کالم

خوف کی دیوار

غلام شبیر عاصم

میں دفتر سے نکلا تو دل و دماغ میں پرانی کئی تلخ و شیریں یادوں کے دفتر کُھل گئے،میرا دفتر بابو صابو گندا نالہ کے قریب لبِ سڑک واقع ہے۔بدبودار اور گند بھرے خطرناک دلدل نماکی آہ و بکا کو صرف میرا تیسرا کان ہی سن سکتا تھا۔شاید ادیب ہی ہے جو تیسری آنکھ اور تیسرا کان رکھتا ہے۔مقتدر لوگ اور بیورو کریٹس تیسرا کان اور آنکھ ۜنہیں رکھتے۔ میں بابُو صابُو سے داتا صاحب تک آنے والے رکشہ پر بیٹھ گیا مجھے کربلا گامے شاہ پہنچنا تھا۔پنجاب سیکرٹریٹ کے سامنےگورنمنٹ ٹیچرز اپنے حقوق کی خاطر پلے کارڈز لیے اور فلیکسز آویزاں کئے راستہ بند کئے بیٹھے تھے۔ رکشہ کچھ دیر کے لئے رک گیا۔ سڑک کنارےایک ریڑھی پر کھجوروں کا ڈھیر دیکھ کر میرے
منہ میں پانی آگیا تھا۔میں نے پچاس روپے کی کھجوریں لے لیں۔اور ایک ایک کرکے کھجوریں کھا رہا تھا۔دو تین بار میں نے شاپر کو گرہ دی کہ اب نہیں کھائوں گا،باقی ٹھہر کے کھائوں گا،لیکن زبان کا چسکا تھا تھم نہیں رہا تھا۔مجھے کربلا گامے شاہ ایک مذہبی کتاب خریدنے کے لئے سید نقی شاہ صاحب سے ملنا تھا۔خیال تھا کہ عقیدتاً کھجوریں انہیں بھی پیش کروں گا۔ان کے بُک ڈپو پر پہنچا تومیں ڈر سا گیا۔سوچا کہ اگر کھجوریں کھانے کے بعد خدا نہ کرے، اچانک کسی اور وجہ سے شاہ صاحب کو کچھ ہوگیا تو۔۔۔؟یہاں تو شور مچ جائے گا،لوگ آئو دیکھیں گے نہ تائو،مجھے کھینچنا گھسیٹنا اور پیٹنا شروع کردیں گے۔کسی میڈیکل لیبارٹری ٹیسٹ یا فرانزک رپورٹ آنے کے بعد بے قصور اور بے گناہ ثابت ہونے کے باوجود بھی پولیس والے تو مجھے ہرگز معاف نہیں کریں گے۔ بد زبانی کے ساتھ ساتھ دو تین ہزار روپے خرچہ مرچہ کی ڈیمانڈ ضرور کریں گے۔الٹا میرے گھر والے بھی پریشان ہوں گے۔یہ ساری باتیں ایک لمحہ بھر میں آسمانی بجلی کی طرح میرے دماغ پر آ گریں،اور میں نے بچی ہوئی کھجوریں لپیٹ کر جیکٹ کی جیب میں رکھ لیں۔پتہ نہیں کیوں اس وہم و گمان نے مجھے ڈرا سا دیا اور میں اپنے آپ میں بزدل و وہمی سا انسان بن کے رہ گیا۔سوچا کہ مصیبت آنے کا کوئی پتہ چلتا ہے کب آجائے۔ اچھا کیا جو ممکنہ مصیبت کو مد نظر رکھتے ہوئے میں نے شاہ صاحب کو کھجوریں پیش نہ کیں،انہونی ہو بھی تو سکتی تھی۔میں نے اس ساری کیفیت اور اپنے ارادے میں اچانک آنے والی اس تبدیلی سے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ یہ سب کچھ ہمارے آس پاس معاشرے میں ہونے والے عجیب و حیران کُن اور اوسان اڑا دینے والے واقعات کے زیر اثر ہوا ہے۔نہ جانے کتنے ہی لوگ روزانہ میری طرح وہم و گمان کی اس کیفیت میں کئی اچھے،صلہ رحمی اور دل جیتنے والے کام سرانجام دینے سے خائف بلکہ تائب ہو جاتے ہوں گے۔اگر ہمارے اندر کا یہ وہم وگمان اور خوف ختم ہو جائے تو کوئی شک نہیں کہ ہمارے معاشرے میں شعوری حوالہ سے کئی بہتر تبدیلیاں آسکتی ہیں ۔مگرایک خوف کی دیوار ہے جو اخلاقی انقلاب کا راستہ روکے ہوئے ہے۔ یاد رکھیں اس انسانیت دشمن خوف کی افزائش کو روکنا اب ناگزیر ہوچکا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے