کالم

داعی تحریک نظام مصطفےٰ رفیق احمد باجواہ کی 19ویں برسی

مدثر قدیر

رفیق احمد باجواہ 21 اپریل 1923 کو سانگلہ ہل کے قریب گاؤں چک نمبر 121 ہنجلی میں پیدا ہوئے ۔ وہ بچپن سے ہی ماں باپ کی خصوصی شفقت کے حقدار ٹھہرے اور ایک پسماندہ علاقہ ہونے کے باوجود والدین کی بہتر تربیت کے باعث وہ تعلیم سے گہرا لگاؤ رکھتے تھے۔ان کی شخصیت میں نکھار پیدا کرنے میں جہاں ان کے والد چوھدری آصف علی خاں باجواہ کی شخصیت نمایاں تھی وہاں ان کی والدہ جنت بی بی کی تربیت نے ایسے رنگ بکھیرے کے وہ تعلیمی۔سیاسی۔اخلاقی اور دینی رموز سے آشنا ہوئے۔گاؤں سے ہی پرائمری مڈل اور سانگلہ ہل سے میٹرک تک تعلیم حاصل کر کے فیصل آباد کے گورنمنٹ کالج سے تعلیم حاصل کی۔زمانہ طالبعلمی سے ہی انہوں نے شاعری اور کالج گزٹ میں لکھنا شروع کر دیا۔ایک طرف وہ علمی اور ادبی نشستوں میں شریک تو دوسری طرف سیاسی سرگرمیوں میں بھی حصہ لینا شروع کر دیا اسی دوران وہ تحریک پاکستان کا حصہ بھی بنے اور انقلابی شاعری اور ولولہ انگیز تقاریر سے گورنمنٹ کالج فیصل آباد میں شہرت پائی ۔گورنمنٹ کالج فیصل آباد سے گریجویشن کے بعد باقاعدہ طور پر تحریک پاکستان کا حصہ بنے۔قیام پاکستان کے بعد وہ لاہور منتقل ہوئے اور سرکاری ملازمت اختیار کی۔لیکن زیادہ عرصہ تک وہ سرکار کے تابع کام نہ کر سکے ۔اپنی زندگی میں مزید کچھ خاص کر گزرنے کا جذبہ لے کر لاہور سے کراچی منتقل ہوئے۔جہاں انہوں نے ٹریڈ یونین کی سرگرمیوں میں حصہ لیا اور مزدوروں کےحقوق کے لیے آمرانہ حکومت کے سامنے اپنی تحریروں اور تقریروں کے ذریعے آواز بلند کی۔کراچی میں ہی انہوں نے 1962 میں قانون کی ڈگری حاصل کی اور ایک بار پھر لاہور کا رخ کیا اور عوام کے حقوق کی
جنگ عدالتوں میں لڑی اور ساتھ ساتھ سیاست میں بھی عملی طور پر حصہ لینا شروع کر دیا انہوں نے پاکستان اتحاد پارٹی جس کے سربراہ خواجہ رفیق تھے اس پارٹی میں شمولیت اختیار کی اور پھر خواجہ رفیق کی شہادت کے بعد جمعیت علمائے پاکستان میں شمولیت اختیار کی اور پاکستان میں نظام مصطفےٰ کے نفاذ میں کی کوشش کے لیے عوام کو متحرک کیا انہوں نے متعدد تصانیف بھی تحریر کیں جن میں اردو اور پنجابی شاعری کی تصانیف بھی شامل ہیں رفیق احمد باجواہ نے جسٹس صمدانی ٹربیونل میں قادیانیوں کو غیر مسلم دینے کے کیس میں بھی قادیانیوں کے سربراہ پر جرح کی اس موقع پر جسٹس صمدانی نے مدلل دلائل پر سراہا ۔ پاکستان میں نظام مصطفےٰکے نظریہ کولے کر انہوں نے مختلف سیاسی و مذہبی نظریات رکھنے والی جماعتوں کو اکٹھا کیا اور بہترین حکمت عملی سے 1977 میں 9 جماعتوں پر مشتمل پاکستان قومی اتحاد کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا اور پاکستان قومی اتحاد کے قیام کا اعلان رفیق احمد باجواہ کی رہائش گاہ شادباغ میں کیا ۔ قریب تھا کہ پاکستان میں نظام مصطفٰے کا نفاذ ہو جاتا مگر ایک گہری سازش کے ذریعے اس عمل کو روک دیا گیااس موقع پر رفیق احمد باجواہ نے قوم کو تقسیم اور انتشار سے بچانے کے لیے اپنے آپ کو سیاسی منظر سے الگ کرنے کا فیصلہ کیا ۔سیاسی منظر سے الگ ہونے کے باوجود وہ ملک کی چھوٹی سے بڑی عدالت میں عوام کے حقوق کے لیے برسر پیکار رہے اور انہوں نے عوام کے حقوق کے لیے کئی عدالتوں سے کئی ایسے فیصلے لیے جن میں ہر بار قانون کی نئی تشريع سامنے آئی ۔ انہوں نے اپنی زندگی میں ہمیشہ پیار محبت اخلاق اور عاجزی کا درس دیا اور اپنے اسی اثاثہ کو لے کر وہ 13 جون 2004 میں اللہ کے حضور پیش ہوگے …. داعی تحریک نظام مصطفے رفیق احمد باجواہ کی خدمات عشق رسول مقبولؐ اسلامی نظام کے نفاذ اور ان کے اخلاقی سیاسی اور سماجی افکار کی روشنی میں روشن سائے ویلفیئر فاؤنڈیشن کے نام سے فلاحی تنظیم قیام 2015 میں عمل میں آیا جس کے تحت انسانیت کی خدمت کے لیے ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے یہ دنیا کی واحد فلاحی تنظیم ہے جو انسانی زندگیوں سے جڑے ہر مسئلے کے حل کے لیے کوشاں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Diyarbakır koltuk yıkama hindi sex