کالم

درد مند اور ہمدرد لوگ

منشاقاضی

حضرت امام زین العابدین کا قول جس میں پورا ایک سمندر موجزن ہے کہ زمین عقل مندوں سے تو بھری ہے مگر درد مندوں سے خالی ہے جس دن لوگوں کو یہ بات سمجھ میں آ گئی کہ مخلوق سے محبت خالق تک لے جاتی ہے اس دن روئے زمین پر امن قائم ہو جائے گا ۔ ہمارے ہر دلعزیز دوست ڈاکٹر ندیم الحسن گیلانی نے بابائے صحافت مولانا ظفر علی خان پر پی ایچ ڈی کی اور یہ بہت بڑے اعزاز کی بات ہے ۔ مولانا ظفر علی خان کی پوری زندگی جہد مسلسل اور کوشش پیہم میں گزری تھی اور آپ کے ساتھ قوم نے کیا سلوک کیا ان ہی کی زبانی ملاحظہ فرمائیں ۔ جن لوگوں نے مرحوم کی نحیف و مضمحل آواز میں یہ کہتے سنا ان میں کچھ لوگ آج بھی زندہ ہیں ۔ ۔۔ ’’ہمارا قافلہ منزل مقصود تک پہنچ چکا ہے ۔ اگرچہ تمنائے راہ پیمائی باقی ہے مگر قوت راہ پیمائی نہیں ۔ اب ہم راستے میں بیٹھ کر چلنے والوں کو دیکھنے کے قابل رہ گئے ہیں ۔ اور تماشا بھی ان لوگوں کا دیکھتے ہیں جو عہد ماضی کی یادگار جان کر ہمیں تماشا سمجھتے ہیں اور اپنے آپ کو تماشائی ۔۔‘‘ پھر کسی توقف کے بعد فرمایا ۔ ’’جہاں چڑھتے ہوئے سورج کی پوجا ہوتی ہو وہاں ڈوبتے ہوئے آفتاب کو کون پوچھتا ہے اور ہم تو ڈوبتے ہوئے ستاروں کی طرح دنیا پر نظر ڈال رہے ہیں ۔‘‘۔۔’ کتنی حسرت ہے کتنا سوز ہے کتنا درد ہے ان الفاظ میں ۔ وہ عظیم المرتبت شخصیت جس نے نصف صدی تک بازی گاہ سیاست میں ایک کامیاب شہسوار اور بیباک جرنیل کی حیثیت سے اپنوں اور بیگانوں کو انگشت بدنداں بنائے رکھا ۔ جس کی للکار سے انگریز کے قصر استعمار کی بنیادیں متزلزل ہو جایا کرتی تھیں ۔ جس نے مسلمانوں کی آزادی کے لئیے پورے پچاس سال تک ظلم کی آندھیوں ۔ استبداد کے طوفانوں ۔ ملوکیت کے طوفان انگیز سیلابوں ۔ طوق و سلاسل کی جھنکاروں ۔ زنداں کی کوٹھریوں کی تاریکیوں کا مقابلہ کیا آزادی ملی تو اس قابل نہ رہا کہ اس سے لطف اندوز ہو سکے ۔‘ اس اقتباس کو یہاں نقل کرنے کا مقصد یہ تھا کہ جب ڈاکٹر سید ندیم الحسن گیلانی نے ملک محمد حسین مرحوم کے حوالے سے یادوں کے چراغ روشن کرتے ہوئے ان کے جنازے میں چند دوستوں کے سوا کوئی نہ تھا ۔ جسے پورا پاکستان جانتا تھا ۔ وہ بھی ہمارے قبیل کا فرد فرید تھا ۔ جس کے اشارہ ء چشم و ابرو پر اخبارات کی سرخیاں بدل جاتی تھیں ۔ کتنے ہی بڑے بڑے بیوروکریٹ کو اس نے لطف تکلم سے آشنا کیا ۔ اور ایسے ایسے بت تراشے جو بعد میں خدا بن گئے اور چوھدری صاحب کو کسی نے نہیں پوچھا ۔ کئی افسران جن کے مزاج بگڑے ہوئے تھے وہ ناراض بھی ہو جاتے تھے لیکن یہ درویش خدا مست اپنے فرائض منصبی سے انصاف کرتا رہا ۔ ایک تو ہی نہیں مجھ سے خفا ہو بیٹھا میں نے جو سنگ تراشا وہ خدا ہو بیٹھا دس سال سے ہماری پی آر او ویلفئر ایسوسی ایشن کی کارکردگی کا حسن آج کے اس ہنگامی اجلاس میں چاندنی بکھیر رہا ہے ۔ بادشاہ گر نابغہ روزگار شہہ دماغ ہمارے یہ دوست کچھ کر گزرنا چاہتے ہیں میں نے ڈاکٹر سید ندیم الحسن گیلانی کو فلاح کی راہ کا راہی پایا ہے اور درد مند اور ہمدرد انسان دیکھا ہے ۔ پی آر او ویلفئر ایسوسی ایشن کے صدر کے طور پر انہوں نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب اعلیٰ مقاصد کے حصول میں کامیاب نہیں ہوئے جو ہمارا نصب العین تھا ۔ اب ہم ان کے حصول کے لیے نئی باڈی تشکیل
دے کر جنگی بنیادوں پر کام شروع کر دیں ۔ میں دل کی گہرائیوں سے اپنے عظیم المرتبت احباب کے ساتھ ان لوگوں کی فلاح و بہبود کا عہد کرتا ہوں جن کے لئیے سید گیلانی کی روح بے چین ہے اور اب چیئر مین ڈاکٹر سید ندیم الحسن گیلانی کی قیادت و سیادت میں جس ہستی کا چنائو ہوا ہے وہ قول کے نہیں عمل کے آدمی ہیں ۔ منتظم کے اوصاف حمیدہ سے متصف ہیں آپ نے پی آر او کے قافلہء سالار مرحوم طارق بُچہ ۔ مرحوم نزاکت علی بھٹی ۔ محمد حسین ملک مرحوم اور عصر حاضر کے عظیم تعلقات عامہ کے سائنسدان جناب شعیب بن عزیز جیسے نابغہ ء روزگار شخصیات کی خوبیوں کا تذکرہ کیا اور افسوس کا اظہار کیا کہ یہ وہ لوگ تھے جن کے نام حلق سے نکلتے تھے خلق تک جاتے تھے ۔ تعلقات عامہ میں مہارت تامہ اور چیز ہے مگر ڈاکٹر سید ندیم الحسن گیلانی کی طرح انمول موتیوں کو ایک مالا میں پرونا اور ان کی صلاحیتوں سے اجتماعی فیوض و برکات دوستوں میں تقسیم کرنا بہت بڑی بات ہے ۔ ہم سب کو اپنے قبیل کے لوگوں سے تعلقات مضبوط اور محفوظ کرنے کی سعادت حاصل کرنی چاہیئے ۔ آج کے اجلاس کا یہ ایجنڈا تو نہ تھا مگر پھر بھی شکوہ و شکایات کے بطن سے رواداری کی باد بہاری چل نکلنا غنیمت ہے ۔ چڑھتے سورج کے سب پجاری تو نہیں ہوتے ۔ ہمیں تو غروب آفتاب کے مناظر بھی بڑے حسین لگتے ہیں ۔ڈاکٹر سید ندیم الحسن گیلانی کا دعویٰ تو یہ تھا کہ حسن والے میرے قاتل ہیں لیکن دعویٰ ہے میرےحسن والوں کو سزا ہو مجھے منظور نہیں۔ ہمدرد سنٹر کے پی آر او سید علی بخاری کو ڈاکٹر سید ندیم الحسن گیلانی ٹوٹ کر چاہتے ہیں اور نجانی بدگمانی بھی بلائے ناگہانی محسوس ہوتی ہے۔سید علی بخاری ہم سب کے عزیز ہیں بلکہ عزیز جہاں ہیں ان کی بے پناہ عزت کرتے ہوئے ان کے اعزاز میں ڈاکٹر سید ندیم الحسن گیلانی نے پر شکوہ ظہرانہ دیا جس میں انہوں نے پی آر او ویلفئر ایسوسی ایشن کے دیرینہ دوستوں کو بھی یاد کیا ۔ یہ ظہرانہ پارینہ پی آر او ویلفئر ایسوسی ایشن کی تنظیم نو کا خوبصورت منظر نامہ بن گیا ۔ ڈاکٹر سید ندیم الحسن گیلانی کی طبع کی روانی اور ان کی فکری رعنائی ء سرود کی آبشار ہم سب کے دلوں میں مسرتوں کے تمام سامان پیدا کر رہی تھی ۔ہم سب احباب لذتوں اور مسرتوں سے سرفراز ہوئے ۔ ادھر لب ہلے ادھر شکایات نے دم توڑ دیا۔سید علی بخاری نے اپنی سہواً غلطی تسلیم کر لی اور دونوں طرف چراغ وفا جاگ اٹھا ۔ آپسی تعلقات کو اگر ہم مضبوط کر لیں تو ہم پورے پاکستان میں انقلاب امن و سلامتی برپا کر سکتے ہیں ۔مہر عبدالرئوف نے تمام شرکا فہرست فراہم کی ۔ سید ندیم الحسن گیلانی ہم سب کے محبوب چیئرمین پبلک ریلیشنز ویلفئر ایسوسی ایشن ہیں جن کا پرشکوہ ظہرانہ ایک خوبصورت منظر نامے میں بدل گیا اور ہم سب بہبود اور فلاح کی طرف پلٹ گئے جس کی تحریک جناب ڈاکٹر سید ندیم الحسن گیلانی کی طبع کی روانی نے دی ہے ۔ اطہر اعوان عمل کے انسان ہیں ۔ کامران ملکپیکر متحرک ہیں۔ مصطفیٰ کمال پاشایقین رکھتے ہیں ان کی صدارت میں یہ قافلہ ء نو بہار اپنی منزل مقصود تک پہنچ کر دم لے گا ۔ ڈاکٹر مصطفیٰ کمال جاننے کے باوجود خاموش رہتے ہیں ۔ سید علی بخاری کی وجہ شہرت ہمدرد انسان کے مشن کو جاری رکھنے کی وجہ ہے ۔ شہید حکیم سعید کی سعید روح خوش ہے کہ ان کا مشن جاری ہے۔مہر عبدالرئوف سماجیات کے میدان کے شہسوار ہیں۔ ذوالفقار علی کی فراخدلانہ ادائوں کو مولائے کریم عمل میں ڈھال دے ۔ میاں کرامت علی ملک کے سارے قومی اخبارات سےشناسا ہیں۔افتخار رسول کا پس منظر بڑا تابناک ہے ۔ طلحہ عبدالرئوف کی سعادت مندی فتح مندیوں کی نوید دیتی ہے ۔ آخر میں ایک پیغام ہم سب کے لئے ہے کہ ہم قول و فعل میں یکسانیت پیدا کر کے دکھی انسانیت کے لئے کچھ کر گزریں ۔کائنات لفظ سے بنی ہے اور کن سے فیکون ہو گئی ۔ آؤ ہم سب مل کر اخوت و محبت اور رواداری کی باد بہاری چلا دیں ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Diyarbakır koltuk yıkama hindi sex