا بن کر ابھرنا ہوتا ہے یا محض مذمتوں اور بیان باذیوں سے اسرائیلی ظلم و تشدد کا مقابلہ کرتے ہیں۔ کیا عالمی مسلم کمیونٹی ایران کی پیروی میں اس ظلم و نا انصافی کا مقابلہ کرنے کو ترجیح دیتی ہے یا سعودی حکام کی طرح ملاقاتوں اور بیان بازی پر ہی تکیہ رکھا جاتا ہے کیونکہ جس انداز میں ایران نے فلسطینی بھائیوں کیلئے آواز اٹھائی ہے وہ قابلِ قدر تو ہے ہی بلکہ قابلِ تقلید بھی ہے۔
وقت آن پہنچا ہے کہ اسرائیل کو فلسطین میں جنگی جرائم کا مرتکب ٹھہرانے کیلئے باقاعدہ بین الاقوامی مہم کا آغاز کیا جائے۔ آج اسرائیلی ظلم کے تیرہ ایام گزر چکے ہیں اور میڈیا رپورٹس بتا تی ہیں کہ کم از کم چار ہزار فلسطینی شہید کر دیئے گئے ہیں لیکن اس تعداد پر مکمل اعتبار بھی نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اسرائیلی محاصرہ کے دوران غزہ کی اصل اور مکمل صورتحال تاحال واضع نہیں ہوسکی ہیں۔ مسلم اُمہ کو اسرائیلی بربریت پر کھل کر تنقید اور اسرائیلی دعوؤں کو یکسر مُسترد کرنا چاہیئے ۔ساتھ ہی اسرائیل کے حامی ممالک کو فلسطین میں انسانی حقوق کی پاسداری اور فلسطینیوں پر حملے فوری طور پر بند کروانے کیلئے معنی خیز دباو بھی ڈالنا چاہیئے ورنہ ایسا نہ ہو کہ موجودہ حالات دوسری جنگِ عظیم سے زیادہ جانی نقصان کا باعث بن جائیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *