کالم

دشت و دمن لہو لہو ، سارا وطن لہو لہو

نوید مغل

بلاشبہ مزاحمت کرنا اور اپنی آزادی کے لیے لڑنا فلسطینیوں کا بنیادی حق ہے۔ موجودہ صورتحال پر بات کریں تو یہ انتہائی کرب ناک ہے، اسرائیل کی نہایت مضبوط اور جدید ہتھیاروں سے لیس فوج فلسطینی معصوم شہریوں، عورتوں اور بچوں کے خلاف جارحیت کررہی ہے، اگر اسرائیل اپنے ظلم اور جارحیت پر پردہ ڈالنے اور عالمی برادری کو دھوکا دیتے ہوئے یہ باور کرا رہا ہے کہ وہ فلسطینی حملوں کے خلاف فقط اپنادفاع کر رہا ہے، تو یہ ہر کوئی جانتا ہے بدقسمتی سے اسرائیل اور فلسطین پرعالمی برادری دہرے معیارات اختیار کرتی ہے۔مسئلہ فلسطین کا آغاز 1917 میں معاہدہ بالفور سے ہوا تھا ۔ اسرائیل نے فلسطین پر برطانیہ اور مغرب کی حمایت سے قبضہ کیا تھا،جب اس ناجائز ریاست اسرائیل کو وجود میں لایا گیا اس وقت بھی فلسطینیوں پر ظلم ڈھا کر انھیں ان کے وطن سے نکالا گیا تھا۔یہودی ہمیشہ جھوٹ بولتے رہے ہیں کہ فلسطینیوں نے رضاکارانہ طور پر اپنے قصبوں اور دیہات سے ترک وطن کیاتھا لیکن آج خود اسرائیل کے مورخین اعتراف کر رہے ہیں کہ یہودیوں نے ایک سوچے سمجھے اور ماہرانہ منصوبے کے ذریعے فلسطینی سرزمین پر نسلی صفائی کا عمل انجام دیا تھا، جس کا مقصد فلسطینیوں کو جلاوطن کر کے ان کے متروکہ علاقوں میں پوری دنیا اور خصوصی طور سے روس، مشرقی یورپ اور جرمنی سے یہودیوں کو لاکر بسانا تھا۔ یہودی دہشت گردوںاور اسرائیلی فوج نے فلسطینیوں کے سیکڑوں گاؤں اور قصبے تباہ و بربادکر دیے۔مغربی اور امریکی انتظامیہ کی جانب سے اسرائیل کی مسلسل حمایت اب تک جاری ہے۔اب تک جتنی بھی قراردادیں فلسطین کے لیے پاس کی گئی ہیں ،ان میں سے کسی ایک پر بھی عملدرآمد نہیں ہوا ، کیونکہ اقوامِ متحدہ بہت محدود حیثیت رکھتی ہے کہ وہ اپنے طور پرکرے بھی تو کیا کرے؟جب 1938 میں سعودی عرب میں تیل کے سب سے بڑے عالمی ذخیرے کی دریافت کی اطلاع ملی تواس کے بعد مغربی طاقتوں نے ایک نئے منصوبہ پر کام کرنا شروع کردیا اور انھوں نے عربوں کو پریشان کرنے کے لیے یہودیوں کی ریاست اسرائیل کا قیام عمل
میں لایا گیا تاکہ عرب ریاستیں، اسرائیل سے مسلسل خوفزدہ رہ کر مغربی طاقتوں کے کنٹرول میں رہ سکیں اور یہی وجہ ہے عرب ریاستوں کی دولت کا ایک بڑا حصہ اس اسلحے کی خریداری پر خرچ ہوتا ہے جو وہ مغربی حکومتوں سے خریداری کرتی ہیں ۔اس طرح تیل پر خرچ ہو نے والی ایک کثیر رقم اسلحے کی تجارت سے واپس مغربی اقوام کو مل جاتی ہے۔۔1967سے قبل غزہ کی پٹی مصر کے زیر انتظام تھی اور مغربی کنارہ اُردن کے زیر انتظام تھا مگر ان دونوں میں کوئی جغرافیائی رابطہ نہیں تھا ،اسی لیے آج غزہ میں لاکھوں لوگ اسرائیلی محاصرے میں ہیں ،ماسوائے رفاہ کراسنگ کے جو کہ مصر کے زیرِکنٹرول ہے۔اِسی طرح مغربی کنارہ کے لوگوں کا بھی باہر کی دُنیا سے کوئی رابطہ نہیں ہے۔۔مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن دو ریاستی حل میں موجود ہے، 1967 سے پہلے والے بارڈرز کے تحت قابل عمل، خودمختار ریاست فلسطین ہونی چاہیے، فلسطین کی ایسی ریاست ہو جس کا دل القدس الشریف ہو۔ پاکستان اقوام متحدہ، او آئی سی قراردادوں کے مطابق مسئلہ فلسطین کے منصفانہ حل کا اعادہ کرتا ہے۔ اسرائیل کو خطے کا پولیس مین بنانا اور اس کے ذریعے اپنے مذموم مقاصد کا حصول عالمی قوتوں کا پسندیدہ فارمولہ بن چکا ہے۔اسی لیے ہزاروں جانیں گنوانے کے باوجود اور باعزت و پر سکون زندگی کے لیے ترستے فلسطینی دنیا کی آنکھوں سے اوجھل ہیں۔ مظلوم فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی جارحیت پر انسانی حقوق کے نام نہاد علمبردار ممالک کی اکثریت نے اسرائیل جیسی ناجائز ریاست کو تسلیم کر رکھا ہے۔ کیا غزہ میں بہنے والا بچوں کا لہو کسی دوسرے رنگ کا ہے؟ کیا فلسطینی مظلوموں کی چیخیں عالمی برادری کے دل دہلانے کے لیے ناکافی ہیں؟ کیا بے گھر فلسطینیوں کی تکالیف سے عالمی ضمیر پر کوئی اثر نہیں پڑا؟ سوالات تو اوربھی بہت سے ہیں لیکن عالمی طاقتوں کی ہلا شیری کی وجہ سے ہمسایہ ممالک شام، اردن، لبنان سمیت پورا خطہ عدم استحکام کا شکار ہے۔1947کی فلسطین جنگ سے لے کر اوسلومعاہدے تک ذرا ایک نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اسرائیلی مظالم کم ہوئے نہ اس کے توسیع پسندانہ عزائم کی راہ میں کوئی رکاوٹ ڈالی جاسکی۔ بلکہ اب تو کچھ اسلامی ممالک نےاس ناجائز ریاست کو جائز تسلیم کر لیا ہے۔جہاں تک موجودہ بحران کے حل کا تعلق ہے تو اس میں بعض قوتیں موثر اور تعمیری کردار ادا تو کر سکتی ہیں مگر دیکھنا یہ ہے کہ وہ اِس مسئلے کے حل کے لیے کتنی مخلص ہیں؟ مثلاً امریکا ، اقوامِ متحدہ اور اسلامی دُنیا ۔ اصل مسئلہ عالمی قیادت کا ہے کہ فوری انسانی بنیادوں پرمظلوم فلسطینی عوام کا قتل عام بند کروایا جائے اور جنگ بندی کو ممکن بنایاجائے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *