کالم

خوشگوار موسم میں گرمی کی چھٹیاں

رفیع صحرائی

اس وقت پنجاب سمیت پورے ملک میں موسم کافی خوشگوار چل رہا ہے۔ بادل آتے ہیں اور جل تھل ایک کر جاتے ہیں۔ ہم نے تو اپنی ساٹھ سالہ زندگی میں پہلی مرتبہ جون کے مہینے میں سردی دیکھی ہے۔ اتنی سردی کہ لوگ گرم چادریں اوڑھ کر سونے پر مجبور ہو گئے۔ جون کا پہلا ہفتہ گزر چکا ہے۔ دوسرے ہفتے کا آغاز ہو گیا ہے مگر موسمِ گرما تاحال شروع نہیں ہوا۔ بچپن میں نصاب کی کتابوں میں یہ شعر پڑھا تھا۔
مئی جون کا آن پہنچا مہینہ
بہا چوٹی سے ایڑی تک پسینہ
اس شعر سے پتا چلتا ہے کہ مئی کے آغاز میں ہی گرمی کا موسم شروع ہو جاتا تھا۔ چند سال پہلے شدید گرمی کی وجہ سے 22 مئی کو سکولوں میں گرمی کی چھٹیاں کرنا پڑی تھیں۔ تب شدید گرمی کی وجہ سے حالات کا تقاضا یہی تھا۔ موسم کی یہ رنگینیاں بھی قدرت کی خاص عطا ہیں ورنہ ایسے ممالک بھی موجود ہیں جہاں سارا سال گرمی پڑتی ہے اور وہ ممالک بھی کرہ ارض پر موجود ہیں جہاں درجہ حرارت نقطہ انجماد سے بھی نیچے رہتا ہے مگر وہ لوگ گرمی یا سردی کی وجہ سے اپنے روزمرہ کام متاثر نہیں کرتے۔ ان کے معمول کے کام جاری رہتے ہیں۔ انہوں نے اپنے موسم اور درجہ حرارت سے سمجھوتہ کر کے جینا سیکھ لیا ہے۔ یہ نزاکتیں صرف ہمارے ہاں ہی پائی جاتی ہیں کہ گرمی میں چھٹیاں، سردی میں چھٹیاں، موسم اگر سہانا ہو جائے تو ویسے ہی کام کرنے کو ہمارا دل نہیں کرتا۔
یہ ہمارے ملک کی بہت بڑی بدقسمتی ہے کہ ہمارے پالیسی میکرز وہ لوگ ہیں جو معروضی حالات سے مکمل طور پر ناآشنا ہوتے ہیں۔ درجنوں اقسام کے کھانے سامنے رکھ کر غربت کے خاتمے اور بھوکے افراد کے لیے پالیسیاں بنانے والے ان متاثرہ افراد کے کرب کو کیسے سمجھ سکتے ہیں۔ منرل واٹر پینے والے پانی کی آلودگی اور کھارے پانی کے بارے میں کیا پالیسی بنائیں گے۔ ایئر کنڈیشنڈ گاڑیوں میں سفر کرنے والے، ایئر کنڈیشنڈ دفاتر میں بیٹھنے اور سنٹرلی ایئر کنڈیشنڈ گھروں میں سونے والے بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خاتمے بارے پالیسیاں خاک بنائیں گے۔ لارڈ میکالے کو دنیا چھوڑے 63 برس گزر چکے مگر مرنے کے بعد بھی وہ ہمارے تعلیمی نظام پر حکمران ہے۔ اس نے کہا تھا
’’ہمیں ایک ایسی جماعت بنانی چاہیے جو ہم میں اور ہماری کروڑوں کی تعداد میں رعایا کے درمیان ہماری مترجم ہو اور یہ ایسی جماعت ہونی چاہیے جو رنگ اور خون کے اعتبار سے تو ہندوستانی ہو مگر مذاق، رائے اور سمجھ کے اعتبار سے انگریز ہو‘‘
لارڈ میکالے کو ہمارے پرکھوں میں سے ایسے ’’کالے انگریز‘‘ مل گئے جو انگریزوں کے نظام کو چلانے میں معاون و مددگار بنے۔ پھر ہم آزاد ہو گئے۔ 76 سال ہو چلے ہماری آزادی کو مگر ہم لارڈ میکالے کے سحر سے ابھی تک نہیں نکل پائے۔ اس کی بنائی پالیسیوں کو ہمارے ماہرین نے پتھر پر لکیر اور صحیفہ آسمانی سمجھ کر سینے سے لگا لیا۔ اس میں ردو بدل گناہ کے مترادف ہو گیا۔
کرونا کے دنوں میں جس قدر ہمارے ملکی آقائوں نے ملک کے تعلیمی مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کیا تھا اس کی نظیر پوری ملکی تاریخ میں نہیں ملتی۔ بے تحاشہ چھٹیاں کی گئیں۔ سمجھ لیا گیا کہ کرونا صرف سکولوں میں حملہ آور ہوتا ہے۔ گلیوں اور بازاروں میں یہ وائرس داخل نہیں ہوتا۔ خدا خدا کر کے سکول کھلے تو آدھے طلبہ ایکدن اور باقی نصف دوسرے دن تعلیمی اداروں میںآئیں۔ آدھا تیتر آدھا بٹیر بنا دیا گیا۔ اس سے بڑی زیادتی کیا ہو سکتی ہے کہ بورڈز کے امتحانات میں بغیر امتحانات طلبہ کو پاس کر دیا گیا۔ اس طرح پاس ہونے والے یہ طلبہ جب یونیورسٹیوں سے آئندہ سال ڈاکٹرز اور انجنیئرز بن کر نکلیں گے تو کیا پرفارم کریں گے؟۔ کبھی کسی نے اس طرف سوچا نہ غور کیا۔
دیکھا جائے تو ہمارا نظامِ تعلیم انتہائی ناقص ہے۔ یہ نظام اکیسویں صدی کے تقاضوں سے بہت دور ہے۔ ہماری یونیورسٹیاں دیکھیں تو ایشین رینکنگ میں بھی بہت پیچھے کھڑی ہیں، عالمی رینکنگ کی تو بات ہی نہ کریں۔ مگر قوم کی حالت یہ ہے کہ گرمی کی شدت ہمیں کام نہیں کرنے دیتی، سردی میں کام کر کے ہم بیمار ہو جاتے ہیں، خوشگوار موسم ہو تو کام پر پکنک منانے کو ترجیح دیتے ہیں۔
لارڈ میکالے نے برصغیر والوں کے لیے گرمی اور سردی کی چھٹیاں تجویز کی تھیں ہم بغیر سوچے سمجھے آزادی کے بعد بھی اس کی بنائی ہوئی ڈگر پر رواں دواں ہیں۔ وہ کب چاہتا تھا کہ برصغیر کے لوگ تعلیمی لحاظ سے ترقی کریں، ہمارے پالیسی ساز اور حکمران بھی نہیں چاہتے کہ ملک تعلیمی لحاظ سے بلندیوں کی طرف جائے۔ انگریزوں کو بس اتنے پڑھے لکھے لوگ چاہییں تھے جو ان کے دفتروں میں کلرک اور چپراسی بھرتی ہو سکیں۔ ہمارے سیاستدانوں کو بھی بس اتنے تعلیم یافتہ لوگ ہی چاہییں جو اپنے حقوق کے معاملے میں بے بہرہ اور اندھے ہوں، سوشل میڈیا پر لیڈروں کی جے جے کار کریں اور ان کی خواہشات کی تکمیل کا ایندھن بن سکیں۔ نتیجہ دیکھ لیں۔ ہم نے بے کار نوجوانوں کی فوج ظفر موج تیار کر کے کھڑی کر دی ہے جو ملکی ترقی میں حصہ لینے کی بجائے ملکی معیشت پر بھاری بوجھ ہیں۔ یہ پڑھے لکھے بے ہنر لوگ تین میں ہیں نہ تیرہ میں۔ غلط پالیسیوں نے ان کا مستقبل تاریک کر دیا ہے۔
چاہیے تو یہ تھا کہ معاشی بحران سے نمٹنے اور ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے ہم ملک میں تعلیمی ایمرجنسی نافذ کرتے، پیشہ ورانہ مہارتوں کی تعلیم پر زور دیتے۔ مگر ہم ابھی تک لارڈ میکالے کے دامن سے لپٹے ہوئے ہیں۔ اس نے اگر برِ صغیر کے باشندوں کو انگریزوں کی نسبت نصف ذہانت کا مالک کہا تھا تو ہم نے عملی طور پر اس بات کو سچ ثابت کیا ہے۔ ہم نے اپنے پاسنگ مارکس اب بھی 33 فیصد رکھے ہوئے ہیں۔
کیا خوب صورت لطیفہ ہے کہ پنجاب سمیت ملک بھر میں موسم خوشگوار ہے۔روزانہ آسمان پر گہرے بادلوں کا راج ہوتا ہے۔ بارش برستی ہے۔ ٹھنڈی ہوا?یں چلتی ہیں۔ رات کو سردی لگتی ہے اور ہم نے سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں موسمِ گرما کی تعطیلات کر دی ہیں۔ جیسے یہ ٹائم آسمان سے صحیفے کی صورت میں نازل ہوا ہے جو آگے پیچھے نہیں ہو سکتا۔ طرفہ تماشہ یہ ہے کہ سکولوں میں سمر کیمپ لگانے سے بھی سختی سے منع کر دیا گیا ہے۔ کوئی طالب علم ننھیال ددھیال میں جائے۔ سیر سپاٹے کرے تو کوئی مسئلہ نہیں لیکن خبردار! کسی تعلیمی ادارے میں داخل نہ ہونے پائے۔ یہ ہے ہماری تعلیم دوستی اور ملک کی تعلیمی پالیسی۔ خدارا! جان چھڑوائیں چھٹیوں سے۔ شدید گرمی کے موسم میں بھی صبح 6 سے 10 بجے تک بڑے آرام و سکون سے تعلیمی ادارے کھولے جا سکتے ہیں۔ ضرورت صرف ذہنی غلامی سے نکل کر دردِ دل کے ساتھ آزاد سوچ اپنانے کی ہے۔
ذرا سوچ ئے!
کیا واقعی ہم زندہ و پائندہ قوم ہیں۔؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Diyarbakır koltuk yıkama hindi sex